کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
❮
❯
قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: هُوَ إِظْهَارُ منْ أَظْهَرَ مِنْهُمْ نَفْيَ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي قَدْ وَرَدَ الْكِتَابُ بِهَا، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ الْمُسْتَفِيضَةُ مَعَ إِجْمَاعِ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى إِثْبَاتِهَا، نَحْوَ الْكَلَامِ وَالْقُدْرَةِ وَالْعِلْمِ وَالْمَشِيئَةِ، وَأَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا لِلَّهِ تَعَالَى مَخْلُوقَةٌ، فَقَدْ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ بِتَكْفِيرِ مُنْكِرِيهَا، وَتَبَرَّأَ سَلَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ مَذْهَبِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا: ”اس سے مراد ان میں سے اس شخص کا (علانیہ) اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کا اظہار کرے جن کے بارے میں کتاب اللہ وارد ہوئی ہے، اور سنت مستفیضہ نے اس امت کے سلف کے اجماع کے ساتھ مل کر ان کے اثبات پر دلالت کی ہے، جیسے کلام، قدرت، علم اور مشیت، اور (اسی طرح اس بات کا انکار) کہ تمام افعال اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کیونکہ ان کے منکرین کی تکفیر کے بارے میں روایات آئی ہیں، اور اس امت کے سلف نے ان امور میں اہل اہواء (بدعتیوں) کے مذہب سے براءت کا اظہار کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20869
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَالَّذِي رُوِيَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُذَيْفَةَ فِي تَكْفِيرِ الْقَدَرِيَّةِ نَصًّا مَوْجُودٌ دَلَالَةٌ ظَاهِرَةٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيْمَانِ، مَعَ تَبَرِّي ابْنِ عُمَرَ مِمَّنْ نَفَى الْقَدَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قدریہ (یعنی تقدیر کے منکر) ہیں، نہ ان کی تیمارداری کرو اور نہ ہی ان کے جنازے میں شامل ہو۔ یہ دجال کا گروہ ہے، اللہ کے ذمہ ہے کہ ان کو ان کے ساتھ ملا دے۔“
سیدنا ابن عمر اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے قدریہ کی تکفیر کے بارے میں جو صراحتاً منقول ہے، اس پر واضح دلالت اس ثابت حدیث میں موجود ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے ایمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں، نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تقدیر کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20870
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ فِي الْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ، يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، إِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ، مَا قَبِلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ ⦗٣٤٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ أَنَ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ: عَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ؟ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ "، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، فَقَالَ: " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ "، قَالَ: فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ "، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا قَالَ: " أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ "، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ مَا تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ "؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ حج کو چلے۔ جب ہم آئے تو ہم نے کہا: ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بارے میں سوال کریں گے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں پا لیا تو ہم نے ان کو دائیں اور بائیں سے گھیر لیا، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے کلام کے لیے میرا انتخاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور علم کو جانتے ہیں اور تقدیر کے منکر ہیں اور (کہتے ہیں کہ) معاملہ نیا ہے (یعنی پہلے سے مقدر نہیں)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم ان سے ملو تو کہہ دینا: میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم کھا کر فرمایا: ”اگر ایسے لوگ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کریں تو اللہ ان سے قبول نہ فرمائیں گے، یہاں تک کہ وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سفید کپڑوں والا، سخت سیاہ بالوں والا، اس پر سفر کے نشانات بھی نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیاں نبی ﷺ کی رانوں پر رکھ دیں، پھر کہا: اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں خبر دو، اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔“ اس آدمی نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تعجب کیا کہ خود سوال کرتا ہے پھر تصدیق بھی خود کرتا ہے، پھر اس نے کہا: اے محمد ﷺ! مجھے ایمان کے بارے میں خبر دو، ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ پھر اس نے کہا: احسان کے بارے میں مجھے خبر دو۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنا گویا آپ اس کو دیکھ رہے ہو، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً آپ کو دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بیان کرو۔ فرمایا: ”جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: اس کی علامات کے بارے میں بتاؤ۔ فرمایا: ”لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی اور آپ دیکھیں گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر، بکریوں کے چرواہے وہ عمارتوں کے بنانے میں فخر کریں گے۔“ پھر وہ چلا گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین دن تک ٹھہرا رہا۔ پھر مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! جانتے ہو سائل کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ جانتے ہیں۔ فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20871
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَوَاهِدُهُ كَثِيرَةٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَأَبِي ذَرٍّ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20872
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قدریہ کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ تم ان سے فیصلہ جات کراؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20873
