صحیح الجامع الصغیر
حرف الراء— حرف را
الأحاديث المبدوءة بحرف الراء باب: حرف را سے شروع ہونے والی احادیث
" رأيت الليلة رجلين أتياني فأخذا بيدي فأخرجاني إلى الأرض المقدسة فإذا رجل جالس ورجل قائم على رأسه بيده كلوب من حديد فيدخله في شدقه فيشقه حتى يخرجه من قفاه ثم يخرجه فيدخله في شدقه الآخر ويلتئم هذا الشدق فهو يفعل ذلك به فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت معهما فإذا رجل مستلق على قفاه ورجل قائم بيده فهر أو صخرة فيشدخ بها رأسه فيتدهده الحجر فإذا ذهب ليأخذه عاد رأسه كما كان فيصنع مثل ذلك فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت معهما فإذا بيت مبني على بناء التنور أعلاه ضيق وأسفله واسع يوقد تحته نار فيه رجال ونساء عراة فإذا أوقدت ارتفعوا حتى يكادوا أن يخرجوا فإذا أخمدت رجعوا فيها فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت فإذا نهر من دم فيه رجل وعلى شاطئ النهر رجل بين يديه حجارة فيقبل الرجل الذي في النهر فإذا دنا ليخرج رمى في فيه حجرا فرجع إلى مكانه فهو يفعل ذلك به فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق; فانطلقت فإذا روضة خضراء وإذا فيها شجرة عظيمة وإذا شيخ في أصلها حوله صبيان وإذا رجل قريب منه بين يديه نار فهو يحشها ويوقدها فصعدا بي في شجرة فأدخلاني دارا لم أر دارا قط أحسن منها فإذا فيها رجال شيوخ وشباب وفيها نساء وصبيان فأخرجاني منها فصعدا بي في الشجرة فأدخلاني دارا هي أحسن وأفضل فيها شيوخ وشباب فقلت لهما: إنكما قد طوفتماني منذ الليلة فأخبراني عما رأيت قالا: نعم; أما الرجل الأول الذي رأيت فإنه رجل كذاب يكذب الكذبة فتحمل عنه في الآفاق فهو يصنع به ما رأيت إلى يوم القيامة ثم يصنع الله تعالى به ما شاء; وأما الرجل الذي رأيت مستلقيا على قفاه فرجل آتاه الله القرآن فنام عنه بالليل ولم يعمل بما فيه بالنهار فهو يفعل به ما رأيت إلى يوم القيامة; وأما الذي رأيت في التنور فهم الزناة; وأما الذي رأيت في النهر فذاك آكل الربا; وأما الشيخ الذي رأيت في أصل الشجرة فذاك إبراهيم عليه السلام; وأما الصبيان الذين رأيت فأولاد الناس; وأما الرجل الذي رأيت يوقد النار فذلك خازن النار وتلك النار; وأما الدار التي دخلت أولا فدار عامة المؤمنين; وأما الدار الأخرى فدار الشهداء; وأنا جبريل وهذا ميكائيل; ثم قالا لي: ارفع رأسك فرفعت فإذا كهيئة السحاب فقالا لي: وتلك دارك فقلت لهما: دعاني أدخل داري فقالا: إنه قد بقي لك عمر لم تستكمله فلو استكملته دخلت دارك"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے آج رات (خواب میں) دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مقدس سرزمین کی طرف لے گئے، وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی اس کے سر پر کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، وہ اسے اس کے جبڑے میں ڈال کر اسے چیر دیتا یہاں تک کہ اسے اس کی گدی تک نکال لاتا، پھر اسے نکال کر اس کے دوسرے جبڑے میں ڈالتا اور یہ (پہلا) جبڑا جڑ جاتا، وہ اس کے ساتھ یہی کچھ کیے جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلتا رہا تو ایک آدمی اپنی پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک آدمی اس کے سر پر کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک بڑا پتھر یا چٹان تھی، وہ اس سے اس (لیٹے ہوئے آدمی) کا سر کچل دیتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، جب وہ اسے لینے جاتا تو اس کا سر پھر ویسا ہی ہو جاتا جیسا پہلے تھا، اور وہ پھر ویسا ہی کرتا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلتا رہا تو ایک گھر تھا جو تنور کی طرح بنا ہوا تھا، اوپر سے تنگ اور نیچے سے کشادہ، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب آگ بھڑکتی تو وہ اوپر اٹھتے یہاں تک کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں، اور جب آگ بجھتی تو وہ اس میں واپس چلے جاتے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں چلتا رہا تو ایک خون کی نہر تھی جس میں ایک آدمی تھا، اور نہر کے کنارے ایک آدمی کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے تھے، جو آدمی نہر میں تھا وہ آگے آتا، جب وہ نکلنے کے قریب ہوتا تو (کنارے والا) اس کے منہ میں پتھر مار دیتا تو وہ اپنی جگہ واپس چلا جاتا، وہ اس کے ساتھ یہی کرتا رہتا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلتے رہو۔ چنانچہ میں چلتا رہا تو ایک سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ میں ایک بوڑھا شخص تھا جس کے ارد گرد کچھ بچے تھے، اور اس کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، وہ اسے ہوا دے کر بھڑکا رہا تھا۔ پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایک ایسے گھر میں داخل کیا جس سے بہتر گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے تھے، پھر وہ مجھے اس سے نکال کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایک اور گھر میں داخل کیا جو اس سے بھی بہتر اور افضل تھا، اس میں بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے ان دونوں سے کہا: تم نے آج رات مجھے بہت کچھ گھمایا، اب مجھے بتاؤ جو کچھ میں نے دیکھا اس کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ رہا وہ پہلا آدمی جسے تم نے دیکھا تو وہ جھوٹا آدمی ہے جو جھوٹ بولتا ہے اور وہ جھوٹ دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے، اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا جو تم نے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جو چاہے گا کرے گا۔ اور رہا وہ آدمی جسے تم نے پیٹھ کے بل لیٹا ہوا دیکھا تو وہ ایسا آدمی ہے جسے اللہ نے قرآن دیا مگر وہ رات کو اس سے سویا رہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا، اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا جو تم نے دیکھا۔ اور جو تم نے تنور میں دیکھے وہ زانی (مرد و عورت) ہیں۔ اور جو تم نے نہر میں دیکھا وہ سود کھانے والا ہے۔ اور جو بوڑھا شخص تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور جو بچے تم نے دیکھے وہ لوگوں کی اولاد ہیں۔ اور جو آدمی تم نے آگ بھڑکاتے دیکھا وہ جہنم کا داروغہ ہے، اور وہ (جو دیکھی) جہنم ہی تھی۔ اور جس گھر میں تم پہلے داخل ہوئے وہ عام مومنوں کا گھر ہے۔ اور دوسرا گھر شہداء کا گھر ہے۔ اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: اپنا سر اٹھاؤ، میں نے سر اٹھایا تو (اوپر) بادل جیسی کوئی چیز تھی، انہوں نے کہا: یہ تمہارا گھر ہے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے میرے گھر میں جانے دو، انہوں نے کہا: ابھی تمہاری عمر باقی ہے جو تم نے پوری نہیں کی، اگر تم اسے پورا کر لیتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔“