السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " مَا رَأْيُكَ فِي هَؤُلَاءِ الْقَدَرِيَّةِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: أَرَى أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ، فَإِنْ قَبِلُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَى السَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " ذَلِكَ رَأْيِي "، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَيْضًا رَأْيِي..حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا سہیل بن مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ چل رہا تھا، فرمانے لگے: ”قدریہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے: ”میں ان سے توبہ طلب کروں گا، اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک وگرنہ میں ان کو تلوار پر پیش کروں گا“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: ”میری بھی یہی رائے ہے“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“