کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف را سے شروع ہونے والی احادیث
«رأى عيسى ابن مريم رجلا يسرق فقال له: أسرقت؟ قال: كلا والذي لا إله إلا هو فقال عيسى: آمنت بالله وكذبت عيني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو ان سے پوچھا: کیا تم نے چوری کی؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھ کو جھٹلایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي هريرة.
«رأت أمي كأنه خرج منها نور أضاءت منه قصور الشام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری والدہ نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٥٤٦، ١٩٢٥: حم، عد.
«رأس الكفر نحو المشرق والفخر والخيلاء في أهل الخيل والإبل والفدادين أهل الوبر والسكينة في أهل الغنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کفر کا سر مشرق کی طرف ہے، اور فخر و تکبر گھوڑوں اور اونٹوں والوں یعنی اونچی آواز سے پکارنے والے اہلِ وبر (خانہ بدوش بدوی) میں پایا جاتا ہے، اور سکون و اطمینان بکریوں والوں میں پایا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق] عن أبي هريرة. حم ٢/٥٠٦.
«رأس الكفر هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان» - يعني المشرق -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کفر کا سر یہاں سے ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے (یعنی مشرق کی طرف سے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«راصوا الصفوف فإن الشيطان يقوم في الخلل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صفیں ملا کر کھڑے ہوا کرو کیونکہ شیطان (صفوں کے) خلا میں کھڑا ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. صحيح أبي داود ٦٧٣.
«راصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالأعناق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں ملا کر کھڑی کرو، انہیں ایک دوسرے کے قریب کرو اور گردنیں برابر رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أنس. صحيح أبي داود ٦٧٣: حم، د، هق.
"رؤيا المؤمن جزء من أربعين جزءا من النبوة وهي على رجل طائر ما لم يحدث بها فإذا تحدث بها سقطت ولا تحدث بها إلا لبيبا أو حبيبا "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے، اور یہ (خواب) اس وقت تک پرندے کی طرح (ہوا میں معلق) رہتا ہے جب تک اسے بیان نہ کیا جائے، پس جب اسے بیان کر دیا جائے تو وہ گر جاتا ہے، اس لیے اسے صرف عقل مند یا کسی محبوب (ہمدرد) شخص سے بیان کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي رزين. الصحيحة ١٢٠: تخ، حب.
«رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس [حم ق د ت] عن عبادة بن الصامت [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥١٩.
«رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وهي على رجل طائر ما لم يحدث بها وإذا حدث بها وقعت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے، اور یہ اس وقت تک پرندے کی طرح (ہوا میں معلق) رہتا ہے جب تک اسے بیان نہ کیا جائے، اور جب اسے بیان کر دیا جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3458
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي رزين. الصحيحة ١٢٠، المشكاة ٤٦٢٢: حب.
«رؤيا المسلم الصالح جزء من سبعين جزءا من النبوة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیک مسلمان کا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3459
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد. الروض النضير ٦١٦.
[رأيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال: يا محمد أقرئ أمتك السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وغراسها: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری طرف سے سلام پہنچا دو اور انہیں بتا دو کہ جنت کی مٹی پاکیزہ اور اس کا پانی میٹھا ہے، اور وہ ہموار میدان ہے، اور اس کے پودے یہ ہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، «وَاللَّهُ أَكْبَرُ» اور «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث طب عن ابن مسعود. الروض النضير ٦١٥، الصحيحة ١٠٥.
«رأيت الذي صنعتم فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے دیکھا جو تم نے کیا (یعنی رات کو نماز کے لیے جمع ہونا)، اور مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف اس بات نے روکا کہ مجھے خدشہ ہوا کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ن] عن عائشة. م – قيام رمضان.
" رأيت الليلة رجلين أتياني فأخذا بيدي فأخرجاني إلى الأرض المقدسة فإذا رجل جالس ورجل قائم على رأسه بيده كلوب من حديد فيدخله في شدقه فيشقه حتى يخرجه من قفاه ثم يخرجه فيدخله في شدقه الآخر ويلتئم هذا الشدق فهو يفعل ذلك به فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت معهما فإذا رجل مستلق على قفاه ورجل قائم بيده فهر أو صخرة فيشدخ بها رأسه فيتدهده الحجر فإذا ذهب ليأخذه عاد رأسه كما كان فيصنع مثل ذلك فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت معهما فإذا بيت مبني على بناء التنور أعلاه ضيق وأسفله واسع يوقد تحته نار فيه رجال ونساء عراة فإذا أوقدت ارتفعوا حتى يكادوا أن يخرجوا فإذا أخمدت رجعوا فيها فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت فإذا نهر من دم فيه رجل وعلى شاطئ النهر رجل بين يديه حجارة فيقبل الرجل الذي في النهر فإذا دنا ليخرج رمى في فيه حجرا فرجع إلى مكانه فهو يفعل ذلك به فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت فإذا روضة خضراء وإذا فيها شجرة عظيمة وإذا شيخ في أصلها حوله صبيان وإذا رجل قريب منه بين يديه نار فهو يحشها ويوقدها فصعدا بي في شجرة فأدخلاني دارا لم أر دارا قط أحسن منها فإذا فيها رجال شيوخ وشباب وفيها نساء وصبيان فأخرجاني منها فصعدا بي في الشجرة فأدخلاني دارا هي أحسن وأفضل فيها شيوخ وشباب فقلت لهما: إنكما قد طوفتماني منذ الليلة فأخبراني عما رأيت قالا: نعم; أما الرجل الأول الذي رأيت فإنه رجل كذاب يكذب الكذبة فتحمل عنه في الآفاق فهو يصنع به ما رأيت إلى يوم القيامة ثم يصنع الله تعالى به ما شاء; وأما الرجل الذي رأيت مستلقيا على قفاه فرجل آتاه الله القرآن فنام عنه بالليل ولم يعمل بما فيه بالنهار فهو يفعل به ما رأيت إلى يوم القيامة; وأما الذي رأيت في التنور فهم الزناة; وأما الذي رأيت في النهر فذاك آكل الربا; وأما الشيخ الذي رأيت في أصل الشجرة فذاك إبراهيم عليه السلام; وأما الصبيان الذين رأيت فأولاد الناس; وأما الرجل الذي رأيت يوقد النار فذلك خازن النار وتلك النار; وأما الدار التي دخلت أولا فدار عامة المؤمنين; وأما الدار الأخرى فدار الشهداء; وأنا جبريل وهذا ميكائيل; ثم قالا لي: ارفع رأسك فرفعت فإذا كهيئة السحاب فقالا لي: وتلك دارك فقلت لهما: دعاني أدخل داري فقالا: إنه قد بقي لك عمر لم تستكمله فلو استكملته دخلت دارك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے آج رات (خواب میں) دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مقدس سرزمین کی طرف لے گئے، وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی اس کے سر پر کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، وہ اسے اس کے جبڑے میں ڈال کر اسے چیر دیتا یہاں تک کہ اسے اس کی گدی تک نکال لاتا، پھر اسے نکال کر اس کے دوسرے جبڑے میں ڈالتا اور یہ (پہلا) جبڑا جڑ جاتا، وہ اس کے ساتھ یہی کچھ کیے جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلتا رہا تو ایک آدمی اپنی پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک آدمی اس کے سر پر کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک بڑا پتھر یا چٹان تھی، وہ اس سے اس (لیٹے ہوئے آدمی) کا سر کچل دیتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، جب وہ اسے لینے جاتا تو اس کا سر پھر ویسا ہی ہو جاتا جیسا پہلے تھا، اور وہ پھر ویسا ہی کرتا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلتا رہا تو ایک گھر تھا جو تنور کی طرح بنا ہوا تھا، اوپر سے تنگ اور نیچے سے کشادہ، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب آگ بھڑکتی تو وہ اوپر اٹھتے یہاں تک کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں، اور جب آگ بجھتی تو وہ اس میں واپس چلے جاتے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں چلتا رہا تو ایک خون کی نہر تھی جس میں ایک آدمی تھا، اور نہر کے کنارے ایک آدمی کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے تھے، جو آدمی نہر میں تھا وہ آگے آتا، جب وہ نکلنے کے قریب ہوتا تو (کنارے والا) اس کے منہ میں پتھر مار دیتا تو وہ اپنی جگہ واپس چلا جاتا، وہ اس کے ساتھ یہی کرتا رہتا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں چلتا رہا تو ایک سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ میں ایک بوڑھا شخص تھا جس کے ارد گرد کچھ بچے تھے، اور اس کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، وہ اسے ہوا دے کر بھڑکا رہا تھا۔ پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایک ایسے گھر میں داخل کیا جس سے بہتر گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے تھے، پھر وہ مجھے اس سے نکال کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایک اور گھر میں داخل کیا جو اس سے بھی بہتر اور افضل تھا، اس میں بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے ان دونوں سے کہا: تم نے آج رات مجھے بہت کچھ گھمایا، اب مجھے بتاؤ جو کچھ میں نے دیکھا اس کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ رہا وہ پہلا آدمی جسے تم نے دیکھا تو وہ جھوٹا آدمی ہے جو جھوٹ بولتا ہے اور وہ جھوٹ دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے، اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا جو تم نے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جو چاہے گا کرے گا۔ اور رہا وہ آدمی جسے تم نے پیٹھ کے بل لیٹا ہوا دیکھا تو وہ ایسا آدمی ہے جسے اللہ نے قرآن دیا مگر وہ رات کو اس سے سویا رہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا، اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا جو تم نے دیکھا۔ اور جو تم نے تنور میں دیکھے وہ زانی (مرد و عورت) ہیں۔ اور جو تم نے نہر میں دیکھا وہ سود کھانے والا ہے۔ اور جو بوڑھا شخص تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور جو بچے تم نے دیکھے وہ لوگوں کی اولاد ہیں۔ اور جو آدمی تم نے آگ بھڑکاتے دیکھا وہ جہنم کا داروغہ ہے، اور وہ (جو دیکھی) جہنم ہی تھی۔ اور جس گھر میں تم پہلے داخل ہوئے وہ عام مومنوں کا گھر ہے۔ اور دوسرا گھر شہداء کا گھر ہے۔ اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: اپنا سر اٹھاؤ، میں نے سر اٹھایا تو (اوپر) بادل جیسی کوئی چیز تھی، انہوں نے کہا: یہ تمہارا گھر ہے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے میرے گھر میں جانے دو، انہوں نے کہا: ابھی تمہاری عمر باقی ہے جو تم نے پوری نہیں کی، اگر تم اسے پورا کر لیتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن سمرة.
«رأيت الملائكة تغسل حمزة بن عبد المطلب وحنظلة بن الراهب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے فرشتوں کو حمزہ بن عبد المطلب اور حنظلہ بن راہب کو غسل دیتے دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3463
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. أحكام الجنائز ٥٦، الإرواء ٧١٣.
«رأيت جبريل له ستمائة جناح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3464
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. حم ١/٣٩٥، ٣٩٨ و٤١٢، ٤٦٠، خ – تفسير النجم، م - إيمان، ابن خزيمة – توحيد٢.
«رأيت جعفر بن أبي طالب ملكا يطير في الجنة مع الملائكة بجناحين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے جعفر بن ابی طالب کو دیکھا، وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ دو پروں سے اڑ رہے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٢٦.
«رأيت ربي عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عباس. السنة ٤٣٣: الآجري، البيهقي.
«رأيت شابا وشابة فلم آمن من الشيطان عليهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو (اکٹھے) دیکھا تو مجھے ان دونوں کے بارے میں شیطان (کے وسوسے) سے خطرہ محسوس ہوا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت١] عن علي. حجاب المرأة المسلمة ص ٢٧: عم، الضياء.
«رأيت شياطين الإنس والجن فروا من عمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو عمر سے بھاگتے دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [عد] عن عائشة. آداب الزفاف ١٦٩.
«رأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار وكان أول من سيب السوائب وبحر البحيرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا، اور وہی پہلا شخص تھا جس نے سائبہ چھوڑنے اور بحیرہ کے کان چیرنے (کی رسم) کا آغاز کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«رأيت عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أخا بني كعب وهو يجر قصبه في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو، جو بنو کعب کا بھائی تھا، جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«رأيت عيسى وموسى وإبراهيم فأما عيسى فأحمر جعد عريض الصدر وأما موسى فآدم جسيم سبط كأنه من رجال الزط وأما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم» - يعني نفسه -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا، عیسیٰ سرخ رنگت والے، گھنگریالے بالوں والے اور کشادہ سینے والے تھے، اور موسیٰ گندمی رنگت، بھاری جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، گویا وہ زط قوم کے لوگوں میں سے تھے، اور رہے ابراہیم تو اپنے ساتھی کو دیکھ لو (یعنی خود نبی کریم ﷺ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عباس.
«رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل فذهب وهلي إلى أنها اليمامة أو هجر فإذا هي المدينة يثرب ورأيت في رؤياي هذه أني هززت سيفا فانقطع صدره فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد ثم هززته أخرى فعاد أحسن ما كان فإذا هو ما جاء الله به من الفتح واجتماع المؤمنين ورأيت فيها بقرا والله خير فإذا هم النفر من المؤمنين يوم أحد وإذا الخير ما جاء الله به من الخير بعد وثواب الصدق الذي آتانا الله بعد يوم بدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں، میرا خیال یمامہ یا ہجر کی طرف گیا، لیکن وہ مدینہ یثرب نکلی۔ اور میں نے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا، تو وہ (اشارہ تھا) اس نقصان کی طرف جو احد کے دن مومنوں کو پہنچا، پھر میں نے اسے دوبارہ ہلایا تو وہ پہلے سے بہتر ہو گئی، تو وہ (اشارہ تھا) اس فتح اور مومنوں کے اجتماع کی طرف جو اللہ نے عطا فرمائی۔ اور میں نے اس میں گائیں دیکھیں، اور اللہ بھلائی ہے، تو وہ (گائیں) وہ گروہ تھا جو احد کے دن مومنوں میں سے (شہید ہوا)، اور بھلائی وہ تھی جو اللہ نے بعد میں عطا فرمائی، یعنی سچائی کا وہ ثواب جو اللہ نے ہمیں بدر کے دن کے بعد عطا فرمایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٥١٣.
«رأيت قوما ممن يركب ظهر هذا البحر كالملوك على الأسرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی سطح پر سوار تھے، وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہوں کی طرح تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أم حرام. خ - جهاد، م – إمارة١.
«رأيت كأن امرأة سوداء ثائرة الرأس خرجت من المدينة حتى نزلت مهيعة فأولتها أن وباء المدينة نقل إليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک بکھرے بالوں والی سیاہ فام عورت مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مہیعہ (مقام) پر جا اتری، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا اس (مہیعہ) کی طرف منتقل کر دی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت هـ] عن ابن عمر. الترغيب ٢/١٤٥: حم، ن.
«رأيت كأني الليلة في دار عقبة بن رافع وأتيت بتمر من تمر ابن طاب فأولت أن لنا الرفعة في الدنيا والعاقبة في الآخرة وأن ديننا قد طاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے آج رات دیکھا کہ گویا میں عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں اور مجھے ابن طاب کی کھجوریں پیش کی گئیں، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ہمیں دنیا میں سربلندی اور آخرت میں اچھا انجام حاصل ہو گا اور ہمارا دین پاکیزہ ہو چکا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن أنس. الكلم الطيب ٢٥٠.
«رأيت كأني في درع حصينة ورأيت بقرا تنحر فأولت أن الدرع الحصينة المدينة وأن البقر نفر والله خير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں، اور میں نے گائیں ذبح ہوتی دیکھیں، تو میں نے مضبوط زرہ کی تعبیر مدینہ سے کی اور گائیوں کی تعبیر ایک جماعت (شہداء) سے کی، اور اللہ بھلائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن الضياء] عن جابر. الصحيحة ١١٠٠.
«رأيت ليلة أسري بي موسى رجلا آدم طوالا جعدا كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى رجلا مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس ورأيت مالكا خازن النار والدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگت، دراز قد اور گھنگریالے بالوں والے تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے لوگوں میں سے تھے، اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ میانہ قد، سرخی مائل سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے، اور میں نے مالک، جو جہنم کے داروغہ ہیں، اور دجال کو بھی دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عباس.
"رأيتني دخلت الجنة فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفا من أمامي فقلت: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا بلال ورأيت قصرا أبيض بفنائه جارية فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخله فأنظر إليه فذكرت غيرتك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا، تو میں نے وہاں رمیصاء (ام سلیم)، ابو طلحہ کی بیوی، کو پایا، اور میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بلال ہیں۔ اور میں نے ایک سفید محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لڑکی تھی، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔ میں نے چاہا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے تمہاری (اے عمر!) غیرت یاد آ گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جابر١. الصحيحة ١٤٠٥: الطيالسي.
