«هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تو بس ایک انگلی ہی تو ہے جو زخمی ہوئی ہے، اور جو کچھ تجھے پیش آیا وہ اللہ کی راہ میں ہے۔“
”تو بس ایک انگلی ہی تو ہے جو زخمی ہوئی ہے، اور جو کچھ تجھے پیش آیا وہ اللہ کی راہ میں ہے۔“
«هل أنتم تاركوا لي أمرائي؟ لكم صفوة أمرهم وعليهم كدره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میرے امیروں کو میرے لیے چھوڑ دو گے؟ ان کے کام کا نتھرا ہوا حصہ تمہارے لیے ہے اور اس کا میلا حصہ ان پر ہے۔“
”کیا تم میرے امیروں کو میرے لیے چھوڑ دو گے؟ ان کے کام کا نتھرا ہوا حصہ تمہارے لیے ہے اور اس کا میلا حصہ ان پر ہے۔“
«هل أنتم تاركوا لي أمرائي؟ إنما مثلكم ومثلهم كمثل رجل استرعى إبلا أو غنما فرعاها ثم تحين سقيها فأوردها حوضا فشرعت فيه فشربت صفوه وتركت كدره فصفوه لكم وكدره عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میرے امیروں کو میرے لیے چھوڑ دو گے؟ تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لیے دی گئیں، اس نے انہیں چرایا، پھر پانی پلانے کا وقت آیا تو وہ انہیں ایک حوض پر لے آیا، وہ اس میں گھسیں اور اس کا صاف پانی پی لیا اور میلا پانی چھوڑ دیا، پس اس کا صاف حصہ تمہارے لیے ہے اور میلا حصہ ان پر ہے۔“
”کیا تم میرے امیروں کو میرے لیے چھوڑ دو گے؟ تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لیے دی گئیں، اس نے انہیں چرایا، پھر پانی پلانے کا وقت آیا تو وہ انہیں ایک حوض پر لے آیا، وہ اس میں گھسیں اور اس کا صاف پانی پی لیا اور میلا پانی چھوڑ دیا، پس اس کا صاف حصہ تمہارے لیے ہے اور میلا حصہ ان پر ہے۔“
«هل تدرون أين تغرب هذه؟ تغرب في عين حامية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ یہ ایک گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے۔“
”کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ یہ ایک گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے۔“
«هل تدرون ما الكوثر؟ هونهر أعطانيه ربي في الجنة عليه خير كثير ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكب يختلج العبد منهم فأقول: يا رب أنه من أمتي فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ یہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا فرمائی ہے، اس میں بہت خیر و برکت ہے، میری امت قیامت کے دن اس پر آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، ان میں سے ایک بندے کو اچانک کھینچ لیا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے، تو کہا جائے گا: تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیا نئے کام ایجاد کیے۔“
”کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ یہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا فرمائی ہے، اس میں بہت خیر و برکت ہے، میری امت قیامت کے دن اس پر آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، ان میں سے ایک بندے کو اچانک کھینچ لیا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے، تو کہا جائے گا: تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیا نئے کام ایجاد کیے۔“
"هل تدرون ماذا قال ربكم الليلة؟ قال الله: أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر فأما من قال: مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي كافر بالكواكب وأما من قال: مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي ومؤمن بالكواكب "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے کچھ نے صبح اس حال میں کی کہ وہ مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور کچھ نے کافر ہو کر۔ پس جس نے کہا: ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش دی گئی، تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے، اور جس نے کہا: ہمیں فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش دی گئی، تو وہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔“
”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے کچھ نے صبح اس حال میں کی کہ وہ مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور کچھ نے کافر ہو کر۔ پس جس نے کہا: ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش دی گئی، تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے، اور جس نے کہا: ہمیں فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش دی گئی، تو وہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔“
«هل ترون قبلتي هاهنا؟ فوالله ما يخفي على خشوعكم ولا ركوعكم إني لأراكم من وراء ظهري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم دیکھتے ہو کہ میرا قبلہ صرف یہاں سامنے ہے؟ اللہ کی قسم! تمہاری خشوع اور تمہارا رکوع مجھ سے مخفی نہیں رہتا، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
”کیا تم دیکھتے ہو کہ میرا قبلہ صرف یہاں سامنے ہے؟ اللہ کی قسم! تمہاری خشوع اور تمہارا رکوع مجھ سے مخفی نہیں رہتا، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
«هل ترون ما أرى؟ إني لأرى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع القطر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں؟ بلاشبہ میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے گرنے کی جگہیں اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔“
”کیا تم وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں؟ بلاشبہ میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے گرنے کی جگہیں اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔“
" هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب؟ وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب؟ ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن: ليتبع كل أمة ما كانت تعبد فلا يبقى أحد كان يعبد غير الله من الأصنام والأنصاب إلا يتساقطون في النار حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر وغير أهل الكتاب فيدعى اليهود فيقال لهم: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد عزيرا ابن الله! فيقال: كذبتم ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد فماذا تبغون؟ قالوا: عطشنا يا ربنا فاسقنا فيشار إليهم: ألا تردون؟ فيحشرون إلى النار كأنها سراب يحطم بعضها بعضا فيتساقطون في النار ; ثم يدعى النصارى فيقال لهم: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد المسيح ابن الله! فيقال لهم: كذبتم ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد فيقال لهم: ماذا تبغون؟ فيقولون: عطشنا يا ربنا فاسقنا فيشار إليهم: ألا تردون؟ فيحشرون إلى جهنم كأنها سراب يحطم بعضها بعضا فيتساقطون في النار حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر أتاهم رب العالمين في أدنى صورة من التي رأوه فيها قال: فما تنتظرون؟ تتبع كل أمة ما كانت تعبد قالوا: يا ربنا فارقنا الناس في الدنيا أفقر ما كنا إليهم ولم نصاحبهم فيقول: أنا ربكم قيقولون: نعوذ بالله منك لا نشرك بالله شيئا مرتين أو ثلاثا حتى إن بعضهم ليكاد أن ينقلب فيقول: هل بينكم وبينه آية فتعرفونه بها؟ فيقولون: نعم الساق فيكشف عن ساق فلا يبقي من كان يسجد لله من تلقاء نفسه إلا أذن الله له بالسجود ولا يبقى من كان يسجد اتقاء ورياء إلا جعل الله ظهره طبقة واحدة كلما أراد أن يسجد خر على قفاه ثم يرفعون رءوسهم وقد تحول في الصورة التي رأوه فيها أول مرة فيقول: أنا ربكم فيقولون: أنت ربنا ; ثم يضرب الجسر على جهنم وتحل الشفاعة ويقولون: اللهم سلم سلم قيل: يا رسول الله وما الجسر؟ قال: دحض مزلة فيه خطاطيف وكلاليب وحسكة تكون بنجد فيها شويكة يقال لها: السعدان فيمر المؤمنون كطرف العين وكالبرق وكالريح وكالطير وكأجأويد الخيل والركاب فناج مسلم ومخدوش مرسل ومكدوس في نار جهنم حتى إذا خلص المؤمنون من النار فوالذي نفسي بيده ما من أحد منكم بأشد مناشدة لله في استيفاء الحق من المؤمنين لله يوم القيامة لإخوانهم الذين في النار يقولون: ربنا كانوا يصومون معنا ويصلون ويحجون فيقال لهم: أخرجوا من عرفتم فتحرم صورهم على النار فيخرجون خلقا كثيرا قد أخذت النار إلى نصف ساقه وإلى ركبتيه قيقولون: ربنا ما بقي فيها أحد ممن أمرتنا به ; فيقول الله عز وجل: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال دينار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون ربنا لم نذر فيها أحدا ممن أمرتنا به ; ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال نصف دينار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون: ربنا لم نذر فيها ممن أمرتنا أحدا ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال ذرة من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثير ثم يقولون: ربنا! لم نذر فيها خيرا فيقول الله: شفعت الملائكة وشفع النبيون وشفع المؤمنون ولم يبق إلا أرحم الراحمين فيقبض قبضة من النار فيخرج منها قوما لم يعملوا خير قط قد عادوا حمما فيلقيهم في نهر في أفواه الجنة يقال له: نهر الحياة فيخرجون كما تخرج الحبة في حميل السيل ألا ترونها تكون إلى الحجر أو الشجر ما يكون إلى الشمس أصيفر وأخيضر وما يكون منها إلى الظل يكون أبيض فيخرجون كاللؤلؤ في رقابهم الخواتيم يعرفهم أهل الجنة: هؤلاء عتقاء الله من النار الذين أدخلهم الجنة بغير عمل عملوه ولا خير قدموه ثم يقول: أدخلوا الجنة فما رأيتموه فهو لكم فيقولون: ربنا أعطيتنا ما لم تعط أحدا من العالمين فيقول: لكم عندي أفضل من هذا؟ فيقولون: يا ربنا أي شيء أفضل من هذا؟ فيقول: رضاي فلا أسخط عليكم بعده أبدا "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ اور کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ تمہیں قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا اعلان کرے گا: ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ پس اللہ کے سوا بتوں اور تھانوں کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا مگر وہ جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار، اور اہلِ کتاب کے کچھ لوگ۔ پھر یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم عزیر کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم اس طرف نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم مسیح کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! ان سے کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، ان سے کہا جائے گا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار۔ تب رب العالمین ان کے پاس اس صورت سے مختلف صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلے دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! دنیا میں ہم لوگوں سے اس وقت جدا ہوئے جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اور ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، دو یا تین بار یہی کہیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض قریب ہوں گے کہ ایمان سے پھر جائیں۔ وہ فرمائے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس سے تم اسے پہچان لو؟ وہ کہیں گے: ہاں، پنڈلی۔ تو وہ اپنی پنڈلی کھول دے گا، پس جو بھی خلوصِ دل سے اللہ کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا وہ باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اسے سجدہ کرنے کی اجازت دے گا، اور جو ڈر یا دکھاوے کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا اس کی پیٹھ کو اللہ ایک ہی سخت تختہ بنا دے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو اپنی گدی کے بل گر پڑے گا۔ پھر وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو وہ اسی صورت میں بدل چکا ہوگا جس میں انہوں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم پر پل باندھا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی، اور وہ کہیں گے: اے اللہ! سلامتی رکھ، سلامتی رکھ۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! پل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھسلنے کی جگہ ہے، اس پر آنکڑے اور کانٹے دار چیزیں ہیں، اور ایک خاردار پودا ہے جو نجد میں ہوتا ہے جسے سعدان کہا جاتا ہے۔ مومن اس پر آنکھ جھپکنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، پرندے کی طرح، اور عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزریں گے، پس کوئی صحیح سالم بچ نکلنے والا ہوگا، کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جانے والا، اور کوئی جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جانے والا۔ یہاں تک کہ جب مومن آگ سے نجات پا جائیں گے، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اللہ سے اتنی زیادہ التجا نہیں کرتا جتنی مومن قیامت کے دن اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے کریں گے جو جہنم میں ہوں گے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: جسے پہچانتے ہو اسے نکال لو، تو ان کے چہرے آگ پر حرام کر دیے جائیں گے، پس وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے جنہیں آگ نے آدھی پنڈلی اور گھٹنوں تک جلا رکھا ہوگا۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کوئی بھلائی نہیں چھوڑی۔ اللہ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی، اور مومنوں نے سفارش کی، اور اب صرف سب سے زیادہ رحم کرنے والا باقی رہ گیا ہے۔ پس وہ آگ میں سے ایک مٹھی بھر لے گا اور اس میں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے، پھر انہیں جنت کے دہانوں پر بہنے والی ایک نہر میں ڈال دے گا جسے نہرِ حیات کہا جاتا ہے، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو پودا پتھر یا درخت کے سایہ دار جانب ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے اور جو دھوپ کی طرف ہوتا ہے وہ زردی یا سبزی مائل ہوتا ہے؟ پس وہ موتیوں کی طرح نکل آئیں گے، ان کی گردنوں میں پہچان کی مہریں ہوں گی، اہلِ جنت انہیں پہچان کر کہیں گے: یہ اللہ کے وہ آزاد کردہ لوگ ہیں جنہیں اس نے بغیر کسی عمل کے، جو انہوں نے کیا ہو، اور بغیر کسی نیکی کے، جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جو کچھ تم دیکھو وہ تمہارا ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ عطا کیا ہے جو تو نے دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: کیا میرے پاس تمہارے لیے اس سے بھی بہتر کوئی چیز ہے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے بہتر بھلا کیا چیز ہو سکتی ہے؟ وہ فرمائے گا: میری رضا، میں اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“
”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ اور کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ تمہیں قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا اعلان کرے گا: ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ پس اللہ کے سوا بتوں اور تھانوں کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا مگر وہ جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار، اور اہلِ کتاب کے کچھ لوگ۔ پھر یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم عزیر کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم اس طرف نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم مسیح کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! ان سے کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، ان سے کہا جائے گا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار۔ تب رب العالمین ان کے پاس اس صورت سے مختلف صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلے دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! دنیا میں ہم لوگوں سے اس وقت جدا ہوئے جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اور ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، دو یا تین بار یہی کہیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض قریب ہوں گے کہ ایمان سے پھر جائیں۔ وہ فرمائے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس سے تم اسے پہچان لو؟ وہ کہیں گے: ہاں، پنڈلی۔ تو وہ اپنی پنڈلی کھول دے گا، پس جو بھی خلوصِ دل سے اللہ کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا وہ باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اسے سجدہ کرنے کی اجازت دے گا، اور جو ڈر یا دکھاوے کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا اس کی پیٹھ کو اللہ ایک ہی سخت تختہ بنا دے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو اپنی گدی کے بل گر پڑے گا۔ پھر وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو وہ اسی صورت میں بدل چکا ہوگا جس میں انہوں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم پر پل باندھا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی، اور وہ کہیں گے: اے اللہ! سلامتی رکھ، سلامتی رکھ۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! پل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھسلنے کی جگہ ہے، اس پر آنکڑے اور کانٹے دار چیزیں ہیں، اور ایک خاردار پودا ہے جو نجد میں ہوتا ہے جسے سعدان کہا جاتا ہے۔ مومن اس پر آنکھ جھپکنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، پرندے کی طرح، اور عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزریں گے، پس کوئی صحیح سالم بچ نکلنے والا ہوگا، کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جانے والا، اور کوئی جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جانے والا۔ یہاں تک کہ جب مومن آگ سے نجات پا جائیں گے، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اللہ سے اتنی زیادہ التجا نہیں کرتا جتنی مومن قیامت کے دن اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے کریں گے جو جہنم میں ہوں گے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: جسے پہچانتے ہو اسے نکال لو، تو ان کے چہرے آگ پر حرام کر دیے جائیں گے، پس وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے جنہیں آگ نے آدھی پنڈلی اور گھٹنوں تک جلا رکھا ہوگا۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کوئی بھلائی نہیں چھوڑی۔ اللہ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی، اور مومنوں نے سفارش کی، اور اب صرف سب سے زیادہ رحم کرنے والا باقی رہ گیا ہے۔ پس وہ آگ میں سے ایک مٹھی بھر لے گا اور اس میں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے، پھر انہیں جنت کے دہانوں پر بہنے والی ایک نہر میں ڈال دے گا جسے نہرِ حیات کہا جاتا ہے، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو پودا پتھر یا درخت کے سایہ دار جانب ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے اور جو دھوپ کی طرف ہوتا ہے وہ زردی یا سبزی مائل ہوتا ہے؟ پس وہ موتیوں کی طرح نکل آئیں گے، ان کی گردنوں میں پہچان کی مہریں ہوں گی، اہلِ جنت انہیں پہچان کر کہیں گے: یہ اللہ کے وہ آزاد کردہ لوگ ہیں جنہیں اس نے بغیر کسی عمل کے، جو انہوں نے کیا ہو، اور بغیر کسی نیکی کے، جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جو کچھ تم دیکھو وہ تمہارا ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ عطا کیا ہے جو تو نے دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: کیا میرے پاس تمہارے لیے اس سے بھی بہتر کوئی چیز ہے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے بہتر بھلا کیا چیز ہو سکتی ہے؟ وہ فرمائے گا: میری رضا، میں اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“
" هل تضارون في رؤية الشمس في الظهيرة ليست في سحابة؟ هل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر ليس في سحابة؟ فوالذي نفسي بيده لا تضارون في رؤية ربكم عز وجل إلا كما تضارون في رؤية أحدهما فيلقى العبد فيقول: أي فل ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل وأذرك ترأس وتربع؟ فيقول: بلى أي رب فيقول: أفظننت أنك ملاقي؟ فيقول: لا فيقول: إني أنساك كما نسيتني; ثم يلقى الثاني فيقول له: أي فل؟ ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل وأذرك ترأس وتربع؟ فيقول: بلى أي رب! فيقول: أفظننت أنك ملاقي؟ فيقول: لا فيقول: إني أنساك كما نسيتني; ثم يلقى الثالث فيقول له مثل ذلك فيقول: رب آمنت بك وبكتابك وبرسلك وصليت وصمت وتصدقت ويثني بخير ما استطاع فيقول: هاهنا إذن ثم يقال: الآن نبعث شاهدا عليك ويتفكر في نفسه: من ذا الذي يشهد علي؟ فيختم على فيه ويقال لفخذه: انطقي فتنطق فخذه ولحمه وعظامه بعمله وذلك ليعذر من نفسه وذلك المنافق الذي يسخط الله عليه "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جبکہ کوئی بادل نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو، جبکہ کوئی بادل نہ ہو، دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ پھر بندے سے ملاقات ہوگی اور اللہ فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی، تجھے سردار نہیں بنایا، تیری شادی نہیں کروائی، تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے، اور تجھے سرداری کرنے اور آرام سے رہنے نہیں دیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ فرمائے گا: کیا تجھے یہ گمان تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: میں بھی تجھے اسی طرح بھلا دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر دوسرے سے ملاقات ہوگی، اللہ اس سے بھی فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی، تجھے سردار نہیں بنایا، تیری شادی نہیں کروائی، تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے، اور تجھے سرداری کرنے اور آرام سے رہنے نہیں دیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ فرمائے گا: کیا تجھے یہ گمان تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: میں بھی تجھے اسی طرح بھلا دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر تیسرے سے ملاقات ہوگی، اللہ اس سے بھی وہی فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزے رکھے اور صدقہ دیا، اور وہ جس قدر ہو سکے اپنی تعریف کرے گا۔ اللہ فرمائے گا: اچھا، یہیں ٹھہرو۔ پھر کہا جائے گا: اب ہم تیرے خلاف ایک گواہ بھیجتے ہیں، تو وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے خلاف گواہی کون دے گا؟ پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا: بول! تو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ یہ اس لیے ہوگا تاکہ وہ اپنے آپ سے کوئی عذر پیش نہ کر سکے، اور یہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ ناراض ہوگا۔“
”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جبکہ کوئی بادل نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو، جبکہ کوئی بادل نہ ہو، دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ پھر بندے سے ملاقات ہوگی اور اللہ فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی، تجھے سردار نہیں بنایا، تیری شادی نہیں کروائی، تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے، اور تجھے سرداری کرنے اور آرام سے رہنے نہیں دیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ فرمائے گا: کیا تجھے یہ گمان تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: میں بھی تجھے اسی طرح بھلا دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر دوسرے سے ملاقات ہوگی، اللہ اس سے بھی فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی، تجھے سردار نہیں بنایا، تیری شادی نہیں کروائی، تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے، اور تجھے سرداری کرنے اور آرام سے رہنے نہیں دیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ فرمائے گا: کیا تجھے یہ گمان تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: میں بھی تجھے اسی طرح بھلا دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر تیسرے سے ملاقات ہوگی، اللہ اس سے بھی وہی فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزے رکھے اور صدقہ دیا، اور وہ جس قدر ہو سکے اپنی تعریف کرے گا۔ اللہ فرمائے گا: اچھا، یہیں ٹھہرو۔ پھر کہا جائے گا: اب ہم تیرے خلاف ایک گواہ بھیجتے ہیں، تو وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے خلاف گواہی کون دے گا؟ پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا: بول! تو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ یہ اس لیے ہوگا تاکہ وہ اپنے آپ سے کوئی عذر پیش نہ کر سکے، اور یہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ ناراض ہوگا۔“
" هل تمارون في القمر ليلة البدر ليس دونه سحاب؟ هل تمارون في رؤية الشمس ليس دونها سحاب؟ فإنكم ترونه كذلك يحشر الله الناس يوم القيامة فيقول: من كان يعبد شيئا فليتبعه فيتبع من كان يعبد الشمس الشمس ويتبع من كان يعبد القمر القمر ويتبع من كان يعبد الطواغيت الطواغيت وتبقى هذه الأمة فيها منافقوها; فيأتيهم الله في صورة غير صورته التي يعرفون فيقول: أنا ربكم فيقولون: نعوذ بالله منك هذا مكاننا حتى يأتينا ربنا فإذا جاءنا عرفناه فيأتيهم الله في صورته التي يعرفون فيقول: أنا ربكم فيقولون: أنت ربنا فيتبعونه; ويضرب الصراط بين ظهراني جهنم فأكون أول من يجوز من الرسل بأمته ولا يتكلم يومئذ أحد إلا الرسل وكلام الرسل يومئذ: اللهم سلم سلم وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان غير أنه لا يعلم ما قدر عظمها إلا الله تخطف الناس بأعمالهم فمنهم من يوبق بعمله ومنهم من يخردل ثم ينجوحتى إذا فرغ الله من القضاء بين العباد وأراد أن يخرج برحمته من أراد من أهل النار أمر الملائكة أن يخرجوا من النار من كان لا يشرك بالله شيئا ممن يقول لا إله إلا الله فيخرجونهم ويعرفونهم بآثار السجود وحرم الله على النار أن تأكل آثار السجود فيخرجون من النار وقد امتحشوا فيصب عليهم ماء الحياة فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل ثم يفرغ الله من القضاء بين العباد ويبقى رجل بين الجنة والنار وهو آخر أهل النار دخولا الجنة مقبلا بوجهه قبل النار فيقول: يا رب اصرف وجهي عن النار فقد قشبني ريحها وأحرقني ذكاؤها فيقول: هل عسيت إن فعل ذلك بك أن تسأل غير ذلك فيقول: لا وعزتك فيعطي الله ما يشاء من عهد وميثاق، فيصرف الله وجهه عن النار فإذا أقبل به على الجنة ورأى بهجتها سكت ما شاء الله أن يسكت ثم قال: يا رب! قدمني عند باب الجنة فيقول الله: أليس قد أعطيت العهد والميثاق أن لا تسأل غير الذي كنت سألت؟ فيقول: يا رب لا أكون أشقى خلقك فيقول: فما عسيت إن أعطيتك ذلك أن لا تسأل غيره؟ فيقول لا وعزتك لا أسألك غير ذلك فيعطى ربه ما شاء من عهد وميثاق فيقدمه إلى باب الجنة فإذا بلغ بابها فرأى زهرتها وما فيها من النضرة والسرور ; فيسكت ما شاء الله أن يسكت فيقول: يا رب أدخلني الجنة فيقول الله: ويحك يا ابن آدم! ما أغدرك! أليس قد أعطيت العهد والميثاق أن لا تسأل غير الذي أعطيت؟ فيقول: يا رب لا تجعلني أشقى خلقك فيضحك الله منه ثم يأذن له في دخول الجنة فيقول: تمن فيتمني حتى إذا انقطعت أمنيته قال الله تعالى: زد من كذا وكذا أقبل يذكره ربه حتى إذا انتهت به الأماني قال الله عز وجل: لك ذلك ومثله معه "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے بارے میں کوئی شک ہوتا ہے جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو؟ کیا تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو؟ بلاشبہ تم اسے اسی طرح دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور فرمائے گا: جو جس چیز کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کی پیروی کرے، پس جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ سورج کی پیروی کرے گا، جو چاند کی عبادت کرتا تھا وہ چاند کی پیروی کرے گا، اور جو طاغوتوں کی عبادت کرتا تھا وہ طاغوتوں کی پیروی کرے گا۔ اور یہ امت باقی رہ جائے گی، اس میں اس کے منافق بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئے گا جو ان کی پہچانی ہوئی صورت سے مختلف ہوگی، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آئے، جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اسی صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہیں، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے، پس وہ اس کی پیروی کریں گے۔ اور جہنم کے درمیان پل رکھا جائے گا، اور میں پہلا رسول ہوں گا جو اپنی امت کے ساتھ اسے پار کرے گا۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی کلام نہیں کرے گا، اور اس دن رسولوں کا کلام یہی ہوگا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» (اے اللہ! سلامتی رکھ، سلامتی رکھ)۔ جہنم میں سعدان کے کانٹوں جیسے آنکڑے ہوں گے، سوائے اس کے کہ ان کے بڑے پن کا اندازہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے۔ پس ان میں سے کوئی اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا، اور کوئی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر بچ نکلے گا۔ یہاں تک کہ جب اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکے گا، اور اپنی رحمت سے جہنمیوں میں سے جسے چاہے گا نکالنا چاہے گا، تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہتا تھا اسے آگ سے نکال لیں، پس وہ انہیں نکالیں گے اور سجدوں کے نشانات سے انہیں پہچانیں گے۔ اور اللہ نے آگ پر سجدوں کے نشانات کو جلانا حرام کر دیا ہے۔ پس وہ آگ سے اس حال میں نکلیں گے کہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، تو ان پر آبِ حیات ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ پھر اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو جائے گا، اور جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی باقی رہ جائے گا، وہ جہنمیوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا ہوگا، اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے، اس کی بو نے مجھے بیمار کر دیا ہے اور اس کے شعلے نے مجھے جھلسا دیا ہے۔ اللہ فرمائے گا: اگر میں تیرے ساتھ ایسا کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم۔ پس وہ اللہ کو جو عہد و پیمان چاہے گا دے دے گا، تو اللہ اس کا چہرہ آگ سے پھیر دے گا۔ پھر جب اسے جنت کی طرف متوجہ کیا جائے گا اور وہ اس کی رونق دیکھے گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ فرمائے گا: کیا تو نے یہ عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا جو تو نے مانگا تھا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! ایسا نہ ہو کہ میں تیری مخلوق میں سب سے بدنصیب بن جاؤں۔ اللہ فرمائے گا: اگر میں تجھے یہ دے دوں تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ پس وہ اپنے رب کو جو عہد و پیمان چاہے گا دے دے گا، تو وہ اسے جنت کے دروازے تک لے آئے گا۔ پھر جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے گا اور اس کی رونق اور اس میں موجود تازگی اور خوشی دیکھے گا، تو جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ فرمائے گا: تجھ پر افسوس، اے ابنِ آدم! تو کتنا بدعہد ہے! کیا تو نے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ جو تجھے دیا گیا اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بدنصیب نہ بنا۔ تو اللہ اس پر ہنس دے گا، پھر اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔ اللہ فرمائے گا: آرزو کر۔ تو وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں فلاں چیز اور بھی مانگ، اس کا رب اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ عزوجل فرمائے گا: یہ سب تیرے لیے ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔“
”کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے بارے میں کوئی شک ہوتا ہے جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو؟ کیا تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو؟ بلاشبہ تم اسے اسی طرح دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور فرمائے گا: جو جس چیز کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کی پیروی کرے، پس جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ سورج کی پیروی کرے گا، جو چاند کی عبادت کرتا تھا وہ چاند کی پیروی کرے گا، اور جو طاغوتوں کی عبادت کرتا تھا وہ طاغوتوں کی پیروی کرے گا۔ اور یہ امت باقی رہ جائے گی، اس میں اس کے منافق بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئے گا جو ان کی پہچانی ہوئی صورت سے مختلف ہوگی، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آئے، جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اسی صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہیں، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے، پس وہ اس کی پیروی کریں گے۔ اور جہنم کے درمیان پل رکھا جائے گا، اور میں پہلا رسول ہوں گا جو اپنی امت کے ساتھ اسے پار کرے گا۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی کلام نہیں کرے گا، اور اس دن رسولوں کا کلام یہی ہوگا: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» (اے اللہ! سلامتی رکھ، سلامتی رکھ)۔ جہنم میں سعدان کے کانٹوں جیسے آنکڑے ہوں گے، سوائے اس کے کہ ان کے بڑے پن کا اندازہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے۔ پس ان میں سے کوئی اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا، اور کوئی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر بچ نکلے گا۔ یہاں تک کہ جب اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکے گا، اور اپنی رحمت سے جہنمیوں میں سے جسے چاہے گا نکالنا چاہے گا، تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہتا تھا اسے آگ سے نکال لیں، پس وہ انہیں نکالیں گے اور سجدوں کے نشانات سے انہیں پہچانیں گے۔ اور اللہ نے آگ پر سجدوں کے نشانات کو جلانا حرام کر دیا ہے۔ پس وہ آگ سے اس حال میں نکلیں گے کہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، تو ان پر آبِ حیات ڈالا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ پھر اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو جائے گا، اور جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی باقی رہ جائے گا، وہ جہنمیوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا ہوگا، اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے، اس کی بو نے مجھے بیمار کر دیا ہے اور اس کے شعلے نے مجھے جھلسا دیا ہے۔ اللہ فرمائے گا: اگر میں تیرے ساتھ ایسا کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم۔ پس وہ اللہ کو جو عہد و پیمان چاہے گا دے دے گا، تو اللہ اس کا چہرہ آگ سے پھیر دے گا۔ پھر جب اسے جنت کی طرف متوجہ کیا جائے گا اور وہ اس کی رونق دیکھے گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ فرمائے گا: کیا تو نے یہ عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا جو تو نے مانگا تھا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! ایسا نہ ہو کہ میں تیری مخلوق میں سب سے بدنصیب بن جاؤں۔ اللہ فرمائے گا: اگر میں تجھے یہ دے دوں تو کیا تو اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ پس وہ اپنے رب کو جو عہد و پیمان چاہے گا دے دے گا، تو وہ اسے جنت کے دروازے تک لے آئے گا۔ پھر جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے گا اور اس کی رونق اور اس میں موجود تازگی اور خوشی دیکھے گا، تو جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ فرمائے گا: تجھ پر افسوس، اے ابنِ آدم! تو کتنا بدعہد ہے! کیا تو نے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ جو تجھے دیا گیا اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بدنصیب نہ بنا۔ تو اللہ اس پر ہنس دے گا، پھر اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔ اللہ فرمائے گا: آرزو کر۔ تو وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں فلاں چیز اور بھی مانگ، اس کا رب اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ عزوجل فرمائے گا: یہ سب تیرے لیے ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔“
«هل تنصرون إلا بضعفائكم؟ بدعوتهم وإخلاصهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں تمہارے کمزوروں کے سوا کسی اور کے ذریعے مدد دی جاتی ہے؟ ان کی دعا اور اخلاص کی بدولت۔“
”کیا تمہیں تمہارے کمزوروں کے سوا کسی اور کے ذریعے مدد دی جاتی ہے؟ ان کی دعا اور اخلاص کی بدولت۔“
«هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں تمہارے کمزوروں کے سوا کسی اور کے ذریعے مدد اور رزق دیا جاتا ہے؟“
”کیا تمہیں تمہارے کمزوروں کے سوا کسی اور کے ذریعے مدد اور رزق دیا جاتا ہے؟“
" هل قرأ معي أحد منكم آنفا؟ إني أقول: مالي أنازع القرآن؟!
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرآت کی؟ میں اپنے دل میں کہتا ہوں: مجھے کیا ہو گیا کہ قرآن کی تلاوت میں مجھ سے جھگڑا کیا جا رہا ہے؟!“
”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرآت کی؟ میں اپنے دل میں کہتا ہوں: مجھے کیا ہو گیا کہ قرآن کی تلاوت میں مجھ سے جھگڑا کیا جا رہا ہے؟!“
«هل منكم رجل إذ أتى أهله فأغلق عليه بابه وألقى عليه ستره واستتر بستر الله؟ قالوا: نعم قال: ثم يجلس بعد ذلك فيقول: فعلت كذا فعلت كذا فسكتوا ثم أقبل على النساء فقال: هل منكن من تحدث؟ فسكتن فجثت فتاة كعاب على إحدى ركبتيها وتطأولت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ليراها ويسمع كلامها فقالت: يا رسول الله! إنهم ليحدثون وإنهن ليحدثن فقال: هل تدرون ما مثل ذلك؟ إنما مثل ذلك مثل شيطانة لقيت شيطانا في السكة فقضى حاجته والناس ينظرون إليه! ألا إن طيب الرجال ما ظهر ريحه ولم يظهر لونه ألا إن طيب النساء ما ظهر لونه ولم يظهر ريحه ألا لا يفضين رجل إلى رجل ولا امرأة إلى امرأة إلا إلى ولد أو والد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو اپنا دروازہ بند کر لے، پردہ ڈال لے، اور اللہ کے پردے میں چھپ جائے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ اس کے بعد بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں نے یوں کیا، میں نے یوں کیا؛ تو وہ سب خاموش ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسی بات کرتی ہے؟ وہ بھی خاموش ہو گئیں، تو ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے پر بیٹھ گئی اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے اور اپنی بات سنانے کے لیے اونچی ہوئی اور کہا: یا رسول اللہ! مرد بھی یہ باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے اس کی مثال کیا ہے؟ اس کی مثال تو بس اس شیطانہ جیسی ہے جو راستے میں ایک شیطان سے ملی اور اس نے لوگوں کے دیکھتے ہوئے اپنی حاجت پوری کر لی! خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک ظاہر نہ ہو۔ خبردار! کوئی مرد کسی مرد کے قریب نہ جائے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے، سوائے اولاد یا والدین کے سامنے۔“
”کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو اپنا دروازہ بند کر لے، پردہ ڈال لے، اور اللہ کے پردے میں چھپ جائے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ اس کے بعد بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں نے یوں کیا، میں نے یوں کیا؛ تو وہ سب خاموش ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسی بات کرتی ہے؟ وہ بھی خاموش ہو گئیں، تو ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے پر بیٹھ گئی اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے اور اپنی بات سنانے کے لیے اونچی ہوئی اور کہا: یا رسول اللہ! مرد بھی یہ باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے اس کی مثال کیا ہے؟ اس کی مثال تو بس اس شیطانہ جیسی ہے جو راستے میں ایک شیطان سے ملی اور اس نے لوگوں کے دیکھتے ہوئے اپنی حاجت پوری کر لی! خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک ظاہر نہ ہو۔ خبردار! کوئی مرد کسی مرد کے قریب نہ جائے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے، سوائے اولاد یا والدین کے سامنے۔“
«هلاك أمتي على يدي غلمة من قريش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی ہلاکت قریش کے کچھ نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی۔“
”میری امت کی ہلاکت قریش کے کچھ نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی۔“
«هلك المتنطعون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہلاک ہو گئے۔“
”دین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہلاک ہو گئے۔“
«هلك كسرى ثم لا يكون كسرى بعده وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده وليقسمن كنوزهما في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسریٰ ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور قیصر ضرور ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اور ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔“
”کسریٰ ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور قیصر ضرور ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اور ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔“
«هلا أخذتم إهابها فدبغتموه فانتفعتم به؟ إنما حرم أكلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی، اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اس کا صرف کھانا حرام کیا گیا ہے۔“
”تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی، اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اس کا صرف کھانا حرام کیا گیا ہے۔“
«هلا تركتموه لعله أن يتوب فيتوب الله عليه» .؟ - يعني ماعزا -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے اسے (ماعز کو) کیوں نہ چھوڑ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“
”تم نے اسے (ماعز کو) کیوں نہ چھوڑ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“
«هلم إلى الغداء المبارك» - يعني السحور -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آؤ برکت والے ناشتے یعنی سحری کی طرف۔“
”آؤ برکت والے ناشتے یعنی سحری کی طرف۔“
«هلم إلى جهاد لا شوكة فيه: الحج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آؤ اس جہاد کی طرف جس میں لڑائی نہیں: وہ حج ہے۔“
”آؤ اس جہاد کی طرف جس میں لڑائی نہیں: وہ حج ہے۔“
«هما ريحانتاي من الدنيا» - يعني الحسن والحسين -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ دونوں (حسن اور حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔“
”یہ دونوں (حسن اور حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔“
«هم الأخسرون ورب الكعبة هم الأخسرون ورب الكعبة يوم القيامة الأكثرون إلا من قال في عباد الله هكذا وهكذا وقليل ما هم والذي نفسي بيده ما من رجل يموت يترك غنما أو إبلا أو بقرا لم يؤد زكاتها إلا جاءته يوم القيامة أعظم ما يكون وأسمنه حتى تطأه بأظلافها وتنطحه بقرونها حتى يقضي بين الناس كلما تقدمت أخراها عادت أولاها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ مال والے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے بندوں میں یوں اور یوں کر کے خرچ کرے، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو آدمی بکریاں، اونٹ یا گائے چھوڑ کر مرے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو وہ قیامت کے دن اس کے پاس اپنی سب سے بڑی اور موٹی حالت میں آئیں گے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے، جب بھی ان کا آخری جانور گزر جائے گا تو پہلا واپس آ جائے گا۔“
”کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ مال والے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے بندوں میں یوں اور یوں کر کے خرچ کرے، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو آدمی بکریاں، اونٹ یا گائے چھوڑ کر مرے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو وہ قیامت کے دن اس کے پاس اپنی سب سے بڑی اور موٹی حالت میں آئیں گے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے، جب بھی ان کا آخری جانور گزر جائے گا تو پہلا واپس آ جائے گا۔“
«هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد» - يعني الالتفات -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا وہ چیز ہے جسے شیطان بندے کی نماز میں سے چرا لیتا ہے۔“
”یہ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا وہ چیز ہے جسے شیطان بندے کی نماز میں سے چرا لیتا ہے۔“
«هو الطهور ماؤه الحل ميتته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار بھی حلال ہے۔“
”اس سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار بھی حلال ہے۔“
«هو حر كله ليس لله شريك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ پورا آزاد ہے، اللہ کا کوئی شریک نہیں۔“
”وہ پورا آزاد ہے، اللہ کا کوئی شریک نہیں۔“
«هو عليها صدقة وهو منها لنا هدية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے اور یہ اسی میں سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
”یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے اور یہ اسی میں سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
«هو في ضحضاح من نار ولولا أنا لكان في الدرك الأسفل من النار» - يعني أبا طالب -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ (ابوطالب) آگ کے ایک اتھلے حصے میں ہیں، اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔“
”وہ (ابوطالب) آگ کے ایک اتھلے حصے میں ہیں، اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔“
«هون عليك فإني لست بملك إنما أنا ابن امرأة من قريش كانت تأكل القديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آپ پر نرمی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔“
”اپنے آپ پر نرمی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔“
«الهجرة هجرتان: هجرة الحاضر وهجرة البادي فأما البادي فيجيب إذا دعي ويطيع إذا أمر وأما الحاضر فهو أعظمهما بلية وأعظمهما أجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہجرت دو قسم کی ہے: شہری کی ہجرت اور بدوی کی ہجرت۔ بدوی تو یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ لبیک کہے اور جب اسے حکم دیا جائے تو اطاعت کرے، اور شہری کی ہجرت دونوں میں سے زیادہ آزمائش والی اور زیادہ اجر والی ہے۔“
”ہجرت دو قسم کی ہے: شہری کی ہجرت اور بدوی کی ہجرت۔ بدوی تو یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ لبیک کہے اور جب اسے حکم دیا جائے تو اطاعت کرے، اور شہری کی ہجرت دونوں میں سے زیادہ آزمائش والی اور زیادہ اجر والی ہے۔“
«الهدية إلى الإمام غلول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حکمران کو دیا گیا تحفہ خیانت کا مال ہے۔“
”حکمران کو دیا گیا تحفہ خیانت کا مال ہے۔“