السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20895
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أنبأ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ، أَوْ فِيمَا أَجَازَ لِي مُشَافَهَةً، ثنا الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: " لَأَنْ يَلْقَى اللهَ الْعَبْدُ بِكُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلَا الشِّرْكَ بِاللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَهْوَاءِ "، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَجَادَلُونَ فِي الْقَدَرِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ: " فِي كِتَابِ اللهِ الْمَشِيئَةُ لَهُ دُونَ خَلْقِهِ، وَالْمَشِيئَةُ إِرَادَةُ اللهِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} فَأَعْلَمَ خَلْقَهُ أَنَّ الْمَشِيئَةَ لَهُ، وَكَانَ يُثْبِتُ الْقَدَرَ ".حافظ ثناء اللہ
ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ بندہ اللہ سے ملاقات کرے گا ہر گناہ لے کر سوائے شرک کے۔ بہتر ہے کہ اہل ہوا میں سے نہ ہو۔ اس طرح کی قوم نے آپ کے سامنے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مشیت اللہ کی ہے اس کی مخلوق کے علاوہ۔ اللہ کی مشیت سے مراد اللہ کا ارادہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الإنسان: 30] ”جو تم نہیں چاہتے، مگر وہ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔“ مشیت بھی اللہ کی ہے اور اللہ ہی تقدیر کو ثابت کرتا ہے۔