صحیح الجامع الصغیر
حرف الهاء— حرف ہا
الأحاديث المبدوءة بحرف الهاء باب: حرف ہا سے شروع ہونے والی احادیث
" هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب؟ وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب؟ ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن: ليتبع كل أمة ما كانت تعبد فلا يبقى أحد كان يعبد غير الله من الأصنام والأنصاب إلا يتساقطون في النار حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر وغير أهل الكتاب فيدعى اليهود فيقال لهم: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد عزيرا ابن الله! فيقال: كذبتم ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد فماذا تبغون؟ قالوا: عطشنا يا ربنا فاسقنا فيشار إليهم: ألا تردون؟ فيحشرون إلى النار كأنها سراب يحطم بعضها بعضا فيتساقطون في النار ; ثم يدعى النصارى فيقال لهم: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد المسيح ابن الله! فيقال لهم: كذبتم ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد فيقال لهم: ماذا تبغون؟ فيقولون: عطشنا يا ربنا فاسقنا فيشار إليهم: ألا تردون؟ فيحشرون إلى جهنم كأنها سراب يحطم بعضها بعضا فيتساقطون في النار حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر أتاهم رب العالمين في أدنى صورة من التي رأوه فيها قال: فما تنتظرون؟ تتبع كل أمة ما كانت تعبد قالوا: يا ربنا فارقنا الناس في الدنيا أفقر ما كنا إليهم ولم نصاحبهم فيقول: أنا ربكم قيقولون: نعوذ بالله منك لا نشرك بالله شيئا مرتين أو ثلاثا حتى إن بعضهم ليكاد أن ينقلب فيقول: هل بينكم وبينه آية فتعرفونه بها؟ فيقولون: نعم الساق فيكشف عن ساق فلا يبقي من كان يسجد لله من تلقاء نفسه إلا أذن الله له بالسجود ولا يبقى من كان يسجد اتقاء ورياء إلا جعل الله ظهره طبقة واحدة كلما أراد أن يسجد خر على قفاه ثم يرفعون رءوسهم وقد تحول في الصورة التي رأوه فيها أول مرة فيقول: أنا ربكم فيقولون: أنت ربنا ; ثم يضرب الجسر على جهنم وتحل الشفاعة ويقولون: اللهم سلم سلم قيل: يا رسول الله وما الجسر؟ قال: دحض مزلة فيه خطاطيف وكلاليب وحسكة تكون بنجد فيها شويكة يقال لها: السعدان فيمر المؤمنون كطرف العين وكالبرق وكالريح وكالطير وكأجأويد الخيل والركاب فناج مسلم ومخدوش مرسل ومكدوس في نار جهنم حتى إذا خلص المؤمنون من النار فوالذي نفسي بيده ما من أحد منكم بأشد مناشدة لله في استيفاء الحق من المؤمنين لله يوم القيامة لإخوانهم الذين في النار يقولون: ربنا كانوا يصومون معنا ويصلون ويحجون فيقال لهم: أخرجوا من عرفتم فتحرم صورهم على النار فيخرجون خلقا كثيرا قد أخذت النار إلى نصف ساقه وإلى ركبتيه قيقولون: ربنا ما بقي فيها أحد ممن أمرتنا به ; فيقول الله عز وجل: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال دينار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون ربنا لم نذر فيها أحدا ممن أمرتنا به ; ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال نصف دينار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون: ربنا لم نذر فيها ممن أمرتنا أحدا ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال ذرة من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثير ثم يقولون: ربنا! لم نذر فيها خيرا فيقول الله: شفعت الملائكة وشفع النبيون وشفع المؤمنون ولم يبق إلا أرحم الراحمين فيقبض قبضة من النار فيخرج منها قوما لم يعملوا خير قط قد عادوا حمما فيلقيهم في نهر في أفواه الجنة يقال له: نهر الحياة فيخرجون كما تخرج الحبة في حميل السيل ألا ترونها تكون إلى الحجر أو الشجر ما يكون إلى الشمس أصيفر وأخيضر وما يكون منها إلى الظل يكون أبيض فيخرجون كاللؤلؤ في رقابهم الخواتيم يعرفهم أهل الجنة: هؤلاء عتقاء الله من النار الذين أدخلهم الجنة بغير عمل عملوه ولا خير قدموه ثم يقول: أدخلوا الجنة فما رأيتموه فهو لكم فيقولون: ربنا أعطيتنا ما لم تعط أحدا من العالمين فيقول: لكم عندي أفضل من هذا؟ فيقولون: يا ربنا أي شيء أفضل من هذا؟ فيقول: رضاي فلا أسخط عليكم بعده أبدا "(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں دوپہر کے وقت، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ اور کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو، جبکہ آسمان صاف ہو اور اس پر کوئی بادل نہ ہو، دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟ تمہیں قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہوگی جتنی تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا اعلان کرے گا: ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ پس اللہ کے سوا بتوں اور تھانوں کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا مگر وہ جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار، اور اہلِ کتاب کے کچھ لوگ۔ پھر یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم عزیر کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم اس طرف نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم مسیح کی عبادت کیا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے تھے! ان سے کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا، ان سے کہا جائے گا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا۔ ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا: کیا تم نہیں جاؤ گے؟ پس انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جو ایک سراب کی طرح نظر آتی ہوگی، وہ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے جہنم میں گر پڑیں گے، یہاں تک کہ صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار۔ تب رب العالمین ان کے پاس اس صورت سے مختلف صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلے دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اسی کی پیروی کرے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! دنیا میں ہم لوگوں سے اس وقت جدا ہوئے جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اور ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، دو یا تین بار یہی کہیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض قریب ہوں گے کہ ایمان سے پھر جائیں۔ وہ فرمائے گا: کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس سے تم اسے پہچان لو؟ وہ کہیں گے: ہاں، پنڈلی۔ تو وہ اپنی پنڈلی کھول دے گا، پس جو بھی خلوصِ دل سے اللہ کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا وہ باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اسے سجدہ کرنے کی اجازت دے گا، اور جو ڈر یا دکھاوے کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا اس کی پیٹھ کو اللہ ایک ہی سخت تختہ بنا دے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو اپنی گدی کے بل گر پڑے گا۔ پھر وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو وہ اسی صورت میں بدل چکا ہوگا جس میں انہوں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم پر پل باندھا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی، اور وہ کہیں گے: اے اللہ! سلامتی رکھ، سلامتی رکھ۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! پل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھسلنے کی جگہ ہے، اس پر آنکڑے اور کانٹے دار چیزیں ہیں، اور ایک خاردار پودا ہے جو نجد میں ہوتا ہے جسے سعدان کہا جاتا ہے۔ مومن اس پر آنکھ جھپکنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، پرندے کی طرح، اور عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزریں گے، پس کوئی صحیح سالم بچ نکلنے والا ہوگا، کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جانے والا، اور کوئی جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جانے والا۔ یہاں تک کہ جب مومن آگ سے نجات پا جائیں گے، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اللہ سے اتنی زیادہ التجا نہیں کرتا جتنی مومن قیامت کے دن اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے کریں گے جو جہنم میں ہوں گے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: جسے پہچانتے ہو اسے نکال لو، تو ان کے چہرے آگ پر حرام کر دیے جائیں گے، پس وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے جنہیں آگ نے آدھی پنڈلی اور گھٹنوں تک جلا رکھا ہوگا۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فرمائے گا: واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو، تو وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے، پھر وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کوئی بھلائی نہیں چھوڑی۔ اللہ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی، اور مومنوں نے سفارش کی، اور اب صرف سب سے زیادہ رحم کرنے والا باقی رہ گیا ہے۔ پس وہ آگ میں سے ایک مٹھی بھر لے گا اور اس میں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے، پھر انہیں جنت کے دہانوں پر بہنے والی ایک نہر میں ڈال دے گا جسے نہرِ حیات کہا جاتا ہے، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو پودا پتھر یا درخت کے سایہ دار جانب ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے اور جو دھوپ کی طرف ہوتا ہے وہ زردی یا سبزی مائل ہوتا ہے؟ پس وہ موتیوں کی طرح نکل آئیں گے، ان کی گردنوں میں پہچان کی مہریں ہوں گی، اہلِ جنت انہیں پہچان کر کہیں گے: یہ اللہ کے وہ آزاد کردہ لوگ ہیں جنہیں اس نے بغیر کسی عمل کے، جو انہوں نے کیا ہو، اور بغیر کسی نیکی کے، جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جو کچھ تم دیکھو وہ تمہارا ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ عطا کیا ہے جو تو نے دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ وہ فرمائے گا: کیا میرے پاس تمہارے لیے اس سے بھی بہتر کوئی چیز ہے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے بہتر بھلا کیا چیز ہو سکتی ہے؟ وہ فرمائے گا: میری رضا، میں اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“