کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«ألا أخبركم بأمر إذا فعلتموه أدركتم من قبلكم وفتم من بعدكم؟ تحمدون الله في دبر كل صلاة وتسبحونه وتكبرونه ثلاث وثلاثين وثلاث وثلاثين وأربعا وثلاثين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے بجا لاؤ تو اپنے سے پہلوں کو پا لو گے اور اپنے بعد والوں سے آگے نکل جاؤ گے؟ تم ہر نماز کے بعد اللہ کی حمد بیان کرو، اس کی تسبیح کرو اور تکبیر کہو، یعنی تینتیس مرتبہ، تینتیس مرتبہ، اور چونتیس مرتبہ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي ذر. الصحيحة ١١٢٥: حم١.
«ألا أخبركم بأهل الجنة؟ كل ضعيف متضعف لو أقسم على الله لأبره ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ جعظري مستكبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور (عاجز) شخص جسے لوگ کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا کر دے۔ کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر تند خو، پیٹو، درشت مزاج اور تکبر کرنے والا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن حارثة بن وهب. مشكلة الفقر ١٢٥، مختصر مسلم ١٩٧١.
«ألا أخبركم بخيار أمرائكم وشرارهم؟ خيارهم الذين تحبونهم ويحبونكم وتدعون لهم ويدعون لكم وشرار أمرائكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین حکمرانوں اور بدترین حکمرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تم ان کے لیے دعائیں کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں، تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عمر. حم ٦/٢٤، ٢٨ مختصر مسلم ١٢٢٨ – عوف بن مالك.
«ألا أخبركم بخير الشهداء؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ شخص ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی اپنی سچی گواہی دے دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم م د ن] عن زيد بن خالد الجهني. مختصر مسلم ١٠٥٩.
"ألا أخبركم بخير الناس منزلة؟ رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله حتى يموت أو يقتل; ألا أخبركم بالذي يتلوه؟ رجل معتزل في شعب يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعتزل شرور
الناس; ألا أخبركم بشر الناس؟ رجل يسأل بالله ولا يعطي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا مرتبہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے؟ وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے یہاں تک کہ وہ فوت ہو جائے یا شہید کر دیا جائے۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو درجے میں اس کے بعد ہے؟ وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں گوشہ نشین ہے، نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہتا ہے۔ کیا میں تمہیں سب سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا جائے اور وہ نہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن حب] عن ابن عباس. تخريج الترغيب ٢/١٧٣، المشكاة ١٨١٨، ١٩١٤، الصحيحة ٢٥٥.
«ألا أخبركم بخير دور الأنصار؟ دار بني النجار ثم دار بني عبد الأشهل ثم دار بني الحارث ثم الخزرج ثم دار بني ساعدة وفي كل دور الأنصار خير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ بنو نجار کا گھرانہ، پھر بنو عبدالأشھل کا گھرانہ، پھر بنو حارث کا گھرانہ، پھر خزرج کا، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ، اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر و بھلائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2602
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أنس [حم ق ن] عن أبي أسيد الساعدي [حم ق] عن أبي حميد الساعدي [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٧٢٨.
«ألا أخبركم بخيركم من شركم؟ خيركم من يرجى خيره ويؤمن شره وشركم من لا يرجى خيره ولا يؤمن شره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین شخص کون ہے اور بدترین کون ہے؟ تم میں سے بہترین وہ ہے جس سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے محفوظ رہا جائے، اور تم میں سے بدترین وہ ہے جس سے بھلائی کی کوئی امید نہ ہو اور نہ ہی اس کے شر سے محفوظ رہا جا سکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٩٩٣.
«ألا أخبركم برجالكم من أهل الجنة؟ النبي في الجنة والشهيد في الجنة والصديق في الجنة والمولود في الجنة والرجل يزور أخاه في ناحية المصر في الله في الجنة; ألا أخبركم بنسائكم من أهل الجنة؟ الودود الولود العئود التي إذا ظلمت قالت: هذه يدي في يدك لا أذوق غمضا حتى ترضى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے تمہارے مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی جنت میں ہے، شہید جنت میں ہے، صدیق جنت میں ہے، (بچپن میں فوت ہونے والا) بچہ جنت میں ہے، اور وہ شخص جنت میں ہے جو شہر کے ایک کنارے پر محض اللہ کی رضا کے لیے اپنے (مسلمان) بھائی سے ملنے جاتا ہے۔ کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے تمہاری عورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عورت جو بہت محبت کرنے والی، زیادہ بچے جننے والی اور (شوہر کی طرف) بار بار رجوع کرنے والی ہو، کہ جب اس پر ظلم ہو (یا وہ خود زیادتی کر بیٹھے) تو وہ اپنے شوہر سے کہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نیند کا مزہ نہیں چکھوں گی جب تک آپ مجھ سے راضی نہ ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2604
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الدارقطني في الأفراد طب] عن كعب بن عجرة. الروض النضير ٤٦.
