السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20879
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِرَجُلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَذَا يُكَلِّمُكَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: " أَدْنِهِ مِنِّي "، فَقُلْتُ: هُوَ ذَا، تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَهُ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَدْنَيْتَهُ مِنِّي لَوَضَعْتُ يَدِي فِي عُنُقِهِ، فَلَمْ يُفَارِقْنِي حَتَّى أَدُقَّهَا ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی کو لے کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: یہ تقدیر کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہے، فرمانے لگے: اس کو میرے قریب کر دو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فرمانے لگے: اگر آپ اس کو میرے قریب کر دیتے تو میں اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھ دیتا اور اس وقت تک جدا نہ کرتا جب تک اس کو کچل نہ دیتا۔