صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"ألا أدلك على سيد الاستغفار؟ اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف
بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت لا يقولها أحد حين يمسي فيأتي عليه قدر قبل أن يصبح إلا وجبت له الجنة ولا يقولها حين يصبح فيأتي عليه قدر قبل أن يمسي إلا وجبت له الجنة"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں سید الاستغفار (استغفار کے سردار) کی رہنمائی نہ کروں؟ وہ یہ ہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» (اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس تو میرے گناہ بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)۔ جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہے اور صبح ہونے سے پہلے اس کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے، اور جو شخص صبح کے وقت انہیں کہے اور شام ہونے سے پہلے اس کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہو جاتی ہے۔“