«ألا أخبركم بشيء إذا نزل برجل منكم كرب أو بلاء من أمر الدنيا دعا به ففرج عنه؟ دعاء ذي النون: لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسی دعا کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جب تم میں سے کسی پر دنیاوی معاملات میں سے کوئی پریشانی یا مصیبت آن پڑے اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو اس کی وہ مصیبت دور کر دی جائے؟ وہ ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ۔“ (تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في الفرج ك] عن سعد. الصحيحة ١٧٤٤.
"ألا أخبركم بصلاة المنافق؟ أن يؤخر العصر حتى إذا
كانت الشمس كثرب البقرة صلاها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو اتنی تاخیر سے پڑھتا ہے کہ جب سورج گائے کی چربی کی طرح (زرد پڑ) جاتا ہے تو وہ اسے ادا کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط ك] عن رافع بن خديج. الصحيحة ١٧٤٥.
«ألا أخبركم بما هو أخوف عليكم عندي من المسيح الدجال؟ الشرك الخفي: أن يقوم الرجل فيصلي فيزين صلاته لما يرى من نظر رجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ڈر ہے؟ وہ شرکِ خفی (ریاکاری) ہے، کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہو اور محض اس لیے اپنی نماز کو خوب سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا شخص اسے دیکھ رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٧٤٥.
«ألا أخبركم بما يذهب وحر الصدر؟ صوم ثلاثة أيام من كل شهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو سینے کے کھوٹ (اور کینے) کو دور کر دیتا ہے؟ وہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن رجل من الصحابة. صحيح الترغيب ١٠٢٢.
«ألا أخبركم بمن تحرم عليه النار غدا؟ على كل هين لين قريب سهل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس پر کل (قیامت کے دن) آگ حرام کر دی جائے گی؟ آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو نرم مزاج، ملنسار، لوگوں کے قریب رہنے والا اور خوش اخلاق ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] ٢ عن جابر [ت طب] عن ابن مسعود. الصحيحة ٩٣٨: حب، حم، طس.
«ألا أدلك على باب من أبواب الجنة؟ لا حول ولا قوة إلا بالله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی رہنمائی نہ کروں؟ وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پڑھنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن قيس بن سعد بن عبادة. الصحيحة ١٧٤٦: خط.
«ألا أدلك على جهاد لا شوكة فيه؟ حج البيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے جہاد کی راہنمائی نہ کروں جس میں کوئی کانٹا (یعنی تکلیف اور جنگ) نہیں ہے؟ وہ بیت اللہ کا حج کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن الشفاء. الترغيب ٢/١٠٦: طب، طس – الحسين بن علي.
"ألا أدلك على سيد الاستغفار؟ اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف
بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت لا يقولها أحد حين يمسي فيأتي عليه قدر قبل أن يصبح إلا وجبت له الجنة ولا يقولها حين يصبح فيأتي عليه قدر قبل أن يمسي إلا وجبت له الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں سید الاستغفار (استغفار کے سردار) کی رہنمائی نہ کروں؟ وہ یہ ہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» (اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس تو میرے گناہ بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)۔ جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہے اور صبح ہونے سے پہلے اس کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے، اور جو شخص صبح کے وقت انہیں کہے اور شام ہونے سے پہلے اس کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن شداد بن أوس. الصحيحة ١٧٤٧: حم، خ، ن، ك١.
«ألا أدلك على غراس هو خير من هذا؟ تقول: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر يغرس لك بكل كلمة منها شجرة في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے پودے کی رہنمائی نہ کروں جو اس (دنیا کے پودے) سے بہت بہتر ہے؟ تم «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ»، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو، ان میں سے ہر ایک کلمے کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٤٤.
«ألا أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة؟ تقول: لا حول ولا قوة إلا بالله فيقول الله: أسلم عبدي واستسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے کلمے کی رہنمائی نہ کروں جو عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہو، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے اسلام قبول کر لیا اور (خود کو میرے) سپرد کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٥٥، المشكاة ٢٣٢١.
«ألا أدلك على ما هو أكثر من ذكرك الله الليل مع النهار؟ تقول: الحمد لله عدد ما خلق الحمد لله ملء ما خلق الحمد لله عدد ما في السموات وما في الأرض الحمد لله عدد ما أحصى كتابه والحمد لله على ما أحصى كتابه والحمد لله عدد كل شيء والحمد لله ملء كل شيء وتسبح الله مثلهن تعلمهن وعلمهن عقبك من بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے رات اور دن میں مسلسل اللہ کا ذکر کرنے سے بھی زیادہ ثواب کا باعث ہو؟ تم کہو: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ» اور اسی طرح اتنی ہی مقدار میں اللہ کی تسبیح (سُبْحَانَ اللَّهِ) بھی بیان کرو۔ تم خود بھی انہیں سیکھو اور اپنے بعد اپنی اولاد کو بھی سکھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الترغيب ٢/٢٥٢.
«ألا أدلك على ما هو خير لك من خادم؟ تسبحين الله ثلاثا وثلاثين وتحمدين ثلاثا وثلاثين وتكبرين أربعا وثلاثين حين تأخذين مضجعك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بھی زیادہ بہتر ہے؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس مرتبہ اللہ کی تسبیح «سُبْحَانَ اللَّهِ» بیان کرو، تینتیس مرتبہ اس کی حمد «الْحَمْدُ لِلَّهِ» بیان کرو، اور چونتیس مرتبہ اس کی تکبیر «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2616
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«ألا أدلكم على ما يكفر الله به من الخطايا ويزيد في الحسنات؟ إسباغ الوضوء على المكروهات وكثرة الخطا إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے؟ ناپسندیدگی (جیسے شدید سردی) کے باوجود وضو کو مکمل اور اچھی طرح کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھا کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ١٨٦.
«ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟ إسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جن سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ تکلیف اور ناپسندیدگی کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھا کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ پس یہی رباط (یعنی اصل محاذ پر پہرہ دینا) ہے، یہی رباط ہے، یہی رباط ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم م ت ن] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ١٨٧، مختصر مسلم ١٣٣.
«ألا أدلكما على خير مما سألتماه؟ إذا أخذتما مضاجعكما فكبرا الله أربعا وثلاثين واحمدا الله ثلاثا وثلاثين وسبحا ثلاثا وثلاثين فإن ذلك خير لكما من خادم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تم دونوں کو اس چیز سے بہتر عمل کی رہنمائی نہ کروں جو تم نے مجھ سے مانگی ہے؟ جب تم اپنے بستروں پر لیٹنے لگو تو چونتیس بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہو اور تینتیس بار «سُبْحَانَ اللَّهِ» پڑھو، کیونکہ یہ تم دونوں کے لیے خادم (غلام) سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن علي.
«ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة؟» - يعني عثمان -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“ (آپ ﷺ کی مراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عائشة. الإرواء ٢٦٩، الصحيحة ١٦٨٧: الطحاوي، ع، مختصر مسلم ١٦٣٧.
«ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن غفر الله لك وإن كنت مغفورا لك؟ قل: لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحكيم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں پڑھو تو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے، اگرچہ تمہاری مغفرت پہلے ہی ہو چکی ہو؟ تم کہو: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن علي١. الروض النضير ٦٧٩، ٧١٧: حم، ابن أبي الدنيا، ابن السني، ك.
«ألا أعلمك كلمات تقولها إذا أويت إلى فراشك فإن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن أصبحت أصبحت وقد أصبت خيرا؟ تقول: اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تم اپنے بستر پر لیٹتے وقت کہو، پھر اگر تم اسی رات فوت ہو جاؤ تو دینِ فطرت پر فوت ہو گے اور اگر صبح کرو گے تو بھلائی پاؤ گے؟ تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن البراء١.
«ألا أعلمك كلمات تقولهن عند الكرب؟ الله الله ربي لا أشرك به شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تم پریشانی اور تکلیف کے وقت کہو؟ (وہ یہ ہیں:) «اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د هـ] عن أسماء بنت عميس. الترغيب ٣/٤٣.
«ألا أعلمك كلمات تقولينها؟ سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو تم پڑھا کرو؟ (وہ یہ ہیں:) «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن حب] عن جويرية. حم ٦/٣٢٥، ٤٢٩، م ٨/٨٣.
«ألا أعلمك كلمات لو كان عليك مثل جبل صبير دينا أداه الله عنك؟ قل: اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ اگر تم پر صبیر (پہاڑ) کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے اسے ادا فرما دے؟ تم کہو: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت ك] عن علي. الترغيب ٣/٤٠.
"ألا أعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم وتسبقون به من بعدكم ولا يكون أحد أفضل منكم إلا من صنع مثل ما صنعتم؟ تسبحون وتكبرون وتحمدون في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين مرة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان لوگوں پر سبقت لے جاؤ گے جو تمہارے بعد آئیں گے، اور کوئی شخص تم سے افضل نہیں ہو سکے گا سوائے اس کے جو تمہارے جیسا عمل کرے؟ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة.
«ألا أنبئك بأهل الجنة؟ الضعفاء المغلوبون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور سمجھے جانے والے اور (دنیا میں) دبے ہوئے لوگ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ٩٢٨، ١٧٤١: حم، ك.
«ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقول الزور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں (کبیرہ گناہوں) کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي بكرة. مختصر مسلم ٤٦.
«ألا أنبئكم بخير أعمالكم وأزكاها عند مليككم وأرفعها في درجاتكم وخير لكم من إنفاق الذهب والورق وخير لكم من أن تلقوا عدوكم فتضربوا أعناقهم ويضربوا أعناقكم؟ ذكر الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر عمل نہ بتاؤں، جو تمہارے بادشاہ (اللہ) کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ ہو، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہو، تمہارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر ہو، اور تمہارے لیے اس بات سے بھی زیادہ افضل ہو کہ تم اپنے دشمن سے ٹکراؤ تو تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں؟ وہ عمل اللہ کا ذکر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن أبي الدرداء. تخريج الترغيب ٢/٢٢٨.
«ألا أنبئكم ما العضه؟ هي النميمة القالة بين الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ بہتان (اور فساد) کیا ہے؟ یہ لوگوں کے درمیان چغلی کھانا اور فساد پھیلانا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن مسعود. الصحيحة ٨٤٦: حم، الدارمي.
«ألا إن آل أبي فلان ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالح المؤمنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! فلاں کے خاندان والے میرے دوست اور حمایتی نہیں ہیں، بلکہ میرے ولی (دوست اور کارساز) تو صرف اللہ تعالیٰ اور نیک مومن بندے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمرو.
«ألا إن الفتنة هاهنا؟ من حيث يطلع قرن الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خبردار! بلاشبہ فتنہ اسی طرف سے اٹھے گا، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر.
"ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي ألا إن
القوة الرمي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خبردار! بلاشبہ قوت تیر اندازی ہی ہے، خبردار! یقیناً قوت تیر اندازی ہی ہے، خبردار! یقیناً قوت تیر اندازی ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن عقبة بن عامر. فقه السيرة ٢٢٤، الإرواء ١٥٠٠، مختصر مسلم ١١٠١.
«ألا إن الله سيفتح لكم الأرض وستكفون المؤنة؟ فلا يعجزن أحدكم أن يلهو بأسهمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین کو فتح فرما دے گا اور تمہیں (دشمنوں کی) مشقت سے بچا لیا جائے گا، لہٰذا تم میں سے کوئی شخص اپنے تیروں کے ساتھ مشق (اور کھیل) کرنے سے ہرگز غفلت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن عقبة بن عامر١.
«ألا إني أبرأ إلى كل خل من خلته ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا وإن صاحبكم خليل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! میں ہر جانی دوست کی دوستی سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، اور اگر میں کسی کو جانی دوست (خلیل) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن بلاشبہ تمہارا ساتھی (یعنی میں خود) اللہ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن ابن مسعود.
«ألا إن المسيح الدجال أعور العين اليمنى كأن عينه عنبة طافية وأراني الليلة عند الكعبة في المنام فإذا رجل آدم كأحسن ما ترى من أدم الرجال تضرب لمته بين منكبيه رجل الشعر يقطر رأسه ماء واضعا يديه على منكبي رجلين وهو بينهما يطوف بالبيت; فقلت: من هذا؟ فقالوا: المسيح ابن مريم ثم رأيت رجلا وراءه جعدا قططا أعور العين اليمنى كأشبه من رأيت بابن قطن واضعا يديه على منكبي رجل يطوف بالبيت فقلت: من هذا؟ فقالوا: المسيح الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! بلاشبہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، گویا کہ اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہو۔ اور آج رات میں نے خواب میں خود کو کعبہ کے پاس دیکھا، تو وہاں گندمی رنگت کے ایک شخص تھے، گندمی رنگ کے آدمیوں میں تم نے ان سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا ہوگا۔ ان کے پٹے (بال) ان کے کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے، بال سیدھے تھے، ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، انہوں نے دو آدمیوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے تھے اور ان کے درمیان بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مريم (علیہما السلام) ہیں۔ پھر میں نے ان کے پیچھے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا، اور میری نظر میں وہ ابن قطن سے سب سے زیادہ مشابہ تھا، اس نے ایک شخص کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: یہ مسیح دجال ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمرو.