کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«ما خير عمار بين أمرين إلا اختار أرشدهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے زیادہ درست بات کو چنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن عائشة. المشكاة ٢٢٣٦، الصحيحة ٨٣٣: حم، هـ.
«ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اسے اتنا خراب نہیں کرتے جتنا آدمی کا مال اور عزت کا لالچ اس کے دین کو خراب کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن كعب بن مالك. الروض النضير ٥ - ٧.
«ما رأيت في الخير والشر كاليوم قط إنه صورت لي الجنة والنار حتى رأيتهما وراء الحائط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، آج مجھے جنت اور جہنم دکھائی گئیں یہاں تک کہ میں نے انہیں اس دیوار کے پیچھے دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. جزء الكسوف.
«ما رأيت مثل النار نام هاربها ولا مثل الجنة نام طالبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے آگ جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا پھر بھی سویا رہے، اور نہ جنت جیسی کوئی چیز جس کا طالب پھر بھی سویا رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة [طس] عن أنس. الصحيحة ٩٥٣.
«ما رأيت منظرا قط إلا والقبر أفظع منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے کبھی کوئی منظر ایسا نہیں دیکھا مگر قبر اس سے زیادہ ہولناک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن أبي هريرة. المشكاة ١٣٢.
«ما رأيت من ناقصات عقل ولا دين أغلب لذي لب منكن أما نقصان العقل فشهادة امرأتين بشهادة رجل وأما نقصان الدين فإن إحداكن تفطر رمضان وتقيم أياما لا تصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی کو عقلمند شخص پر غالب آنے والا نہیں دیکھا، رہی عقل کی کمی تو وہ یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور رہی دین کی کمی تو وہ یہ ہے کہ تم میں سے کوئی رمضان میں روزہ چھوڑ دیتی ہے اور کئی دن نماز نہیں پڑھتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. حم ٢/٦٦ - ٦٧، م ١/٦١، د: سنة.
«ما رأينا من فزع وإن وجدناه لبحرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمیں کوئی خوف کی بات نہیں ملی، اور اس گھوڑے کو ہم نے سمندر جیسا تیز رفتار پایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أنس. الإرواء ١٥١٢: خ.
«ما رزق عبد خيرا له ولا أوسع من الصبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی بندے کو صبر سے بہتر اور زیادہ کشادہ کوئی چیز نہیں دی گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٤٨.
"ما زال بكم الذي رأيت من صنيعكم حتى خشيت أن يكتب عليكم ولو كتب عليكم ما قمتم به فصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم لوگوں نے جو کچھ کیا وہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر یہ تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ پاتے، پس اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے بہتر نماز اس کے گھر میں ہے، سوائے فرض نماز کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن زيد بن ثابت. مختصر مسلم ٣٧٤، الإرواء ٤٤٣.
«ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن ابن عمر [حم ق ٤] عن عائشة. مختصر مسلم ١٧٨٠، الإرواء ٨٩١.
«ما زالت أكلة خيبر تعأودني كل عام حتى كان هذا أوان قطع أبهري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خیبر کا کھایا ہوا زہر آلود گوشت ہر سال مجھے اپنا اثر دکھانے کے لیے واپس آتا رہا، یہاں تک کہ اب یہی وقت ہے کہ میری شہ رگ کٹنے والی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن السني أبو نعيم في الطب] عن أبي هريرة. خ: الوفاة - عائشة.
«ما سأل رجل مسلم الله الجنة ثلاثا إلا قالت الجنة: اللهم أدخله الجنة ولا استجار رجل مسلم الله من النار ثلاثا إلا قالت النار: اللهم أجره مني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسلمان آدمی بھی تین بار اللہ سے جنت مانگے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو مسلمان آدمی بھی تین بار اللہ سے جہنم سے پناہ مانگے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اسے مجھ سے پناہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن أنس. الترغيب ٤/٢٢٢.
«ما شأنكم تشيرون بأيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟! إذا سلم أحدكم فليلتفت إلى أصحابه ولا يومئ بيده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں؟! جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن جابر بن سمرة. مختصر مسلم ٣١١، صحيح أبي داود ٩١٨.
«ما شيء أثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن فإن الله تعالى يبغض الفاحش البذي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن مومن کی میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بے حیا اور بدزبان شخص سے بغض رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٨٧٦: طب.
«ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه إلا أوتوا الجدل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی ہدایت پر ہونے کے بعد گمراہ ہوئے تو انہیں جھگڑالو پن دیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن أبي أمامة. المشكاة ١٨٠: صحيح الترغيب ١٣٧.
" ما ظهر في قوم الربا والزنا إلا أحلوا بأنفسهم عقاب الله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس قوم میں بھی سود اور زنا پھیل جائے تو انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا حقدار بنا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن ابن مسعود. الترغيب ٣/٥١، ع، ك - ابن عباس.
«ما على أحدكم إن وجد سعة أن يتخذ ثوبين ليوم الجمعة سوى ثوبي مهنته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی پر کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو جمعے کے دن کے لیے اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ خاص دو کپڑے بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ١٣٨٩، غاية المرام ٧٦، صحيح أبي داود ٩٨٩.
«ما على الأرض أحد يقول لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله إلا كفرت عنه خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین پر کوئی بھی شخص «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی توفیق سے ہے) کہے تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن ابن عمرو. الترغيب ٢/٢٤٩.
«ما على الأرض مسلم يدعوالله بدعوة إلا آتاه الله إياها أو صرف عنه من السوء مثلها ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم ما لم يعجل يقول: قد دعوت ودعوت فلم يستجب لي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین پر کوئی مسلمان بھی اللہ سے کوئی دعا مانگے تو اللہ اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے یا اس سے اتنی ہی برائی دور کر دیتا ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ مانگے اور جب تک وہ جلد بازی نہ کرے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے بہت دعا مانگی مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5637
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ٢٢٥٩، الترغيب ٢/٢٧١.
«ما على الأرض من نفس تموت ولها عند الله خير تحب أن ترجع إليكم ولها الدنيا إلا القتيل في سبيل الله فإنه يحب أن يرجع فيقتل مرة أخرى لما يرى من ثواب الله له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین پر کوئی جان ایسی نہیں مرتی جس کے لیے اللہ کے پاس بھلائی ہو اور وہ یہ پسند کرے کہ وہ تمہاری طرف واپس آئے، خواہ اسے پوری دنیا دے دی جائے، سوائے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کے، وہ اللہ کے پاس اپنے لیے موجود ثواب دیکھ کر یہ پسند کرے گا کہ وہ واپس آئے اور دوبارہ قتل ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5638
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٢٢٢٨: الدارمي - أنس.
«ما على الأرض نفس منفوسة - يعني اليوم - يأتي عليها مائة سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین پر آج کے دن جتنی جانیں پیدا ہوئی ہیں ان میں سے کسی پر بھی سو سال کا عرصہ نہیں گزرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن جابر. م ٧/١٨٨.
«ما على الأرض يمين أحلف عليها فأرى غيرها خيرا منها إلا أتيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین پر کوئی قسم ایسی نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کوئی چیز اس سے بہتر دیکھوں مگر میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي موسى. حم ٥/٣٩٨، ق: أيمان١.
«ما علمته إذ كان جاهلا ولا أطعمته إذ كان ساغبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نہ میں نے اسے کچھ سکھایا جب وہ جاہل تھا اور نہ میں نے اسے کھلایا جب وہ بھوکا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٢٢٩: ابن سعد، هق.
«ما عليها لو انتفعت بإهابها إنما حرم الله أكلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم اس کی کھال سے فائدہ اٹھا لیتے تو اس میں کیا حرج تھا؟ اللہ نے تو صرف اسے کھانا حرام کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ميمونة. م ١/١٩٠.
«ما عليكم أن لا تعزلوا فإن الله قدر ما هو خالق إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عزل نہ کرو، کیونکہ اللہ نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے وہ مقرر کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي سعيد وأبي هريرة. م ٤/١٥٨ - أبي سعيد.
«ما عمل آدمي عملا أنجى له من عذاب الله من ذكر الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو اسے اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن معاذ. الروض النضير ٢٣٦، الترغيب ٢/٢٢٨ و٢٢٩.
«ما عمل ابن آدم شيئا أفضل من الصلاة وصلاح ذات البين وخلق حسن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابنِ آدم نے نماز، آپس کی صلح اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی افضل عمل نہیں کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٤٨.
«ما فتح رجل باب عطية بصدقة أو صلة إلا زاده الله تعالى بها كثرة وما فتح رجل باب مسألة يريد بها كثرة إلا زاده الله تعالى بها قلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو آدمی بھی صدقہ یا صلہ رحمی سے عطا کرنے کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے ذریعے مزید کثرت عطا کرتا ہے، اور جو آدمی بھی کثرت حاصل کرنے کی نیت سے سوال کرنے کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے ذریعے مزید کمی میں مبتلا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢٢١: حم.
«ما في الجنة شجرة إلا وساقها من ذهب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں مگر اس کا تنا سونے کا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ٥٦٣١، الترغيب ٤/٢٥٧: حب. البيهقي - جرير.
«ما قال عبد لا إله إلا الله قط مخلصا إلا فتحت له أبواب السماء حتى تفضي إلى العرش ما اجتنب الكبائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس بندے نے بھی خلوص سے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتے ہیں، بشرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٣١٤، الترغيب ٢/٢٣٨.
«ما قبض الله تعالى نبيا إلا في الموضع الذي يحب أن يدفن فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کی روح اسی جگہ قبض کی جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي بكر. أحكام الجنائز ١٣٧.
«ما قدر الله لنفس أن يخلقها إلا هي كائنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے جس جان کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا وہ ضرور وجود میں آ کر رہے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هب] عن جابر. الصحيحة ١٣٣٣، السنة ٣٦٢.
«ما قدر في الرحم سيكون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کچھ رحم میں مقرر کر دیا گیا وہ ہو کر رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي سعيد الزرقي. السنة ٣٦٧: ابن أبي عاصم.
«ما قطع من البهيمة وهي حية فهو ميتة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو حصہ کسی جانور سے اس کی زندگی میں کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن أبي واقد [هـ ك] عن ابن عمر [ك] عن أبي سعيد [طب] عن تميم. غاية المرام ٤١.
«ما قل وكفى خير مما كثر وألهى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو تھوڑا ہو اور کافی ہو وہ اس زیادہ سے بہتر ہے جو غفلت میں ڈال دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع الضياء] عن أبي سعيد. الصحيحة ٩٤٥: فقه ٤٨٠.
«ما كان الرفق في شيء إلا زانه ولا نزع من شيء إلا شانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نکال لی جائے اسے بدنما بنا دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد الضياء] عن أنس. المشكاة ٤٨٥٤: حم، م - عائشة.
«ما كان الفحش في شيء قط إلا شانه ولا كان الحياء في شيء قط إلا زانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے، اور حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد ت هـ] عن أنس. المشكاة ٤٨٥٤: حب.
«ما كان من حلف في الجاهلية فتمسكوا به ولا حلف في الإسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو معاہدہ جاہلیت میں کیا گیا تھا اسے مضبوطی سے تھامے رکھو، اور اسلام میں نیا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن قيس بن عاصم. الصحيحة ٢٢٦٢: حب.
«ما كان من ميراث قسم في الجاهلية فهو على قسمة الجاهلية وما كان من ميراث أدركه الإسلام فهو على قسمة الإسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو وراثت جاہلیت میں تقسیم ہو چکی وہ جاہلیت کی تقسیم پر ہی رہے گی، اور جو وراثت اسلام کے آنے تک باقی رہی وہ اسلام کی تقسیم کے مطابق تقسیم ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الإرواء ١٧١٧.
«ما كان منها في طريق الميتاء والقرية الجامعة فعرفها سنة فإن جاء طالبها فادفعها إليه وإن لم يأت فهي لك وما كان في الخراب ففيها وفي الركاز الخمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو گمشدہ چیز عام راستے یا آبادی والی بستی میں ملے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، اور اگر نہ آئے تو وہ تمہاری ہے، اور جو ویرانے میں ملے تو اس میں اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ن] عن ابن عمرو. المشكاة ٣٠٣٦، رسالتي الركاز.