السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، عَنْهُ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْقَدَرِيَّةَ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنَّ الْمَجُوسَ قَالَتْ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ هَذِهِ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ النُّورَ وَلَمْ يَخْلُقِ الظُّلْمَةَ، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ: خَلَقَ اللهُ بَعْضَ الْأَعْرَاضِ دُونَ بَعْضٍ، خَلَقَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَلَمْ يَخْلُقْ صَوْتَ الْمَقْدَحِ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْجَهْلَ وَالنِّسْيَانَ، وَقَالَ الْقَدَرِيَّةُ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقِ الْحِفْظَ وَالْعِلْمَ وَالْعَمَلَ، وَقَالَتِ الْمَجُوسُ: إِنَّ اللهَ لَا يُضِلُّ أَحَدًا، وَقَالَتِ الْقَدَرِيَّةُ مِثْلَهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ} [الرعد: ٢٧]، وَقَالَ: {يُرِيدُ أَنْ⦗٣٥١⦘ يُغْوِيَكُمْ} [هود: ٣٤]، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِهَذِهِ الْمَعَانِي أَوْ بَعْضِهَا، وَأَضَافَهُمْ مَعَ ذَلِكَ إِلَى الْأُمَّةِ ".ابوعبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“؛ کیونکہ مجوسی کہتے ہیں کہ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے نور کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اندھیرے کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں: بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بعض کو نہیں، جیسے بادل کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن چقماق کی آواز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ مجوس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہالت اور بھول جانے کو پیدا نہیں کیا۔ قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنا، علم اور عمل کو پیدا نہیں کیا۔ مجوسی اور قدریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو پیدا نہیں کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 27] ”وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔“ اور ﴿يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ﴾ [سورة هود: 34] ”وہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہیں گمراہ کرے“، مجوسی ان آیات کا معنی یوں کرتے ہیں کہ گمراہی کی نسبت امت کی جانب ہے۔