کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يا عائشة! متى عهدتني فحاشا؟ إن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! تم نے کب مجھے بدزبان پایا؟ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدتر مقام والا شخص وہ ہے جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عائشة. الصحيحة ١٠٤٩.
«يا عائشة! لا تحصي فيحصي الله عليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! صدقہ دینے میں حساب مت رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر اپنی عطا کا حساب رکھے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د١] عن عائشة. صحيح أبي داود - آخر الزكاة.
«يا عائشة! لا تكوني فاحشة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! بدزبان نہ بنو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الإرواء ٢١٣٣.
«يا عباد الله تدأووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد: الهرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے اللہ کے بندو! علاج کراؤ، کیونکہ اللہ نے جو بیماری بھی بنائی ہے اس کی دوا بھی بنائی ہے، سوائے ایک بیماری کے: بڑھاپا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب ك] عن أسامة بن شريك. غاية المرام ٢٩٢، المشكاة ٢٥٣٢.
«يا عباد الله! وضع الله الحرج إلا من اقترض عرض امرئ مسلم ظلما فذلك الذي حرج وهلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے اللہ کے بندو! اللہ نے تنگی دور کر دی ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت پر ظلماً حملہ کرے، وہی تنگی میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد ن هـ حب ك] عن أسامة بن شريك. المصدر نفسه.
«يا عباس! ألا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مغيثا؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د ن هـ] عن ابن عباس. المشكاة ٣١٩٩.
«يا عباس! يا عماه! ألا أعطيك؟ ألا أمنحك ألا أحبوك؟ ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته؟ عشر خصال: أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات فلوكانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرة فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جو اگر تم کرو تو اللہ تمہارے پہلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، غلطی سے اور جان بوجھ کر کیے گئے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف کر دے؟ وہ دس باتیں یہ ہیں: تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جاؤ اور کھڑے ہو تو پندرہ بار کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»۔ پھر رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں دس بار یہی کہو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر سجدے میں جھکو تو سجدے کی حالت میں دس بار کہو، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر کلمات ہوئے، یہ عمل چار رکعتوں میں کرو۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر ہو سکے تو اسے ہر روز ایک بار پڑھو، اگر نہ کر سکو تو ہر جمعہ ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر مہینے ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر سال ایک بار، اور اگر نہ کر سکو تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ وابن خزيمة ك] عن ابن عباس. المشكاة ١٣٢٨، ١٣٢٩، صحيح أبي داود ١١٧٣ - ١١٧٥.
«يا عباس! يا عم رسول الله! سل الله العافية في الدنيا والآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عباس! اے رسول اللہ ﷺ کے چچا! اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن العباس. الصحيحة ١٥٢٣: خد.
«يا عبد الرحمن! اذهب بأختك فأعمرها من التنعيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن کو لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عائشة. الإرواء ١٠٩٠.
«يا عبد الرحمن! أردف أختك عائشة فأعمرها من التنعيم فإذا هبطت بها من الأكمة فمرها فلتحرم فإنها عمرة متقبلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو، اور جب تم اسے لے کر ٹیلے سے اترو تو اسے حکم دو کہ وہ احرام باندھ لے، یہ ایک قبول شدہ عمرہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن عبد الرحمن بن أبي بكر. الإرواء ١٠٩٠.
«يا عبد الرحمن بن سمرة! لا تسأل الإمارة فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وائت الذي هو خير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبدالرحمن بن سمرہ! حکمرانی کا سوال نہ کرو، کیونکہ اگر تمہیں سوال کرنے پر یہ دی جائے تو تمہیں اسی کے حوالے کر دیا جائے گا، اور اگر بغیر سوال کیے دی جائے تو اللہ کی طرف سے اس میں تمہاری مدد کی جائے گی۔ اور جب تم کوئی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کسی اور بات کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور جو بہتر ہے وہی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن عبد الرحمن بن سمرة. الإرواء ٢٠٨٤، ٢٥٧٩.
«يا عبد الله! ألم أخبر أنك تصوم النهار وتقوم الليل؟ فلا تفعل فإنك إذا فعلت ذلك هجمت عينك وتفهت نفسك فصم وأفطر وقم ونم فإن لجسدك عليك حقا وإن لعينيك عليك حقا وإن لزوجك عليك حقا وإن بحسبك أن تصوم من كل شهر ثلاثة أيام فإن لك بكل حسنة عشر أمثالها فإذن ذلك صيام الدهر كله ; قال: إني أجد قوة قال: فصم صيام نبي الله داود ولا تزد عليه نصف الدهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبداللہ! کیا مجھے بتایا نہیں گیا کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو؟ ایسا نہ کرو، کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تمہارا جسم کمزور ہو جائے گا۔ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، قیام بھی کرو اور آرام بھی کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، اور تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہر مہینے تین دن روزہ رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا اجر اس کی دس گنا ہے، تو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو جائے گا۔ اس نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نبی اللہ داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو اور اس سے زیادہ مت کرو، وہ آدھی زندگی کے روزے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن ابن عمرو. الإرواء ٢٠١٥، المشكاة ٢٠٥٤.
«يا عبد الله إن يدخلك الله الجنة كان لك هذا وما اشتهت نفسك ولذت عينك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبداللہ! اگر اللہ تمہیں جنت میں داخل کر دے تو یہ سب کچھ اور جو کچھ تمہارا دل چاہے اور تمہاری آنکھ کو بھلا لگے، تمہارا ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن بريدة. حم ٥/٣٥٢، م ١/١٢١.
«يا عبد الله بن قيس! ألا أدلك على كلمة هي كنز من كنوز الجنة؟: لا حول ولا قوة إلا بالله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ وہ ہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي موسى. صحيح أبي داود ١٣٦٥.
«يا عبد الله! لا تكن مثل فلان كان يقوم من الليل فترك قيام الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ بننا، وہ رات کو قیام کیا کرتا تھا پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن ابن عمرو. سعد ٤/٢٦٥.
"يا عثمان! أرغبت عن سنتي؟! فإني أنام وأصلي وأصوم وأفطر وأنكح النساء فاتق الله يا عثمان! فإن لأهلك عليك حقا، وإن لضيفك عليك حقا وإن لنفسك عليك حقا فصم وأفطر وصل ونم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے رخ موڑ لیا ہے؟! میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ سے ڈرو، کیونکہ تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے اور تمہاری اپنی جان کا بھی تم پر حق ہے، پس روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور آرام بھی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عائشة. الإرواء ٢٠١٥، صحيح أبي داود ١٢٣٩.
«يا عثمان! إن الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقاني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عثمان! اللہ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، پس اگر منافق تمہیں اسے اتارنے پر مجبور کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن عائشة. المشكاة ٦٠٧٧: حب.
«يا عقبة؟ ألا أعلمك خير سورتين قرئتا؟ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} يا عقبة! اقرأ بهما كلما نمت وقمت ما سأل سائل ولا استعاذ مستعيذ بمثلهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عقبہ! کیا میں تمہیں وہ بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں جو کبھی پڑھی گئیں؟ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس۔ اے عقبہ! انہیں ہر بار جب سوؤ اور جاگو پڑھا کرو، کسی مانگنے والے نے ان جیسی کسی چیز سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے ان جیسی کسی چیز سے پناہ مانگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن ك] عن عقبة بن عامر. صحيح أبي داود ١٣١٥: ابن خزيمة.
«يا عقبة بن عامر! تعوذ بهما فما تعوذ متعوذ بمثلهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عقبہ بن عامر! ان دونوں سے پناہ مانگا کرو، کسی پناہ مانگنے والے نے ان جیسی کسی چیز سے پناہ نہیں مانگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عقبة بن عامر. المشكاة ٢١٦٢، صحيح أبي داود ١٣١٦.
«يا عقبة! {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ما تعوذ بمثلهن أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عقبہ! قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس، کسی نے ان جیسی کسی چیز سے پناہ نہیں مانگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عقبة بن عامر. صحيح أبي داود ١٣١٥.
«يا علي! أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى؟ إلا أنه ليس بعدي نبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا؟ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن سعد. مختصر مسلم ١٦٣٩، ك ٢/٢٣٧ - علي.
«يا علي! سل الله الهدى والسداد واذكر بالهدى هدايتك الطريق وبالسداد تسديدك السهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے علی! اللہ سے ہدایت اور درستی مانگو، ہدایت کی دعا کرتے وقت راستے کی سیدھی رہنمائی کو یاد کرو، اور درستی کی دعا کرتے وقت تیر کے نشانے پر لگنے کو یاد کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن علي. المشكاة ٢٤٨٥: م.
«يا علي! لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو تمہارے لیے معاف ہے، لیکن دوسری تمہارے لیے جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن بريدة. المشكاة ٣١١٠، حجاب المرأة ٣٤.