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ خِفْتُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِي وَأَمْرِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ ⦗٣٤٤⦘ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَإِنَّكَ إِذَا مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: قَصَّ الْقِصَّةَ كُلَّهَا كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنِّي اخْتَصَرْتُهُ، وَقَالَ لِي: لَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَسَأَلْتُهُ، وَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّهُ إِنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلَ النَّارَ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ. وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں شک سا پیدا ہوا تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور میں نے کہا: اے ابو منذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (وسوسہ) واقع ہوا، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا دین برباد نہ ہو جائے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہیں ہے، اور اگر وہ رحمت کرے تو اس کی رحمت سب سے زیادہ وسیع ہے، اگر آپ کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اس کو خرچ کر دیں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور آپ جان لیں کہ جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر رہے گا اور جو نہیں ملنا وہ آپ کو نہیں مل سکے گا۔ اگر آپ تقدیر کے عقیدے کے بغیر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے اور جب میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئیں تو ان سے سوال کر لینا۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20874
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنِيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: رَبِّ، وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "، يَا بُنِيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: اے میرے بیٹے! آپ ایمان کے ذائقے کو نہیں پا سکتے، یہاں تک کہ جو چیز آپ کو پہنچنے والی ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گی اور جو نہیں پہنچنی وہ کبھی نہ پہنچ سکے گی؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ فرمایا: قیامت تک ہر چیز کی تقدیر لکھ دو۔“
اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20875
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 22197»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ، قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحجاج ازدی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تو جان لے کہ جو تجھے پہنچنے والا ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو تجھے نہیں پہنچنا وہ کبھی نہ ملے گا۔ [ضعیف]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20876
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ ⦗٣٤٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ فَقَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا: اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا۔ [ضعیف]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20877
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو بندہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20878
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِرَجُلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَذَا يُكَلِّمُكَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: " أَدْنِهِ مِنِّي "، فَقُلْتُ: هُوَ ذَا، تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَهُ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَدْنَيْتَهُ مِنِّي لَوَضَعْتُ يَدِي فِي عُنُقِهِ، فَلَمْ يُفَارِقْنِي حَتَّى أَدُقَّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی کو لے کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: یہ تقدیر کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہے، فرمانے لگے: اس کو میرے قریب کر دو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فرمانے لگے: اگر آپ اس کو میرے قریب کر دیتے تو میں اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھ دیتا اور اس وقت تک جدا نہ کرتا جب تک اس کو کچل نہ دیتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20879
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَنْزِعُ فِي زَمْزَمَ قَدِ ابْتَلَّتْ أَسَافِلُ ثِيَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ تُكُلِّمَ فِي الْقَدَرِ، فَقَالَ: " أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِلَّا فِيهِمْ: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] أُولَئِكَ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَى مَوْتَاهُمْ، إِنْ أَرَيْتَنِي أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَأْتُ عَيْنَيْهِ بِأُصْبُعِيَّ هَاتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ آبِ زمزم نکال رہے تھے۔ ان کے کپڑوں کے نیچے والا حصہ تر ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: تقدیر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ فرمانے لگے: کیا؟ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ۝ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [سورة القمر: 48-49] یہ اس امت کے بدترین لوگ ہیں۔ ان کے بیماروں کی تیمار داری نہ کرو، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو، اگر ان میں سے میں کسی کو دیکھ لیتا تو اپنی انگلیوں کے ساتھ ان کی آنکھیں نکال دیتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20880
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلِيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اہل شام کا رہنے والا ایک دوست تھا جو ان کو خط وغیرہ لکھتا تھا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے تقدیر کے بارے میں باتیں کی ہیں، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اندر ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔““
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20881
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ⦗٣٤٦⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ طَاوُسٌ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ " أَوِ: " الْكَيْسُ وَالْعَجْزُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ ہے، حتی کہ عاجزی اور دانائی بھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20882
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2655»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " مَا رَأْيُكَ فِي هَؤُلَاءِ الْقَدَرِيَّةِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: أَرَى أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ، فَإِنْ قَبِلُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَى السَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " ذَلِكَ رَأْيِي "، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَيْضًا رَأْيِي..
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا ابوسہیل بن مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ چل رہا تھا، فرمانے لگے: ”قدریہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے: ”میں ان سے توبہ طلب کروں گا، اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک وگرنہ میں ان کو تلوار پر پیش کروں گا“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: ”میری بھی یہی رائے ہے“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20883
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1665»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو سُهَيْلٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ: " مَا تَرَى فِي الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ؟ "، قَالَ: أَرَى أَنْ يُسْتَتَابُوا، فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا ضَرَبْتَ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: " ذَاكَ الرَّأْيُ فِيهِمْ، لَوْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْوَاحِدَةُ كَفَى بِهَا {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: ١٦٢] ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سہیل نافع بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ”قدریہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ فرمایا: ”ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، اگر توبہ کر لیں تو ٹھیک وگرنہ ان کو قتل کر دیا جائے۔“ عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے تھی۔ یہ ایک آیت ہی کافی ہے: ﴿فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ * مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 161-163] ”سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے۔““
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20884
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَمَّاطُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الْقَدَرِيَّةِ، فَقَالَ: " لَا تُجَالِسُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم بن سلیمان کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، ان سے قدریہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہنے لگے: ان کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20885
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ الْقَاضِي بِمَرْوَ قَالَ: سُئِلَ أَبِي - وَأَنَا أَسْمَعُ - عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ، وَعِلْمُهُ، وَوَحْيُهُ، لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ ". وَلَقَدْ ذَكَرَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً يَقُولُونَ: اللهُ الْخَالِقُ، وَمَا سِوَاهُ مَخْلُوقٌ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ أَبِي: " وَقَدْ أَدْرَكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَجِلَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَدْرِيِّينَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مِثْلَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَجَلَّةِ التَّابِعِينَ، وَعَلَى هَذَا مَضَى صَدْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن محمد بن اسحاق بن راہویہ، جو مرو کے قاضی ہیں، فرماتے ہیں کہ میرے والد سے سوال کیا گیا (اور) میں قرآن (کے متعلق) سن رہا تھا، انہوں نے کہا: ”قرآن اللہ کا کلام ہے، یہ اس کی وحی اور اس کا علم ہے، مخلوق نہیں ہے۔“ سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیوخ کو ستر سال تک پایا، وہ یہی کہتے تھے۔
(ب) سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو ستر سال تک پایا، وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20886
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٣٤٧⦘ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: هُوَ بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقَسْرِيَّ وَقَدْ خَطَبَهُمْ فِي يَوْمِ أَضْحَى بِوَاسِطَ، فَقَالَ: " ارْجِعُوا أَيُّهَا النَّاسُ فَضَحُّوا، تَقَبَّلَ اللهُ مِنْكُمْ، فَإِنِّي مُضَحٍّ بِالْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ، فَإِنَّهُ زَعَمَ أَنَّ اللهَ لَمْ يَتَّخِذْ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَمْ يُكَلِّمْ مُوسَى تَكْلِيمًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُ الْجَعْدُ بْنُ دِرْهَمٍ "، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَذَبَحَهُ، قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: وَكَانَ الْجَهْمُ أَخَذَ هَذَا الْكَلَامَ مِنَ الْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن محمد بن حبیب بن ابی حبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں خالد بن عبداللہ قسری کے پاس آیا، انہوں نے واسط شہر میں عید الاضحی کا خطبہ ارشاد فرمایا، کہنے لگے: لوگو! جاؤ قربانی کرو، اللہ تمہاری قربانی قبول فرمائے، میں تو جعد بن درہم کی قربانی کروں گا، اس کا خیال ہے کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست نہیں بنایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں ہوا۔ وہ (اللہ) پاک اور بلند ہے اس بات سے جو جعد بن درہم کہتا ہے۔ پھر منبر سے اتر کر اس کو ذبح کر ڈالا۔ ابو رجاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جعد بن درہم سے جہم نے یہ کلام لیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20887
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا حَسْنُونٌ الْبِنَاءُ الْكُوفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْقُرْآنِ فَقَالَ: " كَلَامُ اللهِ "، قُلْتُ: فَمَخْلُوقٌ؟ قَالَ: " لَا "، قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِيمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مَخْلُوقٌ؟ قَالَ: " يُقْتَلُ وَلَا يُسْتَتَابُ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے قرآن کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے: یہ اللہ کا کلام ہے، میں نے کہا: کیا یہ مخلوق ہے؟ فرمایا: نہیں، میں نے کہا: جو اسے مخلوق کہتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اسے قتل کیا جائے اور توبہ کا مطالبہ بھی نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20888
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَقُولُ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ؟ قَالَ: " عِنْدِي كَافِرٌ، فَاقْتُلُوهُ "، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ: فَسَأَلْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، وَابْنَ لَهِيعَةَ عَمَّنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ؟ فَقَالَا: " كَافِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن خلف مقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس تھا، ایک آدمی آیا، اس نے کہا: جو قرآن کو مخلوق کہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک وہ کافر ہے، اسے قتل کر دو۔
(ب) یحییٰ بن خلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد اور ابن لہیعہ رحمہما اللہ سے سوال کیا: جو قرآن کو مخلوق کہتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: وہ کافر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20889
