صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يا قبيصة! إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فتحل له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد أصاب فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ثم يمسك فما سواهن من المسألة فسحت يأكلها صاحبها سحتا»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے قبیصہ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی صلح کی خاطر دیت کی ذمہ داری اٹھائی ہو، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی ایسی آفت آئی ہو جس نے اس کا سارا مال ختم کر دیا ہو، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزارے کے لیے کچھ مل جائے۔ تیسرا وہ آدمی جسے ایسی محتاجی لاحق ہو کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ گواہی دیں کہ فلاں کو محتاجی لاحق ہو گئی ہے، تو اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزارے کے لیے کچھ مل جائے، پھر وہ رک جائے۔ ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے، اور مانگنے والا حرام مال کھاتا ہے۔“