«يا علي! لا تقع إقعاء الكلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے علی! کتے کی طرح سرینوں کے بل نہ بیٹھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن علي. صحيح أبي داود ٨٣٨.
«يا عم! ألا أصلك؟ ألا أحبوك؟ ألا أنفعك؟ تصلي يا عم! أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل: الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع فقلها عشرا قبل أن تقوم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاث مائة في أربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك إن لم تستطع أن تصليها في كل يوم فصلها في كل جمعة فإن لم تستطع فصلها في كل شهر فإن لم تستطع فصلها في كل سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے چچا! کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں فائدہ نہ پہنچاؤں؟ اے چچا! تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب قراءت ختم ہو جائے تو رکوع کرنے سے پہلے پندرہ بار کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَسُبْحَانَ اللَّهِ» اور «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»۔ پھر رکوع کرو تو سر اٹھانے سے پہلے دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو سجدہ کرنے سے پہلے دس بار کہو، پھر سجدہ کرو تو سر اٹھانے سے پہلے دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو کھڑے ہونے سے پہلے دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو ہوئے۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر تم اسے ہر روز نہ پڑھ سکو تو ہر جمعہ پڑھ لو، اگر یہ بھی نہ کر سکو تو ہر مہینے پڑھ لو، اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو ہر سال پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مساجلة ٢٣، صحيح الترغيب ٦٧٨، المشكاة ١٣٢٨و ١٣٢٩.
«يا عوف! احفظ خلالا ستا بين يدي الساعة إحداهن موتي ثم فتح بيت المقدس ثم داء يظهر فيكم يستشهد الله به ذراريكم وأنفسكم ويزكي به أموالكم ثم تكون الأموال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا وفتنة تكون بينكم لا يبقى بيت مسلم إلا دخلته ثم يكون بينكم وبين بني الأصفر هدنة فيغدرون فيسيرون إليكم في ثمانين غاية تحت كل غاية اثني عشر ألفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عوف! قیامت سے پہلے چھ باتیں یاد رکھو: ایک میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک وبا جو تم میں پھیلے گی جس کے ذریعے اللہ تمہاری اولاد اور تمہاری جانوں کو شہادت دے گا اور تمہارے مالوں کو پاک کرے گا، پھر تم میں مال اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تب بھی وہ ناراض رہے گا، پھر تم میں ایک فتنہ برپا ہو گا جو کسی مسلمان گھر کو چھوڑے بغیر داخل نہیں ہو گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہو گی، تو وہ عہد شکنی کریں گے اور اسّی جھنڈوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن عوف بن مالك الأشجعي. تخريج فضائل الشام ٣٠.
"يا غلام! إني أعلمك كلمات احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده تجاهك إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يضروك بشيء إلا قد كتبه الله عليك جفت الأقلام ورفعت الصحف"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بچے! میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں: اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو، اور جان لو کہ اگر ساری امت اکٹھی ہو کر تمہیں کسی چیز سے فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب اکٹھے ہو کر تمہیں کسی چیز سے نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے تمہارے خلاف لکھ دیا ہے، قلم خشک ہو چکے ہیں اور صحیفے اٹھا لیے گئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن ابن عباس. المشكاة ٥٣٠٢، السنة ٣١٦ - ٣١٨: ع، طب، ابن السني، الآجري، الضياء.
«يا غلام! سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بچے! بسم اللہ پڑھو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن عمر بن أبي سلمة. مختصر مسلم ١٣٠٠.
«يا غلام! هذا أبوك وهذه أمك فخذ بيد أيهما شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بچے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں، تم ان دونوں میں سے جس کا ہاتھ چاہو تھام لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث إرواء الغليل ٢١٩٣: حم، الدارمي، الطحاوي، ابن أبي شيبة.
«يا فاطمة! احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے فاطمہ! اس بچے کا سر منڈواؤ اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن علي. الإرواء ١١٤٩.
«يا فاطمة! ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم مومن عورتوں کی سردار بنو؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن فاطمة.
«يا فاطمة! أيسرك أن يقول الناس فاطمة بنت محمد في يدها سلسلة من نار» ؟! [حم ن ك] عن ثوبان
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے فاطمہ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ لوگ کہیں کہ فاطمہ بنت محمد کے ہاتھ میں آگ کی زنجیر ہے؟!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7962
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث آداب الزفاف ١٣٩ - ١٤٠: الطيالسي، طب، الصحيحة ٤١١.
