حدیث نمبر: 7046
«هم الأخسرون ورب الكعبة هم الأخسرون ورب الكعبة يوم القيامة الأكثرون إلا من قال في عباد الله هكذا وهكذا وقليل ما هم والذي نفسي بيده ما من رجل يموت يترك غنما أو إبلا أو بقرا لم يؤد زكاتها إلا جاءته يوم القيامة أعظم ما يكون وأسمنه حتى تطأه بأظلافها وتنطحه بقرونها حتى يقضي بين الناس كلما تقدمت أخراها عادت أولاها»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے بڑے خسارے میں ہیں، یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ مال والے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے بندوں میں یوں اور یوں کر کے خرچ کرے، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو آدمی بکریاں، اونٹ یا گائے چھوڑ کر مرے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو وہ قیامت کے دن اس کے پاس اپنی سب سے بڑی اور موٹی حالت میں آئیں گے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے، جب بھی ان کا آخری جانور گزر جائے گا تو پہلا واپس آ جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الهاء / حدیث: 7046
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أبي ذر.