السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنِيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: رَبِّ، وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "، يَا بُنِيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: اے میرے بیٹے! آپ ایمان کے ذائقے کو نہیں پا سکتے، یہاں تک کہ جو چیز آپ کو پہنچنے والی ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گی اور جو نہیں پہنچنی وہ کبھی نہ پہنچ سکے گی؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ فرمایا: قیامت تک ہر چیز کی تقدیر لکھ دو۔“
اے میرے بیٹے! ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“