«يا فلان! أيما كان أحب إليك أن تمتع به عمرك؟ أو لا تأتي غدا إلى باب من أبواب الجنة إلا وجدته قد سبقك إليه يفتحه لك» ؟
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے فلاں! تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ کیا ہے: یہ کہ تمہیں اپنی عمر بھر سے فائدہ اٹھانے دیا جائے، یا یہ کہ کل جنت کے کسی بھی دروازے پر جاؤ تو اسے پہلے سے تمہارے لیے کھلا ہوا پاؤ؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن قرة بن إياس. أحكام الجنائز ١٦١.
«يا فلان! أفلا تحسن صلاتك! ألا ينظر المصلي إذا صلى كيف يصلي؟ فإنما يصلي لنفسه إني والله لأبصر من ورائي كما أبصر من بين يدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے فلاں! کیا تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے؟ کیا نمازی یہ نہیں دیکھتا کہ وہ نماز کیسے پڑھ رہا ہے؟ وہ تو اپنے ہی لیے نماز پڑھتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے سے دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أبي هريرة.
«يا قبيصة! إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فتحل له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد أصاب فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ثم يمسك فما سواهن من المسألة فسحت يأكلها صاحبها سحتا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے قبیصہ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی صلح کی خاطر دیت کی ذمہ داری اٹھائی ہو، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی ایسی آفت آئی ہو جس نے اس کا سارا مال ختم کر دیا ہو، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزارے کے لیے کچھ مل جائے۔ تیسرا وہ آدمی جسے ایسی محتاجی لاحق ہو کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ گواہی دیں کہ فلاں کو محتاجی لاحق ہو گئی ہے، تو اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزارے کے لیے کچھ مل جائے، پھر وہ رک جائے۔ ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے، اور مانگنے والا حرام مال کھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن قبيصة بن المخارق. مختصر مسلم ٥٦٨، الإرواء ٨٦٨.
«يا معاذ! أفتان أنت؟ فلولا صليت بـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} ، {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} ، {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} فإنه يصلي وراءك الكبير والضعيف وذوالحاجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے ہو؟ کیوں نہیں تم نے سبح اسم ربک الاعلیٰ، والشمس وضحاھا یا واللیل اذا یغشیٰ پڑھ کر نماز پڑھائی؟ کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھا، کمزور اور حاجت مند بھی نماز پڑھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن جابر. الإرواء ٢٩٥، صحيح أبي داود ٧٥٦.
«يا معاذ بن جبل! ما من أحد يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله صدقا من قلبه إلا حرمه الله على النار قال: يا رسول الله! أفلا أخبر الناس فيستبشروا قال: إذا يتكلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے معاذ بن جبل! جو کوئی سچے دل سے گواہی دے کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ معاذ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ نہ بتا دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو وہ عمل چھوڑ کر اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس. المشكاة ٢٥.
«يا معاذ بن جبل! هل تدري ما حق الله على عباده وما حق العباد على الله؟ فإن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے معاذ بن جبل! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن معاذ بن جبل. المشكاة ٢٤.
«يا معاذ! والله إني لأحبك أوصيك يا معاذ لا تدعن في دبر كل صلاة أن تقول: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں، اے معاذ! ہر نماز کے بعد یہ کہنا کبھی مت چھوڑنا: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7969
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ٢/٢٦٢، شرح الطحاوية ٣٣٥، صحيح أبي داود ١٣٦٢: ابن خزيمة.
«يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم الله بي وكنتم متفرقين فألفكم الله بي وكنتم عالة فأغناكم الله بي؟ أما ترضون أن يذهب الناس بالشاة والبعير وتذهبون بالنبي إلى رحالكم؟ لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا وشعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبها الأنصار شعار والناس دثار إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے گروہِ انصار! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ نے مجھ سے تمہیں ہدایت دی؟ اور تم بکھرے ہوئے تھے، پھر اللہ نے مجھ سے تمہیں جوڑ دیا؟ اور تم تنگ دست تھے، پھر اللہ نے مجھ سے تمہیں غنی کر دیا؟ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ بکری اور اونٹ لے کر جائیں اور تم نبی ﷺ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا، اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلتے تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلتا۔ انصار میرے لیے اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ اوپر کا لباس۔ میرے بعد تمہیں اپنے حق پر دوسروں کی ترجیح دی جائے گی، تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم حوض پر مجھ سے آ ملو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عبد الله بن زيد بن عاصم.