«رباط شهر خير من صيام دهر ومن مات مرابطا في سبيل الله أمن من الفزع الأكبر وغدي عليه برزقه وريح من الجنة ويجرى عليه أجر المرابط حتى يبعثه الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک ماہ کی سرحدی پہرہ داری (رباط) ایک عمر کے روزوں سے بہتر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے وہ سب سے بڑی گھبراہٹ (قیامت کی ہولناکی) سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور صبح و شام اسے اس کا رزق اور جنت کی خوشبو پہنچائی جاتی ہے، اور اسے مرابط (سرحدی پہرہ دار) کا اجر ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے دوبارہ اٹھائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الترغيب ٢/١٥٠.
«رباط يوم خير من صيام شهر وقيامه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک دن کی سرحدی پہرہ داری ایک ماہ کے روزوں اور اس کے قیام سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٨٦٦: حم – سلمان. أبو حزم الحنبلي – أنس.
«رباط يوم في سبيل الله أفضل من صيام شهر وقيامه ومن مات فيه وقي فتنة القبر ونما له عمله إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں ایک دن کی سرحدی پہرہ داری ایک ماہ کے روزوں اور اس کے قیام سے افضل ہے، اور جو اس میں مر جائے وہ قبر کے فتنے سے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور قیامت تک اس کا عمل بڑھتا رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن سلمان. الإرواء ١٢٠٠.
«رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها وموضع سوط أحدكم من الجنة خير من الدنيا وما عليها والروحة يروحها العبد في سبيل الله أو الغدوة خير من الدنيا وما عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں ایک دن کی سرحدی پہرہ داری دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جگہ بھی جنت میں دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے، اور بندے کا اللہ کی راہ میں شام یا صبح کو ایک بار نکلنا دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3482
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت] عن سهل بن سعد.
«رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه وإن مات مرابطا جرى عليه عمله الذي كان يعمله وأجري عليه رزقه وأمن من الفتان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک دن اور رات کی سرحدی پہرہ داری ایک ماہ کے روزوں اور اس کے قیام سے بہتر ہے، اور اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے مر جائے تو جو عمل وہ کرتا تھا وہ اس کے لیے جاری رہتا ہے، اس کا رزق بھی جاری رہتا ہے اور وہ فتنہ ڈالنے والے سے محفوظ رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3483
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن سلمان. مختصر مسلم ١٠٧٥، الإرواء ١٢٠٠.
«رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بسا اوقات ایک پراگندہ حال شخص، جسے دروازوں سے دھکیل دیا جاتا ہے، اگر وہ اللہ کے بارے میں قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٧٢، تخريج مشكلة الفقر ١٢٥.
«رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر هداي إلي وانصرني على من بغى علي; اللهم اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا; رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي واهد قلبي وسدد لساني واسلل سخيمة قلبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے میرے رب! میری مدد فرما اور مجھ پر (کسی کی) مدد نہ فرما، میری نصرت فرما اور مجھ پر (کسی کی) نصرت نہ فرما، میرے لیے تدبیر فرما اور مجھ پر (کسی کی) تدبیر نہ ہونے دے، مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان فرما، اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا، اپنا خوف رکھنے والا، اپنا فرماں بردار، اپنے سامنے عاجزی کرنے والا، آہیں بھرنے والا اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط فرما، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان کو درست فرما اور میرے دل کا کینہ نکال دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3485
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ ك] عن ابن عباس. المشكاة ٢٤٨٨، السنة ٣٨٤.
«رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الصحيحة ٥٥٦: ت.
«رب ذي طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بسا اوقات ایسا شخص جو دو پرانے کپڑوں والا ہو اور جس کی کوئی پروا نہ کی جاتی ہو، اگر وہ اللہ کے بارے میں قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن ابن مسعود. تخريج مشكلة الفقر ١٢٥: الطحاوي، حل – أبي هريرة.
[رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بسا اوقات روزہ دار کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بسا اوقات رات کو قیام کرنے والے کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3488
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٠١٤، صحيح الترغيب ١٠٧٦.
«رب عذق مذلل لابن الدحداحة في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن دحداحہ کے لیے جنت میں کھجور کا کتنا ہی جھکا ہوا خوشہ (تیار) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن ابن مسعود. تخريج مشكلة الفقر ١٢٠.