السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ خِفْتُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِي وَأَمْرِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ ⦗٣٤٤⦘ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَإِنَّكَ إِذَا مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: قَصَّ الْقِصَّةَ كُلَّهَا كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنِّي اخْتَصَرْتُهُ، وَقَالَ لِي: لَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَسَأَلْتُهُ، وَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّهُ إِنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلَ النَّارَ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ. وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.ابن دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں شک سا پیدا ہوا تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور میں نے کہا: اے ابو منذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (وسوسہ) واقع ہوا، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا دین برباد نہ ہو جائے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہیں ہے، اور اگر وہ رحمت کرے تو اس کی رحمت سب سے زیادہ وسیع ہے، اگر آپ کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اس کو خرچ کر دیں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور آپ جان لیں کہ جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر رہے گا اور جو نہیں ملنا وہ آپ کو نہیں مل سکے گا۔ اگر آپ تقدیر کے عقیدے کے بغیر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے اور جب میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئیں تو ان سے سوال کر لینا۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“