السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20904
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِيمَا أَجَازَ لِي رِوَايَتَهُ عَنْهُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي: " إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ مَنْ يُعْرَفُ بِاسْتِحْلَالِ شَهَادَةِ الزُّورِ عَلَى الرَّجُلِ، لِأَنَّهُ يَرَاهُ حَلَالَ الدَّمِ، أَوْ حَلَالَ الْمَالِ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يَسْتَحِلُّ أَوْ يَرَى الشَّهَادَةَ لِلرَّجُلِ إِذَا وَثِقَ بِهِ، فَيَحْلِفُ لَهُ عَلَى حَقِّهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ بِالْبَتِّ بِهِ، وَلَمْ يَحْضُرْهُ وَلَمْ يَسْمَعْهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ قِبَلِ اسْتِحْلَالِهِ الشَّهَادَةَ بِالزُّورِ، أَوْ يَكُونُ مِنْهُمْ مَنْ يُبَايِنُ الرَّجُلَ الْمُخَالِفَ لَهُ مُبَايَنَةَ الْعَدَاوَةِ لَهُ، فَتُرَدُّ شَهَادَتُهُ مِنْ جِهَةِ الْعَدَاوَةِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کسی آدمی کے خلاف جھوٹی گواہی کو جائز سمجھے یا کسی کے خون بہانے کو یا مال ہڑپ کرنے کو جائز خیال کرتا ہے تو اس کی گواہی کو رد کر دیا جائے گا اور ایسا آدمی جو کسی کے حق میں قسم اٹھا کر گواہی دیتا ہے حالانکہ وہ اس موقع پر موجود بھی نہ تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں اس نے سن رکھا تھا تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا یا وہ آدمی دشمنی کی بنا پر کسی کے خلاف گواہی دیتا ہے تو اس کی گواہی کو بھی رد کر دیا جائے گا۔