حدیث نمبر: 3478
"رأيتني دخلت الجنة فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفا من أمامي فقلت: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا بلال ورأيت قصرا أبيض بفنائه جارية فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخله فأنظر إليه فذكرت غيرتك"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا، تو میں نے وہاں رمیصاء (ام سلیم)، ابو طلحہ کی بیوی، کو پایا، اور میں نے اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بلال ہیں۔ اور میں نے ایک سفید محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لڑکی تھی، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔ میں نے چاہا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے تمہاری (اے عمر!) غیرت یاد آ گئی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الراء / حدیث: 3478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جابر١. الصحيحة ١٤٠٥: الطيالسي.