السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ فِي الْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ، يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، إِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ، مَا قَبِلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ ⦗٣٤٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ أَنَ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ: عَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ؟ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ "، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، فَقَالَ: " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ "، قَالَ: فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ "، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا قَالَ: " أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ "، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ مَا تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ "؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ "..عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ حج کو چلے۔ جب ہم آئے تو ہم نے کہا: ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بارے میں سوال کریں گے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں پا لیا تو ہم نے ان کو دائیں اور بائیں سے گھیر لیا، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے کلام کے لیے میرا انتخاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور علم کو جانتے ہیں اور تقدیر کے منکر ہیں اور معاملہ مشکل ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم ان سے ملو تو کہہ دینا: میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم کھا کر فرمایا: ”اگر ایسے لوگ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کریں تو اللہ ان سے قبول نہ فرمائیں گے، یہاں تک کہ وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سفید کپڑوں والا، سخت سیاہ بالوں والا، اس پر سفر کے نشانات بھی نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیاں نبی ﷺ کی رانوں پر رکھ دیں، پھر کہا: اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں خبر دو، اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔“ اس آدمی نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تعجب کیا کہ خود سوال کرتا ہے پھر تصدیق بھی خود کرتا ہے، پھر اس نے کہا: اے محمد ﷺ! مجھے ایمان کے بارے میں خبر دو، ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ، فرشتوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ پھر اس نے کہا: احسان کے بارے میں مجھے خبر دو۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہو تو گویا وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بیان کرو۔ فرمایا: ”جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: اس کی علامات کے بارے میں بتاؤ۔ فرمایا: ”لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی اور آپ دیکھیں گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر، بکریوں کے چرواہے وہ عمارتوں کے بنانے میں فخر کریں گے۔“ پھر وہ چلا گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین دن تک ٹھہرا رہا۔ پھر مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! جانتے ہو سائل کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ جانتے ہیں۔ فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“