السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20887
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٣٤٧⦘ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: هُوَ بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقَسْرِيَّ وَقَدْ خَطَبَهُمْ فِي يَوْمِ أَضْحَى بِوَاسِطَ، فَقَالَ: " ارْجِعُوا أَيُّهَا النَّاسُ فَضَحُّوا، تَقَبَّلَ اللهُ مِنْكُمْ، فَإِنِّي مُضَحٍّ بِالْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ، فَإِنَّهُ زَعَمَ أَنَّ اللهَ لَمْ يَتَّخِذْ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَمْ يُكَلِّمْ مُوسَى تَكْلِيمًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُ الْجَعْدُ بْنُ دِرْهَمٍ "، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَذَبَحَهُ، قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: وَكَانَ الْجَهْمُ أَخَذَ هَذَا الْكَلَامَ مِنَ الْجَعْدِ بْنِ دِرْهَمٍ..حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن محمد بن حبیب بن ابی حبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں خالد بن عبداللہ قسری کے پاس آیا، انہوں نے واسط شہر میں عید الاضحی کا خطبہ ارشاد فرمایا، کہنے لگے: لوگو! جاؤ قربانی کرو، اللہ تمہاری قربانی قبول فرمائے، میں تو جعد بن ابراہیم کی قربانی کروں گا، اس کا خیال ہے کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست نہیں بنایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں ہوا۔ پھر منبر سے اتر کر اس کو ذبح کر ڈالا۔ ابو رجاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جعد بن ابراہیم سے جہم نے یہ کلام لیا ہے۔