کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اہلِ فقہ میں سے کسی شخص سے اہلِ حدیث میں سے کسی کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کہے: ”اس کی حدیث سے باز رہو کیونکہ وہ غلطی کرتا ہے یا ایسی بات بیان کرتا ہے جو اس نے نہیں سنی، یا وہ فتویٰ دینے کی بصیرت نہیں رکھتا“۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَيْسَ هَذَا بِعَدَاوَةٍ وَلَا غِيبَةٍ، إِذَا كَانَ يَقُولُهُ لِمَنْ يَخَافُ أَنْ يَتَّبِعَهُ فَيُخْطِئَ بِاتِّبَاعِهِ، وَهَذَا مِنْ مَعَانِي الشَّهَادَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ نہ دشمنی ہے اور نہ غیبت، جبکہ وہ یہ بات اس شخص سے کہے جس کے بارے میں اسے اندیشہ ہو کہ وہ اس کی پیروی کرے گا اور اس کی پیروی کی وجہ سے غلطی میں پڑ جائے گا، اور یہ گواہیوں کے معانی میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20910
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ "، قَالَ: وَمُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ "، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ لِذَلِكَ: " وَجَبَتْ "، وَقُلْتَ لِهَذِهِ: " وَجَبَتْ "، فَقَالَ: " شَهَادَةُ الْقَوْمِ، الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزارا گیا، اس کی اچھی تعریف کی گئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”واجب ہوگئی“، دوسرا جنازہ گزارا گیا، اس کی بری تعریف ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”واجب ہوگئی“، تو آپ ﷺ سے سوال ہوا: کیا دونوں کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن آدمی زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20910
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ ⦗٣٥٤⦘ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُذْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرِثُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ، وَتَحْرِيفَ الْغَالِينَ "..
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن عبدالرحمن عذری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر آنے والی نسل میں سے اس کے عادل لوگ اس علم کے وارث ہوں گے، وہ جاہلوں کی تاویلوں کی نفی کرتے ہیں، باطل لوگوں کی باتوں کی نفی کرتے ہیں اور غلو کرنے والوں کی تحریف کو ختم کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20911
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ الدِّمَشْقِيَّ، ثنا الْوَلِيدُ، يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الثِّقَةُ، مِنْ أَشْيَاخِنَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے شیوخ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20912
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ الزَّوْجَ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، أَوْ كَمَا قَالَتْ، قَالَ: لَا حَتَّى تَمْضِي أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ، إِذَا أَتَاكِ مَنْ تَرْضَيْنَ فَأَخْبِرِينِي ". هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ، وَلَهُ شَوَاهِدُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ تَبْيِينَ حَالِ مَنْ وُجِدَ مِنْهُ مَا يُوجِبُ رَدَّ خَبَرِهِ، لَيْسَ هَهُنَا مَوْضِعُهُ، إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ أَدْخَلَ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ خِلَالَ مَسْأَلَةِ شَهَادَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، فَأَشَرْنَا إِلَى بَعْضِ أَدِلَّتِهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کو جنم دیا تو ان کے پاس سے ابوسنابل رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ فرمانے لگے: ”تو شادی کا ارادہ رکھتی ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”ہاں۔“ ابوسنابل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”پہلے چار ماہ دس دن عدت پوری کرو۔“ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسنابل سے غلطی ہوئی۔ جب تیرے پاس کوئی ایسا آئے جس کو تو پسند کرے تو مجھے اطلاع دینا۔“
یہ مرسل حسن ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ ہم نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے اس شخص کا حال واضح کرنا روایت کیا ہے جس میں کوئی ایسی بات پائی جائے جو اس کی خبر کو رد کرنے کا تقاضا کرے، یہاں اس کا موقع نہیں، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ اہل اہواء کی گواہی کے مسئلے کے دوران ذکر کیا ہے، اس لیے ہم نے اس کے بعض دلائل کی طرف اشارہ کر دیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20913
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 4261»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو شُجَاعٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرْعَوُونَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ؟ اذْكُرُوهُ بِمَا فِيهِ كَيْ يَعْرِفَهُ النَّاسُ وَيَحْذَرَهُ النَّاسُ ". فَهَذَا حَدِيثُ يُعْرَفُ بِالْجَارُودِ بْنِ يَزِيدَ النَّيْسَابُورِيِّ، وَأَنْكَرَهُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ الْجَارُودِيُّ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ جَدِّهِ فِي مَقْبَرَةِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُعَاذٍ يَقُولُ: يَا أَبَةِ، لَوْ لَمْ تُحَدِّثْ بِحَدِيثِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ لَزُرْتُكَ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَقَدْ سَرَقَهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الضُّعَفَاءِ فَرَوَوْهُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ وَلَمْ يَصِحَّ فِيهِ شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم فاجر کے ذکر سے ڈرتے ہو؟“ فرمایا: ”اس کی خامیاں بیان کیا کرو تاکہ لوگ اس کو جان بھی لیں اور اس سے بچیں بھی۔“
یہ حدیث جارود بن یزید نیشاپوری کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور حدیث کا علم رکھنے والوں نے اسے ان کی منکر روایت قرار دیا ہے۔ ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کئی بار فرماتے تھے کہ ابو بکر جارودی جب حسین بن معاذ کے قبرستان میں اپنے دادا کی قبر کے پاس سے گزرتے تو کہتے: اے ابا جان! اگر آپ بہز بن حکیم والی حدیث بیان نہ کرتے تو میں آپ کی زیارت کرتا۔
شیخ فرماتے ہیں: ضعیف راویوں کی ایک جماعت نے اسے ان سے چرا کر بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے اور اس بارے میں کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20914
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ قَالَ: ⦗٣٥٥⦘ قُرِئَ عَلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارِ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالَ: ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ أَبُو عِصَامٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَلْقَى جِلْبَابَ الْحَيَاءِ فَلَا غِيبَةَ لَهُ ". وَهَذَا أَيْضًا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حیا کی چادر کو اتار پھینکا، اس کی غیبت نہیں ہے۔“
یہ روایت بھی قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20915