السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20894
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي حَمَلُ بْنُ عَمْرٍو الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ فُورَكٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ الرَّمْلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لِي: " كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ "، قُلْتُ: فَمَنْ قَالَ بِالْمَخْلُوقِ، فَمَا هُوَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: " كَافِرٌ "، فَقُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ لَقِيتَ مِنْ أُسْتَاذِيكَ قَالُوا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: " مَا لَقِيتُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ: مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن سہل رملی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے قرآن کے بارے میں سوال کیا، کہنے لگے: وہ اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔ پوچھا: جو مخلوق کہے، آپ کے نزدیک اس کا کیا حکم ہے؟ کہنے لگے: وہ کافر ہے، میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے اساتذہ کا کیا خیال ہے؟ فرماتے ہیں: وہ بھی یہی کہتے ہیں، جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں، وہ کافر ہیں۔