السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20889
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَقُولُ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ؟ قَالَ: " عِنْدِي كَافِرٌ، فَاقْتُلُوهُ "، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ: فَسَأَلْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، وَابْنَ لَهِيعَةَ عَمَّنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ؟ فَقَالَا: " كَافِرٌ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن خلف مقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس تھا، ایک آدمی آیا، اس نے کہا: جو قرآن کو مخلوق کہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے نزدیک وہ کافر ہے، اسے قتل کر دو۔
(ب) یحییٰ بن خلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد اور ابن لہیعہ رحمہما اللہ سے سوال کیا: جو قرآن کو مخلوق کہتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: وہ کافر ہے۔