السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلِيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ".حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اہل شام کا رہنے والا ایک دوست تھا جو ان کو خط وغیرہ لکھتا تھا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے تقدیر کے بارے میں باتیں کی ہیں، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اندر ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔““