السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20885
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَمَّاطُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الْقَدَرِيَّةِ، فَقَالَ: " لَا تُجَالِسُوهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
حکم بن سلیمان کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، ان سے قدریہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہنے لگے: ان کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