السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20884
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو سُهَيْلٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ: " مَا تَرَى فِي الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ؟ "، قَالَ: أَرَى أَنْ يُسْتَتَابُوا، فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا ضَرَبْتَ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: " ذَاكَ الرَّأْيُ فِيهِمْ، لَوْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْوَاحِدَةُ كَفَى بِهَا {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: ١٦٢] ".حافظ ثناء اللہ
ابو سہیل نافع بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ”قدریہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ فرمایا: ”ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، اگر توبہ کر لیں تو ٹھیک وگرنہ ان کو قتل کر دیا جائے۔“ عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے تھی۔ یہ ایک آیت ہی کافی ہے: ﴿فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ * مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 161-163] ”سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کا مقام مقرر ہے۔““