السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20897
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبُوَيْطِيَّ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ} [النحل: ٤٠] فَأَخْبَرَ اللهُ أَنَّهُ يَخْلُقُ الْخَلْقَ بِكُنْ، فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ كُنْ مَخْلُوقٌ، فَقَدْ زَعَمَ أَنَّ اللهَ يَخْلُقُ الْخَلْقَ بِخَلْقٍ ".حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بویطی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ جس نے قرآن کو مخلوق کہا، وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾ [سورة النحل: 40] ”جب ہم کسی چیز کے بارے میں کہتے ہیں: ہوجا، وہ ہوجاتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنی مخلوق کو لفظِ «كُنْ» ”ہوجا“ سے پیدا کرتا ہے، تو جس نے یہ گمان کیا کہ لفظ «كُنْ» مخلوق ہے، اس نے گویا یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو (کسی دوسری) مخلوق کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