حدیث نمبر: 7955
«يا عم! ألا أصلك؟ ألا أحبوك؟ ألا أنفعك؟ تصلي يا عم! أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل: الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع فقلها عشرا قبل أن تقوم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاث مائة في أربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك إن لم تستطع أن تصليها في كل يوم فصلها في كل جمعة فإن لم تستطع فصلها في كل شهر فإن لم تستطع فصلها في كل سنة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے چچا! کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں فائدہ نہ پہنچاؤں؟ اے چچا! تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب قراءت ختم ہو جائے تو رکوع کرنے سے پہلے پندرہ بار کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَسُبْحَانَ اللَّهِ» اور «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»۔ پھر رکوع کرو تو سر اٹھانے سے پہلے دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو سجدہ کرنے سے پہلے دس بار کہو، پھر سجدہ کرو تو سر اٹھانے سے پہلے دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو کھڑے ہونے سے پہلے دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو ہوئے۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر تم اسے ہر روز نہ پڑھ سکو تو ہر جمعہ پڑھ لو، اگر یہ بھی نہ کر سکو تو ہر مہینے پڑھ لو، اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو ہر سال پڑھ لو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مساجلة ٢٣، صحيح الترغيب ٦٧٨، المشكاة ١٣٢٨و ١٣٢٩.