❮
❯
حدیث نمبر: 20906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، بِالدَّامِغَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " أُجِيزُ شَهَادَةَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ كُلِّهِمْ إِلَّا الرَّافِضَةَ، فَإِنَّهُ يَشْهَدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَذَلِكَ مَنْ عُرِفَ مِنْهُمْ بِسَبِّ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ هُمْ سُرُجُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَصَدْرُهَا لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ مَتَى مَا كَانَ سَبُّهُ إِيَّاهُمْ عَلَى وَجْهِ الْعَصَبِيَّةِ، أَوِ الْجَهَالَةِ لَا عَلَى تَأْوِيلٍ أَوْ شُبْهَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ

یونس بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہلِ اہواء کی شہادت جائز ہے، لیکن رافضہ کی شہادت جائز نہیں، کیونکہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح ان میں سے جو صحابہ کو گالی دینے میں معروف ہو، جو اس امت کے چراغ اور اس کے صدر اول ہیں، اس کی شہادت قبول نہ کی جائے گی، جب اس کا انہیں گالی دینا عصبیت یا جہالت کی بنا پر ہو، کسی تاویل یا شبہ کی بنا پر نہ ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20906
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»