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ مُوسَى الْجُرْجَانِيَّ، بِنَيْسَابُورَ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، وَحَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، وَسُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، وَالْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ، وَشَرِيكَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَيَحْيَى بْنَ سُلَيْمٍ، وَمُسْلِمَ بْنَ خَالِدٍ، وَهِشَامَ بْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيَّ، وَجَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَعَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ إِدْرِيسَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، وَوَكِيعًا، وَمُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، وَعَبْدَ الرَّحِيمِ بْنَ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيَّ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ، وَحَاتِمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ، وَجَمِيعَ مَنْ حَمَلْتُ عَنْهُمُ الْعِلْمَ يَقُولُونَ: " الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ مِنْ صِفَةِ ذَاتِهِ، غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّهُ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ بِاللهِ الْعَظِيمِ ". وَرُوِّينَاهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ، وَمُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَأَبِي عُبَيْدٍ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَّامٍ ⦗٣٤٨⦘ وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالک بن انس، حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، فضیل بن عیاض، شریک بن عبداللہ، یحییٰ بن سلیم، مسلم بن خالد، ہشام بن سلیمان مخزومی، جریر بن عبدالحمید، علی بن مسہر، عبدہ، عبداللہ بن ادریس، حفص بن غیاث، وکیع، محمد بن فضیل، عبدالرحیم بن سلیمان، عبدالعزیز بن ابی حازم، دراوردی، اسماعیل بن جعفر، حاتم بن اسماعیل اور عبداللہ بن یزید مقری رحمہم اللہ اور ان تمام لوگوں سے جن سے میں نے علم حاصل کیا، سنا، وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، اس میں اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے اور قرآن اللہ کا کلام ہے؛ یہ اس کی صفت ہے، مخلوق نہیں ہے اور جس نے کہا کہ وہ مخلوق ہے، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20890
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَشْكِيبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا يُوسُفَ، بِخُرَاسَانَ يَقُولُ: " صِنْفَانِ مَا عَلَى الْأَرْضِ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْهُمَا، الْمُقَاتِلِيَّةُ وَالْجَهْمِيَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو یوسف رحمہ اللہ خراسان میں فرماتے تھے کہ دو قسم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہیں: ۱۔ مقاتلیہ، ۲۔ جہمیہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20891
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَبِيبٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْمَصَاحِفِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ الْحَسَنِ الْفَقِيهَ يَقُولُ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: " لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ الْجَهْمِيَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہمیہ کی شہادت جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20892
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ يَقُولُ: لَمَّا كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ حَفْصٌ الْفَرْدُ، فَقَالَ حَفْصٌ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، قَالَ لَهُ الشَّافِعِيُّ: " كَفَرْتَ بِاللهِ الْعَظِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حفص سے بات کی تو حفص کہنے لگے: ”قرآن مخلوق ہے“، امام شافعی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”تو نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20893
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي حَمَلُ بْنُ عَمْرٍو الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ فُورَكٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ الرَّمْلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لِي: " كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ "، قُلْتُ: فَمَنْ قَالَ بِالْمَخْلُوقِ، فَمَا هُوَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: " كَافِرٌ "، فَقُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ لَقِيتَ مِنْ أُسْتَاذِيكَ قَالُوا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: " مَا لَقِيتُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ: مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن سہل رملی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے قرآن کے بارے میں سوال کیا، کہنے لگے: وہ اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔ پوچھا: جو مخلوق کہے، آپ کے نزدیک اس کا کیا حکم ہے؟ کہنے لگے: وہ کافر ہے، میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے اساتذہ کا کیا خیال ہے؟ فرماتے ہیں: وہ بھی یہی کہتے ہیں، جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں، وہ کافر ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20894
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الشافعي»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أنبأ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ، أَوْ فِيمَا أَجَازَ لِي مُشَافَهَةً، ثنا الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: " لَأَنْ يَلْقَى اللهَ الْعَبْدُ بِكُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلَا الشِّرْكَ بِاللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَهْوَاءِ "، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَجَادَلُونَ فِي الْقَدَرِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ: " فِي كِتَابِ اللهِ الْمَشِيئَةُ لَهُ دُونَ خَلْقِهِ، وَالْمَشِيئَةُ إِرَادَةُ اللهِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} فَأَعْلَمَ خَلْقَهُ أَنَّ الْمَشِيئَةَ لَهُ، وَكَانَ يُثْبِتُ الْقَدَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: بندہ شرک کے سوا ہر گناہ کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ان اہواء (بدعات) میں سے کسی چیز کے ساتھ اس سے ملے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنے سامنے تقدیر کے بارے میں جھگڑتے دیکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب اللہ میں مشیت اللہ کی ہے نہ کہ اس کی مخلوق کی۔ اللہ کی مشیت سے مراد اللہ کا ارادہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الإنسان: 30] ”اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“ پس اللہ نے اپنی مخلوق کو بتا دیا کہ مشیت اسی کی ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ تقدیر کو ثابت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للشافعي»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ الشَّافِعِيُّ عَنِ الْقَدَرِ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ ⦗٣٤٩⦘:.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:
وہی ہوتا ہے جو تو چاہتا ہے اگر میں نہ بھی چاہوں

اور جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں ہوتا اگر تو نہ چاہے
تو نے اپنے علم کے مطابق بندوں کو پیدا کیا

اور تیرے علم میں نوجوان اور بوڑھے سب چلتے ہیں
بعض پر تو احسان کرتا ہے اور بعض کو تو ذلیل کرتا ہے

اور بعض کی تو مدد کرتا ہے اور بعض کی مدد نہیں کرتا
ان میں سے بعض بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت ہیں

اور بعض ان میں سے بدصورت ہیں اور بعض خوبصورت ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20896
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للشافعي»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبُوَيْطِيَّ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ} [النحل: ٤٠] فَأَخْبَرَ اللهُ أَنَّهُ يَخْلُقُ الْخَلْقَ بِكُنْ، فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ كُنْ مَخْلُوقٌ، فَقَدْ زَعَمَ أَنَّ اللهَ يَخْلُقُ الْخَلْقَ بِخَلْقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بویطی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ جس نے قرآن کو مخلوق کہا، وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾ [سورة النحل: 40] ”جب ہم کسی چیز کے بارے میں کہتے ہیں: ہوجا، وہ ہوجاتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنی مخلوق کو لفظِ «كُنْ» ”ہوجا“ سے پیدا کرتا ہے، تو جس نے یہ گمان کیا کہ لفظ «كُنْ» مخلوق ہے، اس نے گویا یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو (کسی دوسری) مخلوق کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20897
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للبيوطي»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا مُحَمَّدٍ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: " الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مزنی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20898
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للمزني»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُوسَى الْمَرْوَرُوذِيَّ، سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيِّ بِمِصْرَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَكُنَّا نَجْتَمِعُ عِنْدَهُ بِاللَّيْلِ، فَنُلْقِي الْمَسْأَلَةَ فِيمَا بَيْنَنَا، وَيَقُومُ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا سَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ قِيلَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، بِمَاذَا تُجِيبُونَهُمْ؟ وَيَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ، فَقُمْنَا لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَتَقَدَّمْتُ أَنَا وَأَصْحَابٌ لَنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَقَدْ نَشَأَ عِنْدَنَا قَوْمٌ يَقُولُونَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، وَلَسْنَا مِمَّنْ يَخُوضُ فِي الْكَلَامِ، وَلَا نَسْتَفْتِيكَ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ إِلَّا لِدِينِنَا، وَلِمَنْ عِنْدَنَا، لِنُخْبِرَهُمْ عَنْكَ بِمَا تُجِيبُنَا فِيهِ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَهَذَا مَذْهَبُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ فِي هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ الَّذِينَ حُرِمُوا التَّوْفِيقَ، وَتَرَكُوا ظَاهِرَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بِآرَائِهِمُ الْمُزَخْرَفَةِ، وَتَأْوِيلَاتِهِمُ الْمُسْتَنْكَرَةِ، وَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ عُمَرَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيَّ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ زَاهِرَ بْنَ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيَّ يَقُولُ: لَمَّا قَرُبَ حَضُورُ أَجَلِ أَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي دَارِي بِبَغْدَادَ دَعَانِي فَقَالَ: " اشْهَدْ عَلَيَّ أَنِّي لَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ، لِأَنَّ الْكَلَّ يُشِيرُونَ إِلَى مَعْبُودٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّمَا هَذَا اخْتِلَافُ الْعِبَارَاتِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ هَذَا أَيْضًا مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، أَلَا تَرَاهُ قَالَ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي: " ذَهَبَ النَّاسُ مَنْ تَأَوَّلَ الْقُرْآنَ وَالْأَحَادِيثَ ⦗٣٥٠⦘ وَالْقِيَاسَ، أَوْ مَنْ ذَهَبَ مِنْهُمْ إِلَى أُمُورٍ اخْتَلَفُوا فِيهَا فَتَبَايَنُوا فِيهَا تَبَايُنًا شَدِيدًا، وَاسْتَحَلَّ فِيهَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بَعْضَ مَا تَطُولُ حِكَايَتُهُ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُتَقَادِمٌ مِنْهُ مَا كَانَ فِي عَهْدِ السَّلَفِ وَبَعْدَهُمْ إِلَى الْيَوْمِ، فَلَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنْ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُقْتَدَى بِهِ، وَلَا مِنَ التَّابِعِينَ بَعْدَهُمْ رَدَّ شَهَادَةَ أَحَدٍ بِتَأْوِيلٍ، وَإِنْ خَطَّأَهُ وَضَلَّلَهُ " ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: " وَشَهَادَةُ مَنْ يَرَى الْكَذِبَ شِرْكًا بِاللهِ أَوْ مَعْصِيَةً لَهُ يُوجِبُ عَلَيْهَا النَّارَ، أَوْلَى أَنْ تَطِيبَ النَّفْسُ عَلَيْهَا مِنْ شَهَادَةِ مَنْ يُخَفِّفُ الْمَأْثَمَ فِيهَا، قَالُوا: وَالَّذِي رُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنْ تَكْفِيرِ هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ، فَإِنَّمَا أَرَادُوا بِهِ كُفْرًا دُونَ كُفْرٍ، هُوَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكُفْرٍ يَنْقُلُ عَنْ مِلَّةٍ، وَلَكِنْ كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَكَأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِتَكْفِيرِهِمْ مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ مِنْ نَفْيِ هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتِي أَثْبَتَهَا اللهُ تَعَالَى لِنَفْسِهِ وَجُحُودِهِمْ لَهَا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ، مَعَ اعْتِقَادِهِمْ إِثْبَاتَ مَا أَثْبَتَ اللهُ تَعَالَى، فَعَدَلُوا عَنِ الظَّاهِرِ بِتَأْوِيلٍ، فَلَمْ يَخْرُجُوا بِهِ عَنِ الْمِلَّةِ وَإِنْ كَانَ التَّأْوِيلُ خَطَأً، كَمَا لَمْ يَخْرُجْ مَنْ أَنْكَرَ إِثْبَاتَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الْمَصَاحِفِ كَسَائِرِ السُّوَرِ مِنَ الْمِلَّةِ، لِمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ مِنَ الشُّبْهَةِ، وَإِنْ كَانَتْ عِنْدَ غَيْرِهِ خَطَأً، وَالَّذِي رُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ: " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ "، إِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِمُضَاهَاةِ بَعْضِ مَا يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ مَذَاهِبَ الْمَجُوسِ فِي قَوْلِهِمْ بِالْأَصْلَيْنِ، وَهُمَا النُّورُ وَالظُّلْمَةُ، يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخَيْرَ مِنْ فِعْلِ النُّورِ، وَأَنَّ الشَّرَّ مِنْ فِعْلِ الظُّلْمَةِ، فَصَارُوا ثَنَوِيَّةً، كَذَلِكَ الْقَدَرِيَّةُ يُضِيفُونَ الْخَيْرَ إِلَى اللهِ، وَالشَّرَّ إِلَى غَيْرِهِ، وَاللهُ تَعَالَى خَالِقُ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَالْأَمْرَانِ مَعًا مُنْضَافَانِ إِلَيْهِ خَلْقًا وَإِيجَادًا إِلَى الْفَاعِلِينَ لَهُمَا مِنْ عِبَادِهِ - فِعْلًا وَاكْتِسَابًا. هَذَا قَوْلُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى الْخَيْرِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ فِيمَا:.
حافظ ثناء اللہ
ابو محمد مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یوسف بن موسیٰ مروروذی رحمہ اللہ سے 295ھ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اہل خراسان کی ایک جماعت مصر میں ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ کے پاس تھی اور ہم رات کے وقت ان کے پاس جمع ہوتے اور آپس میں مسائل پر بحث کرتے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، جب سلام پھیرتے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر کہتے: اگر تم سے یہ اور یہ کہا جائے تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر اپنی نماز کی طرف لوٹ جاتے۔ ایک رات ہم اٹھے، میں اور ہمارے کچھ ساتھی ان کے پاس آگے بڑھے، ہم نے کہا: ہم اہل خراسان کے لوگ ہیں، ہمارے ہاں ایک قوم پیدا ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ قرآن مخلوق ہے، ہم علم کلام میں غور و خوض کرنے والوں میں سے نہیں ہیں اور ہم اس مسئلے میں آپ سے صرف اپنے دین کی خاطر اور اپنے ہاں کے لوگوں کی خاطر فتویٰ طلب کرتے ہیں تاکہ جو جواب آپ ہمیں دیں وہ ہم آپ کی طرف سے انہیں بتا دیں۔ فرمایا: قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں، اور جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے وہ کافر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان بدعتیوں کے بارے میں ہمارے ائمہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے جو توفیق سے محروم رہے اور اپنی ملمع کاری والی آراء اور ناپسندیدہ تاویلات کی وجہ سے کتاب و سنت کے ظاہر کو چھوڑ دیا۔ میں نے ابو حازم عمر بن احمد عبدوی حافظ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے زاہر بن احمد سرخسی سے سنا، وہ کہتے ہیں: جب بغداد میں میرے گھر میں ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: مجھ پر گواہ رہنا کہ میں اس قبلہ والوں میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا، کیونکہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ تو صرف تعبیرات کا اختلاف ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اس طرف گیا ہے اس کا خیال ہے کہ یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی مذہب ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کتاب ادب القاضی میں فرمایا: لوگوں میں سے جنہوں نے قرآن، احادیث اور قیاس کی تاویل کی، یا ان میں سے جو ایسے امور کی طرف گئے جن میں انہوں نے اختلاف کیا اور ان میں سخت اختلاف کیا اور ان میں سے بعض نے بعض کی ایسی چیزوں کو حلال سمجھا جن کی حکایت طویل ہے، یہ سب پرانا ہے، اس میں سے کچھ سلف کے زمانے میں تھا اور ان کے بعد سے آج تک ہے، ہم اس امت کے سلف میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس کی اقتدا کی جاتی ہو اور نہ ان کے بعد تابعین میں سے کسی کو جس نے کسی کی گواہی تاویل کی وجہ سے رد کی ہو، اگرچہ اس نے اسے غلط اور گمراہ قرار دیا ہو۔ پھر کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: جو شخص جھوٹ کو اللہ کے ساتھ شرک یا ایسی نافرمانی سمجھتا ہے جس پر جہنم واجب ہوتی ہے، اس کی گواہی پر دل کا مطمئن ہونا اس شخص کی گواہی سے زیادہ بہتر ہے جو اس کے گناہ کو ہلکا سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا: امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ سے ان بدعتیوں کی تکفیر کے بارے میں جو ہم نے روایت کیا ہے، اس سے ان کی مراد کفر دون کفر (کفر سے کم درجے کا کفر) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] ”اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جاتے ہو، یہ ایسا کفر نہیں جو ملت سے خارج کر دے بلکہ کفر دون کفر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ان کی تکفیر سے ان کی مراد ان کا ان صفات کی نفی کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور دور کی تاویل کے ذریعے ان کا انکار کرنا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ثابت کردہ کو ثابت ماننے کا عقیدہ رکھتے ہیں، چنانچہ وہ تاویل کے ذریعے ظاہر سے ہٹ گئے، تو وہ اس کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوئے اگرچہ تاویل غلط تھی، جیسا کہ جس نے مصاحف میں معوذتین کو باقی سورتوں کی طرح ثابت ماننے کا انکار کیا وہ اپنے شبہ کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوا، اگرچہ دوسروں کے نزدیک یہ غلطی تھی۔ اور نبی ﷺ سے جو ہم نے آپ ﷺ کا یہ فرمان روایت کیا ہے: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“، تو آپ ﷺ نے انہیں مجوسی صرف اس لیے کہا کہ ان کے بعض عقائد دو اصلوں یعنی نور اور ظلمت کے بارے میں مجوس کے عقائد سے مشابہت رکھتے ہیں، مجوس کا گمان ہے کہ خیر نور کا فعل ہے اور شر ظلمت کا فعل ہے، تو وہ ثنویہ (دو اصل ماننے والے) بن گئے، اسی طرح قدریہ خیر کو اللہ کی طرف اور شر کو اس کے غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور دونوں امور پیدا کرنے اور وجود دینے کے اعتبار سے اسی کی طرف منسوب ہیں اور کرنے اور کمانے کے اعتبار سے اس کے ان بندوں کی طرف منسوب ہیں جو انہیں کرتے ہیں۔ یہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا اس روایت پر قول ہے۔
ابو بکر احمد بن اسحاق صبغی نے فرمایا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے:
