السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مُوسَى الْمَرْوَرُوذِيَّ، سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيِّ بِمِصْرَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَكُنَّا نَجْتَمِعُ عِنْدَهُ بِاللَّيْلِ، فَنُلْقِي الْمَسْأَلَةَ فِيمَا بَيْنَنَا، وَيَقُومُ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا سَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ قِيلَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، بِمَاذَا تُجِيبُونَهُمْ؟ وَيَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ، فَقُمْنَا لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَتَقَدَّمْتُ أَنَا وَأَصْحَابٌ لَنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَقَدْ نَشَأَ عِنْدَنَا قَوْمٌ يَقُولُونَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، وَلَسْنَا مِمَّنْ يَخُوضُ فِي الْكَلَامِ، وَلَا نَسْتَفْتِيكَ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ إِلَّا لِدِينِنَا، وَلِمَنْ عِنْدَنَا، لِنُخْبِرَهُمْ عَنْكَ بِمَا تُجِيبُنَا فِيهِ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ، فَهُوَ كَافِرٌ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَهَذَا مَذْهَبُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ فِي هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ الَّذِينَ حُرِمُوا التَّوْفِيقَ، وَتَرَكُوا ظَاهِرَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بِآرَائِهِمُ الْمُزَخْرَفَةِ، وَتَأْوِيلَاتِهِمُ الْمُسْتَنْكَرَةِ، وَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ عُمَرَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيَّ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ زَاهِرَ بْنَ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيَّ يَقُولُ: لَمَّا قَرُبَ حَضُورُ أَجَلِ أَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي دَارِي بِبَغْدَادَ دَعَانِي فَقَالَ: " اشْهَدْ عَلَيَّ أَنِّي لَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ، لِأَنَّ الْكَلَّ يُشِيرُونَ إِلَى مَعْبُودٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّمَا هَذَا اخْتِلَافُ الْعِبَارَاتِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ هَذَا أَيْضًا مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، أَلَا تَرَاهُ قَالَ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي: " ذَهَبَ النَّاسُ مَنْ تَأَوَّلَ الْقُرْآنَ وَالْأَحَادِيثَ ⦗٣٥٠⦘ وَالْقِيَاسَ، أَوْ مَنْ ذَهَبَ مِنْهُمْ إِلَى أُمُورٍ اخْتَلَفُوا فِيهَا فَتَبَايَنُوا فِيهَا تَبَايُنًا شَدِيدًا، وَاسْتَحَلَّ فِيهَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بَعْضَ مَا تَطُولُ حِكَايَتُهُ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُتَقَادِمٌ مِنْهُ مَا كَانَ فِي عَهْدِ السَّلَفِ وَبَعْدَهُمْ إِلَى الْيَوْمِ، فَلَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنْ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُقْتَدَى بِهِ، وَلَا مِنَ التَّابِعِينَ بَعْدَهُمْ رَدَّ شَهَادَةَ أَحَدٍ بِتَأْوِيلٍ، وَإِنْ خَطَّأَهُ وَضَلَّلَهُ " ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: " وَشَهَادَةُ مَنْ يَرَى الْكَذِبَ شِرْكًا بِاللهِ أَوْ مَعْصِيَةً لَهُ يُوجِبُ عَلَيْهَا النَّارَ، أَوْلَى أَنْ تَطِيبَ النَّفْسُ عَلَيْهَا مِنْ شَهَادَةِ مَنْ يُخَفِّفُ الْمَأْثَمَ فِيهَا، قَالُوا: وَالَّذِي رُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنْ تَكْفِيرِ هَؤُلَاءِ الْمُبْتَدِعَةِ، فَإِنَّمَا أَرَادُوا بِهِ كُفْرًا دُونَ كُفْرٍ، هُوَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكُفْرٍ يَنْقُلُ عَنْ مِلَّةٍ، وَلَكِنْ كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَكَأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِتَكْفِيرِهِمْ مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ مِنْ نَفْيِ هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتِي أَثْبَتَهَا اللهُ تَعَالَى لِنَفْسِهِ وَجُحُودِهِمْ لَهَا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ، مَعَ اعْتِقَادِهِمْ إِثْبَاتَ مَا أَثْبَتَ اللهُ تَعَالَى، فَعَدَلُوا عَنِ الظَّاهِرِ بِتَأْوِيلٍ، فَلَمْ يَخْرُجُوا بِهِ عَنِ الْمِلَّةِ وَإِنْ كَانَ التَّأْوِيلُ خَطَأً، كَمَا لَمْ يَخْرُجْ مَنْ أَنْكَرَ إِثْبَاتَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الْمَصَاحِفِ كَسَائِرِ السُّوَرِ مِنَ الْمِلَّةِ، لِمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ مِنَ الشُّبْهَةِ، وَإِنْ كَانَتْ عِنْدَ غَيْرِهِ خَطَأً، وَالَّذِي رُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ: " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ "، إِنَّمَا سَمَّاهُمْ مَجُوسًا لِمُضَاهَاةِ بَعْضِ مَا يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ مَذَاهِبَ الْمَجُوسِ فِي قَوْلِهِمْ بِالْأَصْلَيْنِ، وَهُمَا النُّورُ وَالظُّلْمَةُ، يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخَيْرَ مِنْ فِعْلِ النُّورِ، وَأَنَّ الشَّرَّ مِنْ فِعْلِ الظُّلْمَةِ، فَصَارُوا ثَنَوِيَّةً، كَذَلِكَ الْقَدَرِيَّةُ يُضِيفُونَ الْخَيْرَ إِلَى اللهِ، وَالشَّرَّ إِلَى غَيْرِهِ، وَاللهُ تَعَالَى خَالِقُ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَالْأَمْرَانِ مَعًا مُنْضَافَانِ إِلَيْهِ خَلْقًا وَإِيجَادًا إِلَى الْفَاعِلِينَ لَهُمَا مِنْ عِبَادِهِ - فِعْلًا وَاكْتِسَابًا. هَذَا قَوْلُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى الْخَيْرِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ فِيمَا:.ابو محمد مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یوسف بن موسیٰ مروروذی رحمہ اللہ سے 295ھ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اہل خراسان کی ایک جماعت مصر میں ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ کے پاس تھی اور ہم رات کے وقت ان کے پاس جمع ہوتے اور آپس میں مسائل پر بحث کرتے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، جب سلام پھیرتے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر کہتے: اگر تم سے یہ اور یہ کہا جائے تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر اپنی نماز کی طرف لوٹ جاتے۔ ایک رات ہم اٹھے، میں اور ہمارے کچھ ساتھی ان کے پاس آگے بڑھے، ہم نے کہا: ہم اہل خراسان کے لوگ ہیں، ہمارے ہاں ایک قوم پیدا ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ قرآن مخلوق ہے، ہم علم کلام میں غور و خوض کرنے والوں میں سے نہیں ہیں اور ہم اس مسئلے میں آپ سے صرف اپنے دین کی خاطر اور اپنے ہاں کے لوگوں کی خاطر فتویٰ طلب کرتے ہیں تاکہ جو جواب آپ ہمیں دیں وہ ہم آپ کی طرف سے انہیں بتا دیں۔ فرمایا: قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں، اور جس نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے وہ کافر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان بدعتیوں کے بارے میں ہمارے ائمہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے جو توفیق سے محروم رہے اور اپنی ملمع کاری والی آراء اور ناپسندیدہ تاویلات کی وجہ سے کتاب و سنت کے ظاہر کو چھوڑ دیا۔ میں نے ابو حازم عمر بن احمد عبدوی حافظ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے زاہر بن احمد سرخسی سے سنا، وہ کہتے ہیں: جب بغداد میں میرے گھر میں ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: مجھ پر گواہ رہنا کہ میں اس قبلہ والوں میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا، کیونکہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ تو صرف تعبیرات کا اختلاف ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اس طرف گیا ہے اس کا خیال ہے کہ یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی مذہب ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کتاب ادب القاضی میں فرمایا: لوگوں میں سے جنہوں نے قرآن، احادیث اور قیاس کی تاویل کی، یا ان میں سے جو ایسے امور کی طرف گئے جن میں انہوں نے اختلاف کیا اور ان میں سخت اختلاف کیا اور ان میں سے بعض نے بعض کی ایسی چیزوں کو حلال سمجھا جن کی حکایت طویل ہے، یہ سب پرانا ہے، اس میں سے کچھ سلف کے زمانے میں تھا اور ان کے بعد سے آج تک ہے، ہم اس امت کے سلف میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس کی اقتدا کی جاتی ہو اور نہ ان کے بعد تابعین میں سے کسی کو جس نے کسی کی گواہی تاویل کی وجہ سے رد کی ہو، اگرچہ اس نے اسے غلط اور گمراہ قرار دیا ہو۔ پھر کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: جو شخص جھوٹ کو اللہ کے ساتھ شرک یا ایسی نافرمانی سمجھتا ہے جس پر جہنم واجب ہوتی ہے، اس کی گواہی پر دل کا مطمئن ہونا اس شخص کی گواہی سے زیادہ بہتر ہے جو اس کے گناہ کو ہلکا سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا: امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ سے ان بدعتیوں کی تکفیر کے بارے میں جو ہم نے روایت کیا ہے، اس سے ان کی مراد کفر دون کفر (کفر سے کم درجے کا کفر) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] ”اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جاتے ہو، یہ ایسا کفر نہیں جو ملت سے خارج کر دے بلکہ کفر دون کفر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ان کی تکفیر سے ان کی مراد ان کا ان صفات کی نفی کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے اور دور کی تاویل کے ذریعے ان کا انکار کرنا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ثابت کردہ کو ثابت ماننے کا عقیدہ رکھتے ہیں، چنانچہ وہ تاویل کے ذریعے ظاہر سے ہٹ گئے، تو وہ اس کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوئے اگرچہ تاویل غلط تھی، جیسا کہ جس نے مصاحف میں معوذتین کو باقی سورتوں کی طرح ثابت ماننے کا انکار کیا وہ اپنے شبہ کی وجہ سے ملت سے خارج نہیں ہوا، اگرچہ دوسروں کے نزدیک یہ غلطی تھی۔ اور نبی ﷺ سے جو ہم نے آپ ﷺ کا یہ فرمان روایت کیا ہے: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں“، تو آپ ﷺ نے انہیں مجوسی صرف اس لیے کہا کہ ان کے بعض عقائد دو اصلوں یعنی نور اور ظلمت کے بارے میں مجوس کے عقائد سے مشابہت رکھتے ہیں، مجوس کا گمان ہے کہ خیر نور کا فعل ہے اور شر ظلمت کا فعل ہے، تو وہ ثنویہ (دو اصل ماننے والے) بن گئے، اسی طرح قدریہ خیر کو اللہ کی طرف اور شر کو اس کے غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور دونوں امور پیدا کرنے اور وجود دینے کے اعتبار سے اسی کی طرف منسوب ہیں اور کرنے اور کمانے کے اعتبار سے اس کے ان بندوں کی طرف منسوب ہیں جو انہیں کرتے ہیں۔ یہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا اس روایت پر قول ہے۔
ابو بکر احمد بن اسحاق صبغی نے فرمایا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے: