السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: هُوَ إِظْهَارُ منْ أَظْهَرَ مِنْهُمْ نَفْيَ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي قَدْ وَرَدَ الْكِتَابُ بِهَا، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ الْمُسْتَفِيضَةُ مَعَ إِجْمَاعِ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى إِثْبَاتِهَا، نَحْوَ الْكَلَامِ وَالْقُدْرَةِ وَالْعِلْمِ وَالْمَشِيئَةِ، وَأَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا لِلَّهِ تَعَالَى مَخْلُوقَةٌ، فَقَدْ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ بِتَكْفِيرِ مُنْكِرِيهَا، وَتَبَرَّأَ سَلَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ مَذْهَبِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِيهَا.ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا: ”اس سے مراد ان میں سے اس شخص کا (علانیہ) اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کا اظہار کرے جن کے بارے میں کتاب اللہ وارد ہوئی ہے، اور سنت مستفیضہ نے اس امت کے سلف کے اجماع کے ساتھ مل کر ان کے اثبات پر دلالت کی ہے، جیسے کلام، قدرت، علم اور مشیت، اور (اسی طرح اس بات کا انکار) کہ تمام افعال اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کیونکہ ان کے منکرین کی تکفیر کے بارے میں روایات آئی ہیں، اور اس امت کے سلف نے ان امور میں اہل اہواء (بدعتیوں) کے مذہب سے براءت کا اظہار کیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ هَكَذَا.ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔“