کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سن وفات اور ان کے سن پیدائش کا تذکرہ اور ان میں آخر میں ، وفات پانے والے حضرات کا تذکرہ
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عُثْمَانُ بْنُ عَامِرِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ أَبُو قُحَافَةَ ، أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَتُوُفِّيَ سَنَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ بِسَنَةٍ ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً ، وَوَرِثَ أَبَا بَكْرٍ هُوَ وَأُمُّهُ سَلْمَى بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ( یعنی ) سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ۔ یہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے تھے اور ان کا انتقال 14 ہجری میں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے ایک سال بعد ہوا تھا ، انتقال کے وقت ان کی عمر 94 سال تھی ، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وارث بنے تھے ، ان کی والدہ سلمہ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
وَعَنْ أَبِي مُسْهِرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ بِالشَّامِ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابومسہر بیان کرتے ہیں : سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا انتقال شام میں ، عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں 75 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16337
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : مَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ قَيْسٍ السُّلَمِيُّ - وَهُوَ مِنْ مُرَادٍ - سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ ، وَأَسْلَمَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَتَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا ابوعبیدہ بن قیس رضی اللہ عنہ سلمی ، جن کا تعلق مراد قبیلے سے ہے ، ان کا انتقال 72 ہجری میں ہوا تھا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ، دو سال پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
- [وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، وَسِنُّهُ سَبْعُونَ سَنَةً ، فَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهِ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، وَسَلَمَةَ بْنَ وَقْشٍ ، وَاسْمُ أَبِي عَبْسٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِنُ جَبْرٍ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں 34 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 70 سال تھی ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن وقش رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں اترے تھے ، سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ کا نام ” عبدالرحمن بن جبر “ رضی اللہ عنہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16339
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، وَدُفِنَ بِالْحَبَشِيِّ مِنْ مَكَّةَ عَلَى بَرِيدٍ فِي آخِرِ سَنَةِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ ، أَوْ سِتٍّ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، انہیں مکہ سے ایک برید کے فاصلے پر موجود ” حبشی “ نامی جگہ پر دفن کیا گیا ، یہ 55 ہجری یا 56 ہجری کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16340
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : تُوُفِّيَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال 54 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16341
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوَّلَ مَا بَعَثَ إِلَى الْكُوفَةِ أَبَا عُبَيْدَةَ الثَّقَفِيَّ : أَبَا الْمُخْتَارِ فَقُتِلَ ، فَبَعَثَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينَ ، ثُمَّ نَزَعَهُ ، ثُمَّ بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَمَكَثَ سَنَةً ثُمَّ نَزَعَهُ ، ثُمَّ بَعَثَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ فَمَكَثَ سَنَةً ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ . ¤ فَلَمَّا وَلِيَ عُثْمَانُ بَعَثَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى الْكُوفَةِ ، فَمَكَثَ سَنَةً ثُمَّ نَزَعَهُ ، ثُمَّ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ نَزَعَهُ ، وَبَعَثَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ فَمَكَثَ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ نَزَعَهُ ، وَبَعَثَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فَمَكَثَ سَنَةً ثُمَّ نَزَعَهُ ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ . ¤ ثُمَّ كَانَ أَوَّلُ مَنْ أَمَّرَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْكُوفَةِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، فَمَكَثَ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ مَاتَ ، ثُمَّ بَعَثَ زِيَادَ بْنَ أَبِيهِ ، فَمَكَثَ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ مَاتَ ، فَبَعَثَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، فَمَكَثَ ثَلَاثَ سِنِينَ ثُمَّ نَزَعَهُ ، ثُمَّ بَعَثَ النُّعْمَانَ [ بْنَ بَشِيرٍ ، فَمَكَثَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، ثُمَّ هَلَكَ مُعَاوِيَةُ وَكَانَتْ الْفِتْنَةُ ، ثُمَّ كَانَ أَمْرُ مُسِلْمِ بْنِ عَقِيلٍ ] وَأَصْحَابِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ غَيْرُ وَاحِدٍ ضَعِيفٍ ، وَوُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی طرف جب پہلی مہم روانہ کی تھی ، اس میں سیدنا عبیداللہ ثقفی ابومختار رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا ، وہ شہید ہو گئے ، پھر انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ وہاں پانچ سال ٹھہرے رہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ ایک سال ٹھہرے رہے ، پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ ایک سال وہاں ٹھہرے رہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا ، وہ ایک سال وہاں رہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ پانچ سال وہاں گورنر رہے ، پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ پانچ سال وہاں گورنر رہے ، پھر انہوں نے ان کو اس عہدے سے ہٹا دیا ، پھر انہوں نے وہاں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ ایک سال وہاں گورنر رہے ، پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور پھر فتنہ شروع ہو گیا ۔
جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کا آغاز ہوا ، تو انہوں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ گورنر مقرر کیا ، وہ نو سال تک اس عہدے پر فائز رہے ، پھر ان کا انتقال ہو گیا ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا ، وہ چار سال رہا پھر وہ مر گیا ، پھر انہوں نے سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ تین سال تک گورنر رہے ، پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ، پھر انہوں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، وہ چار ماہ تک گورنر رہے ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، اور فتنہ آ گیا ، پھر سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کا واقعہ پیش آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک سے زیادہ ایسے ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16342
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367/20)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : قُتِلَ سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِالْقَادِسِيَّةِ سَنَةَ سِتَّ عَشْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن عبید رضی اللہ عنہ سن 16 ہجری میں جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16343
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5490)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَيُكَنَّى أَبَا الْعَبَّاسِ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ ، وَسِنُّهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ” ابوعباس “ تھی ، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں 91 میں ہجری میں ہوا اس وقت ان کی عمر 99 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16344
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5651)»
- وَرُوِيَ نَحْوُهُ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے ابن نمیر کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5652)»
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَكَانَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَ مِنْهُ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَوْمَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ شَهِدَ أَمْرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ لعان کرنے والے میاں بیوی کے واقعہ کے وقت موجود تھے اور اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16346
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5653)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ - وَيُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ - سَنَةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ، أَوْ سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ ، وَسِنُّهُ سَبْعٌ وَسِتُّونَ ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابوعبداللہ ہے ان کا انتقال 18 ہجری میں یا شاید 17 ہجری میں ہوا تھا اس وقت ان کی عمر 57 سال تھی اور وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنر تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7207)»
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : طُعِنَ أَبُو عُبَيْدَةَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، وَأَبُو مَالِكٍ جَمِيعًا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ ۔ یہ سب حضرات ایک ہی دن ، طاعون کی لپیٹ میں آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7208)»
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ لِتِسْعِ سِنِينَ مَضَيْنَ مِنْ إِمَارَةِ عُثْمَانَ ، وَكَانَ كُفَّ بَصَرُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْهَيْثَمُ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 9 سال گزرنے کے بعد ہوا تھا اور سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی بینائی رخصت ہو گئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7260)»
وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : وَفِيهَا مَاتَ أَبُو سُفْيَانَ : صَخْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً - يَعْنِي سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : اسی سال سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کی عمر 88 سال تھی ، راوی کہتے ہیں یعنی یہ 31 ہجری کا واقعہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7261)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ صُهَيْبُ بْنُ سِنَانٍ - وَيُكَنَّى أَبَا يَحْيَى - بِالْمَدِينَةِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَلَاثِينَ ، وَكَانَ مِنْ سَبْيِ الْمَوْصِلِ سَبَتْهُ الرُّومُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابویحیی ہے ان کا انتقال مدینہ منورہ میں شوال کے مہینے میں 38 ہجری میں ہوا تھا یہ موصل میں قیدی رہے تھے ، انہیں رومیوں نے قید کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16351
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7286)»
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ وَهْبِ بْنِ جُمَحٍ ، أُمُّهُ : أُنَيْسَةُ بِنْتُ مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ ، يُكَنَّى أَبَا وَهْبٍ ، أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَجَّلَهُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، وَشَهِدَ حُنَيْنًا وَهُوَ مُشْرِكٌ ، ثُمَّ أَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ ، تُوُفِّيَ فِي مَقْتَلِ عُثْمَانَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ بن امیہ بن خلف بن وہب بن جمح ، ان کی والدہ کا نام انیسہ بنت معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح ہے ، ان صحابی کی کنیت ابووہب ہے ، یہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار ماہ کی مہلت دی تھی ، انہوں نے غزوہ حنین میں شرکت کی تھی ، اس وقت یہ مشرک تھے ، پھر اس کے بعد یہ مسلمان ہو گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے آس پاس ان کا انتقال ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (54/8)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ - وَاسْمُهُ صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ - سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ ، وَسِنُّهُ إِحْدَى وَتِسْعُونَ سَنَةً . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ ، جن کا نام سیدنا صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہے ، ان کا انتقال 86 ہجری میں ہوا تھا اس وقت ان کی عمر 91 سال تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7459)»
وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ : مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابونعیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال 68 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16354
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10569)»
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ رَشِيدٍ قَالَ : مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
داؤد بن رشید بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال 68 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16355
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10568)»
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، أُمُّهُ : قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ ، وَأُمُّهَا : عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن عبدالعزیٰ بن قصی ، ان کی والدہ قریبہ بنت ابوامیہ بن مغیرہ بن عمرو بن مخزوم ہیں ، اور اُس خاتون کی والدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (104/19)»
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جُمَحٍ قَالَ : مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بن عمر بن جمح بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کا انتقال ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ کا انتقال 86 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16358
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ وَهُوَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشَّامِ ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ کا انتقال 88 ہجری میں ہوا تھا اور یہ شام میں انتقال کرنے والے آخری صحابی ہیں اس وقت ان کی عمر 94 سال تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ زَمَنَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ ، وَوُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ ، أَوْ خَمْسِ سِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْهَيْثَمُ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عامر بن ربیعہ کا انتقال ، ولید بن عبدالملک کے زمانے میں 87 ہجری میں ہوا تھا ، سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیدا ہوئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا ، تو اس وقت ان کی عمر چار یا شاید پانچ سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، نَزَلَ الْكُوفَةَ وَمَاتَ بِهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں رہائش اختیار کی تھی اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
- وَرُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے کئی بن بکیر کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال 86 ہجری میں ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
- وَرُوِيَ عَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَمَانِينَ . وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے واقدی کا یہ بیان روایت کیا ہے : سیدنا عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال 84 ہجری میں ہوا تھا ۔ واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ بِالشَّامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ اشعری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا انتقال 33 ہجری میں شام میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ راوی ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَخَمْسِينَ ، وَسِنُّهُ [ سَبْعٌ وَ ] سَبْعُونَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا کعب بن عجرہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا اس وقت ان کی عمر 77 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16365
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ كَعْبُ بْنُ عَجْرَةَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَخَمْسِينَ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا اس وقت ان کی عمر 75 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16366
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (104/19)»
- وَرَوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ مَخْرَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ ، وَيُكَنَّى أَبَا الْمِسْوَرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ ، وَسِنُّهُ سَبْعُونَ سَنَةً ، وَقَدْ قِيلَ : وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمِائَةِ سَنَةٍ ، أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَهُوَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے یحیی بن بکیر کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومسور ہے ، ان کا انتقال 54 ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت ان کی عمر 70 برس تھی ایک قول کے مطابق ان کی عمر 115 برس تھی ، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا اور وہ ” مؤلفۃ القلوب “ میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16367
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5/20)»
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : تُوُفِّيَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَوْمَ جَاءَ نَعْيُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِالْحَجُونِ ، أَصَابَهُ حَجَرُ الْمَنْجَنِيقِ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْحِجْرِ ، فَأَقَامَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ ، وَتُوُفِّيَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَمَانٍ ، وَشَهِدَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ ، - وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، يَعْنِي الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ - . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس دن ہوا تھا ، جب یزید بن معاویہ کے انتقال کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تھی ، اور یہ سن 64 ہجری کی بات ہے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ” حجون “ کے مقام پر پڑھائی تھی انہیں منجنیق کا پتھر لگا تھا یہ اس وقت حطیم میں نماز ادا کر رہے تھے ، یہ پانچ دن زندہ رہے تھے اور پھر ربیع الاول کے مہینے میں ان کا انتقال ہو گیا تھا یہ سن 64 ہجری کی بات ہے یہ ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے تھے اور سن 8 ہجری میں ذوالج میں انہیں مدینہ منورہ لایا گیا تھا ، یہ فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے ، اس وقت ان کی عمر 6 سال تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو تو اس وقت ان کی عمر 8 سال تھی ، راوی کہتے ہیں : یعنی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6/20)»
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : تُوُفِّيَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ ، وَسِنُّهُ ثَمَانٍ وَتِسْعُونَ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا انتقال 85 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 98 برس تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (53/22)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : تُوُفِّيَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ ، وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَخَمْسِ سِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَعِيدٌ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن خالد بیان کرتے ہیں : سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا انتقال 83 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 105 سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے سعید نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (53/22)»
- وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : وَفِيهَا تُوُفِّيَ أَبُو عَمْرَةَ الْمَازِنِيُّ - يَعْنِي سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : اسی سال میں سیدنا ابوعمرہ مازنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، راوی کہتے ہیں : یعنی سن 37 ہجری میں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف