السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ الْقَاضِي بِمَرْوَ قَالَ: سُئِلَ أَبِي - وَأَنَا أَسْمَعُ - عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ، وَعِلْمُهُ، وَوَحْيُهُ، لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ ". وَلَقَدْ ذَكَرَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً يَقُولُونَ: اللهُ الْخَالِقُ، وَمَا سِوَاهُ مَخْلُوقٌ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ أَبِي: " وَقَدْ أَدْرَكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَجِلَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَدْرِيِّينَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مِثْلَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَجَلَّةِ التَّابِعِينَ، وَعَلَى هَذَا مَضَى صَدْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ.حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن محمد بن اسحاق بن راہویہ، جو مرو کے قاضی ہیں، فرماتے ہیں کہ میرے والد سے سوال کیا گیا (اور) میں قرآن (کے متعلق) سن رہا تھا، انہوں نے کہا: ”قرآن اللہ کا کلام ہے، یہ اس کی وحی اور اس کا علم ہے، مخلوق نہیں ہے۔“ سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیوخ کو ستر سال تک پایا، وہ یہی کہتے تھے۔
(ب) سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو ستر سال تک پایا، وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