السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ الشَّافِعِيُّ عَنِ الْقَدَرِ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ ⦗٣٤٩⦘:.حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہی ہوتا ہے جو تو چاہتا ہے اگر میں نہ بھی چاہوں
اور جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں ہوتا اگر تو نہ چاہے
تو نے اپنے علم کے مطابق بندوں کو پیدا کیا
اور تیرے علم میں نوجوان اور بوڑھے سب چلتے ہیں
بعض پر تو احسان کرتا ہے اور بعض کو تو ذلیل کرتا ہے
اور بعض کی تو مدد کرتا ہے اور بعض کی مدد نہیں کرتا
ان میں سے بعض بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت ہیں
اور بعض ان میں سے بدصورت ہیں اور بعض خوبصورت ہیں۔