السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا تُرَابٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْذِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا حَاتِمٍ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " لَمْ أَرَ أَحَدًا أَشْهَدَ بِالزُّورِ مِنَ الرَّافِضَةِ ". كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ حَرْمَلَةَ.حافظ ثناء اللہ
حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں۔