حدیث نمبر: 7937
«يا عباس! يا عماه! ألا أعطيك؟ ألا أمنحك ألا أحبوك؟ ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته؟ عشر خصال: أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات فلوكانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرة فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جو اگر تم کرو تو اللہ تمہارے پہلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، غلطی سے اور جان بوجھ کر کیے گئے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف کر دے؟ وہ دس باتیں یہ ہیں: تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جاؤ اور کھڑے ہو تو پندرہ بار کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»۔ پھر رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں دس بار یہی کہو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر سجدے میں جھکو تو سجدے کی حالت میں دس بار کہو، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر کلمات ہوئے، یہ عمل چار رکعتوں میں کرو۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر ہو سکے تو اسے ہر روز ایک بار پڑھو، اگر نہ کر سکو تو ہر جمعہ ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر مہینے ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر سال ایک بار، اور اگر نہ کر سکو تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ وابن خزيمة ك] عن ابن عباس. المشكاة ١٣٢٨، ١٣٢٩، صحيح أبي داود ١١٧٣ - ١١٧٥.