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، عَنْهُ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْقَدَرِيَّةَ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنَّ الْمَجُوسَ قَالَتْ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ هَذِهِ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ النُّورَ وَلَمْ يَخْلُقِ الظُّلْمَةَ، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَلَمْ يَخْلُقْ صَوْتَ الْمَقْدَحِ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْجَهْلَ وَالنِّسْيَانَ، وَقَالَ الْقَدَرِيَّةُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْحِفْظَ وَالْعِلْمَ وَالْعَمَلَ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَا يُضِلُّ أَحَدًا، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ مِثْلَهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ} [الرعد: ٢٧]، وَقَالَ: {يُرِيدُ أَنْ⦗٣٥١⦘ يُغْوِيَكُمْ} [هود: ٣٤]، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِهَذِهِ الْمَعَانِي أَوْ بَعْضِهَا، وَأَضَافَهُمْ مَعَ ذَلِكَ إِلَى الْأُمَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبداللہ حافظ رحمہ اللہ نے ان (ابو بکر صبغی) سے اس بات کی دلیل میں نقل کیا کہ ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“: مجوسی کہتے ہیں کہ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے نور کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اندھیرے کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں: بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے بادل کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن چقماق کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ مجوس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہالت اور بھول جانے کو پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنا، علم اور عمل کو پیدا نہیں کیا۔ مجوسی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا اور قدریہ بھی یہی کہتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 27] ”وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔“ اور ﴿يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ﴾ [سورة هود: 34] ”وہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہیں گمراہ کرے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے انہیں انہی معانی یا ان میں سے بعض کی وجہ سے مجوسی کہا اور اس کے ساتھ انہیں امت کی طرف منسوب بھی فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20900
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ". قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ قَوْلُهُ: " سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً " فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْفِرَقَ كُلَّهَا غَيْرُ خَارِجِينَ مِنَ الدِّينِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهُمْ كُلَّهُمْ مِنْ أُمَّتِهِ، وَفِيهِ أَنَّ الْمُتَأَوِّلَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْمِلَّةِ وَإِنْ أَخْطَأَ فِي تَأْوِيلِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا عَلَى الْإِطْلَاقِ بِتَأْوِيلٍ لَمْ يَخْرُجْ بِتَكْفِيرِهِ إِيَّاهُ بِالتَّأْوِيلِ عَنِ الْمِلَّةِ، فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي خَرَجَ مِنْ صَلَاةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَقَالَ: " مُنَافِقٌ "، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزِدْ مُعَاذًا عَلَى: أَنْ أَمَرَهُ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَقَالَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ "؟ لِتَطْوِيلِهِ الصَّلَاةَ " وَرُوِّينَا فِي قِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ حَيْثُ كَتَبَ إِلَى قُرَيْشٍ بِمَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ عَامَ الْفَتْحِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا " وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْمِيَتَهُ بِذَلِكَ، إِذْ كَانَ مَا فَعَلَ عَلَامَةً ظَاهِرَةً عَلَى النِّفَاقِ، وَإِنَّمَا يَكْفُرُ مَنْ كَفَّرَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر (71 یا 72) فرقوں میں بٹ گئے اور عیسائی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔“
ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ قول کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، مراد یہ ہے کہ یہ تمام فرقے دین سے خارج نہ ہوں گے بلکہ وہ آپ ﷺ کی امت میں شمار کیے جائیں گے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ تاویل کرنے والا ملت سے خارج نہیں ہوتا اگرچہ وہ اپنی تاویل میں غلطی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی مسلمان کو مطلق طور پر کافر کہا تو اس کے کافر کہنے کی وجہ سے وہ دین سے نہ نکل جائے گا جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی نماز سے نکل گیا تو انہوں نے اس کو منافق کہہ دیا، جب نبی ﷺ کو پتا چلا تو آپ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز کی تخفیف کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا آپ فتنہ ڈالنے والے ہیں؟“ یعنی زیادہ لمبی نماز نہ پڑھا کرو۔
