السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: " يُكْتَبُ الْعِلْمُ عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ، وَتَجُوزُ شَهَادَاتُهُمْ مَا لَمْ يَدْعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا دَعَوْا إِلَيْهِ لَمْ يُكْتَبْ عَنْهُمْ، وَلَمْ تَجُزْ شَهَادَاتُهُمْ "، يُرِيدُ بِكَتَبَةِ الْعِلْمِ: الْأَخْبَارَ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل ہواء سے علم لیا جائے گا اور ان کی گواہی جائز ہے، جب تک وہ لوگوں کو اپنے عقیدے کی جانب دعوت نہ دیں، جب وہ اپنے عقیدے کی طرف دعوت دیں تو ان سے احادیث نہ لکھی جائیں اور نہ ہی ان کی گواہی جائز ہے۔