السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أنبأ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ، أَوْ فِيمَا أَجَازَ لِي مُشَافَهَةً، ثنا الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: " لَأَنْ يَلْقَى اللهَ الْعَبْدُ بِكُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلَا الشِّرْكَ بِاللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَهْوَاءِ "، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَجَادَلُونَ فِي الْقَدَرِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ: " فِي كِتَابِ اللهِ الْمَشِيئَةُ لَهُ دُونَ خَلْقِهِ، وَالْمَشِيئَةُ إِرَادَةُ اللهِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} فَأَعْلَمَ خَلْقَهُ أَنَّ الْمَشِيئَةَ لَهُ، وَكَانَ يُثْبِتُ الْقَدَرَ ".ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: بندہ شرک کے سوا ہر گناہ کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ان اہواء (بدعات) میں سے کسی چیز کے ساتھ اس سے ملے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنے سامنے تقدیر کے بارے میں جھگڑتے دیکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب اللہ میں مشیت اللہ کی ہے نہ کہ اس کی مخلوق کی۔ اللہ کی مشیت سے مراد اللہ کا ارادہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الإنسان: 30] ”اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“ پس اللہ نے اپنی مخلوق کو بتا دیا کہ مشیت اسی کی ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ تقدیر کو ثابت کرتے تھے۔