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے جب قریشیوں کو نبی ﷺ کے حملے کی خبر دینے کی کوشش کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اتار دوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا تھا۔“ نبی ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس کو منافق کہنے پر تکفیر نہیں فرمائی کیونکہ یہ نفاق پر ایک ظاہری علامت تھی اور کافر وہ ہوتا ہے جس نے کسی مسلمان کی بغیر تاویل کے تکفیر کر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20901
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ: كَافِرٌ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ⦗٣٥٢⦘ فَعَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ شَهَادَةُ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ إِذَا كَانَ لَهُمْ تَأْوِيلٌ تَكُونُ مَاضِيَةً.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس بندے نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو کلمہ دونوں میں سے ایک کی جانب لوٹے گا۔“
اس طریقے کے مطابق اہل اہواء کی گواہی، جب ان کے پاس کوئی تاویل ہو، نافذ ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: " يُكْتَبُ الْعِلْمُ عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ، وَتَجُوزُ شَهَادَاتُهُمْ مَا لَمْ يَدْعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا دَعَوْا إِلَيْهِ لَمْ يُكْتَبْ عَنْهُمْ، وَلَمْ تَجُزْ شَهَادَاتُهُمْ "، يُرِيدُ بِكَتَبَةِ الْعِلْمِ: الْأَخْبَارَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل ہواء سے علم لیا جائے گا اور ان کی گواہی جائز ہے، جب تک وہ لوگوں کو اپنے عقیدے کی جانب دعوت نہ دیں، جب وہ اپنے عقیدے کی طرف دعوت دیں تو ان سے احادیث نہ لکھی جائیں اور نہ ہی ان کی گواہی جائز ہے۔
علم لکھنے سے ان کی مراد اخبار (روایات) ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20903
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِيمَا أَجَازَ لِي رِوَايَتَهُ عَنْهُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي: " إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ مَنْ يُعْرَفُ بِاسْتِحْلَالِ شَهَادَةِ الزُّورِ عَلَى الرَّجُلِ، لِأَنَّهُ يَرَاهُ حَلَالَ الدَّمِ، أَوْ حَلَالَ الْمَالِ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يَسْتَحِلُّ أَوْ يَرَى الشَّهَادَةَ لِلرَّجُلِ إِذَا وَثِقَ بِهِ، فَيَحْلِفُ لَهُ عَلَى حَقِّهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ بِالْبَتِّ بِهِ، وَلَمْ يَحْضُرْهُ وَلَمْ يَسْمَعْهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ قِبَلِ اسْتِحْلَالِهِ الشَّهَادَةَ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يُبَايِنُ الرَّجُلَ الْمُخَالِفَ لَهُ مُبَايَنَةَ الْعَدَاوَةِ لَهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ جِهَةِ الْعَدَاوَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کسی آدمی کے خلاف جھوٹی گواہی کو جائز سمجھے یا کسی کے خون بہانے کو یا مال ہڑپ کرنے کو جائز خیال کرتا ہے تو اس کی گواہی کو رد کر دیا جائے گا اور ایسا آدمی جو کسی کے حق میں قسم اٹھا کر گواہی دیتا ہے حالانکہ وہ اس موقع پر موجود بھی نہ تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں اس نے سن رکھا تھا تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا یا وہ آدمی دشمنی کی بنا پر کسی کے خلاف گواہی دیتا ہے تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20904
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا تُرَابٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْذِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " لَمْ أَرَ أَحَدًا أَشْهَدَ بِالزُّورِ مِنَ الرَّافِضَةِ ". كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ حَرْمَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20905
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، بِالدَّامِغَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " أُجِيزُ شَهَادَةَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ كُلِّهِمْ إِلَّا الرَّافِضَةَ، فَإِنَّهُ يَشْهَدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَذَلِكَ مَنْ عُرِفَ مِنْهُمْ بِسَبِّ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ هُمْ سُرُجُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَصَدْرُهَا لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ مَتَى مَا كَانَ سَبُّهُ إِيَّاهُمْ عَلَى وَجْهِ الْعَصَبِيَّةِ، أَوِ الْجَهَالَةِ لَا عَلَى تَأْوِيلٍ أَوْ شُبْهَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یونس بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہلِ اہواء کی شہادت جائز ہے، لیکن رافضہ کی شہادت جائز نہیں، کیونکہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح ان میں سے جو صحابہ کو گالی دینے میں معروف ہو، جو اس امت کے چراغ اور اس کے صدر اول ہیں، اس کی شہادت قبول نہ کی جائے گی، جب اس کا انہیں گالی دینا عصبیت یا جہالت کی بنا پر ہو، کسی تاویل یا شبہ کی بنا پر نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20906
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ ⦗٣٥٣⦘ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو گالی نہ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو اور صحابی ایک مد یا نصف مد خرچ کرے تو تم اس کے ثواب کو نہ پا سکو گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
…