السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَالَّذِي رُوِيَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُذَيْفَةَ فِي تَكْفِيرِ الْقَدَرِيَّةِ نَصًّا مَوْجُودٌ دَلَالَةٌ ظَاهِرَةٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيْمَانِ، مَعَ تَبَرِّي ابْنِ عُمَرَ مِمَّنْ نَفَى الْقَدَرَ.سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قدریہ (یعنی تقدیر کے منکر) ہیں، نہ ان کی تیمارداری کرو اور نہ ہی ان کے جنازے میں شامل ہو۔ یہ دجال کا گروہ ہے، اللہ کے ذمہ ہے کہ ان کو ان کے ساتھ ملا دے۔“
سیدنا ابن عمر اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے قدریہ کی تکفیر کے بارے میں جو صراحتاً منقول ہے، اس پر واضح دلالت اس ثابت حدیث میں موجود ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے ایمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں، نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تقدیر کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