کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سن وفات اور ان کے سن پیدائش کا تذکرہ اور ان میں آخر میں ، وفات پانے والے حضرات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 16372
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : جَلَسْنَا يَوْمًا أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فِي رَهْطٍ مِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، وَرَهْطٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَرَهْطٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَاخْتَصَمْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّنَا أَوْلَى بِهِ ، وَأَحَبُّ إِلَيْهِ ؟ قُلْنَا : نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، آمَنَّا بِهِ ، وَاتَّبَعْنَاهُ ، وَقَاتَلْنَا مَعَهُ ، وَكَتِيبَتُهُ فِي نَحْرِ عَدُوِّهِ ; فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ . ¤ وَقَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ : نَحْنُ الَّذِينَ هَاجَرْنَا مَعَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَفَارَقْنَا الْعَشَائِرَ وَالْأَهْلِينَ وَالْأَمْوَالَ ، وَقَدْ حَضَرْنَا مَا حَضَرْتُمْ ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتُمْ ; فَنَحْنُ أَوْلَى [ النَّاسِ ] بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ . ¤ وَقَالَ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ : نَحْنُ عَشِيرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَضَرْنَا الَّذِي حَضَرْتُمْ ، وَشَهِدْنَا الَّذِي شَهِدْتُمْ ; فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ . ¤ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَقُولُنَّ شَيْئًا " . فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا ، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ : " صَدَقْتُمْ ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْكُمْ ؟ " . ¤ وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ . فَقَالَ : " صَدَقُوا [ وَبَرُّوا ] ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ ؟ " . ¤ وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ بَنُو هَاشِمٍ فَقَالَ : " صَدَقُوا [ وَبَرُّوا ] ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ ؟ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَقْضِيَ بَيْنَكُمْ ؟ " قُلْنَا : بَلَى . بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، فَإِنَّمَا أَنَا أَخُوكُمْ " . فَقَالُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . ¤ " وَأَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْكُمْ " . فَقَالُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . ¤ " وَأَمَّا أَنْتُمْ بَنُو هَاشِمٍ فَأَنْتُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ " . فَقُمْنَا وَكُلُّنَا رَاضٍ مُغْتَبِطٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مِسْكِينٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے سامنے مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، کچھ افراد کا تعلق مہاجرین سے تھا اور کچھ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا ، ہمارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بحث ہو گئی کہ ہم میں سے کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ مقرب ہے ؟ اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ہم نے کہا: ہم انصار کا گروہ ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ، ہم نے آپ کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا اور دشمن کے مدمقابل ہم آپ کا دستہ ہیں ، تو ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہیں ، اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، ہمارے مہاجرین بھائیوں نے کہا: ہم لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، ہم نے اپنے خاندانوں اور اہل و عیال اور اموال کو چھوڑ دیا اور ہم بھی اسی طرح جنگوں میں شریک ہوتے رہے ہیں ، جس طرح تم ہوئے ہو اور ہم وہاں موجود رہے ہیں ، جہاں تم موجود رہے ہو ، تو ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ قریبی ہیں اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائیوں نے کہا: ہم اللہ کے رسول کا خاندان ہیں ، ہم بھی ان مواقع پر حاضر رہے ہیں ، جہاں تم حاضر رہے ہو ، وہاں موجود رہے ہیں جہاں تم موجود رہے ہو ، تو ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریبی ہیں اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : تم لوگ کس چیز کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو ؟ تو ہم نے اپنے اپنے موقف کو دہرا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کہا: ہے ، تم لوگوں کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے مہاجر بھائیوں نے جو کہا: تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا: ہے اور سچ کہا: ہے ، ان کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر بنو ہاشم نے جو کہا: تھا ، ہم نے اس کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا: ہے اور ٹھیک کہا: ہے ، ان کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ دوں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” اے انصار کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا بھائی ہوں “ ان لوگوں نے کہا: اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے مہاجرین کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا ایک فرد ہوں “ ان لوگوں نے کہا: اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے بنو ہاشم ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم مجھ سے ہو اور میری طرف آؤ گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم میں سے ہر ایک راضی تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی وجہ سے رشک کر رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسکین انصاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
” اے انصار کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا بھائی ہوں “ ان لوگوں نے کہا: اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے مہاجرین کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا ایک فرد ہوں “ ان لوگوں نے کہا: اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے بنو ہاشم ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم مجھ سے ہو اور میری طرف آؤ گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم میں سے ہر ایک راضی تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی وجہ سے رشک کر رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسکین انصاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16373
وَعَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَبَقَ الْمُهَاجِرُونَ النَّاسَ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ، يَتَنَعَّمُونَ فِيهَا ، وَالنَّاسَ مَحْبُوسُونَ لِلْحِسَابِ ، ثُمَّ تَكُونُ الزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ مِائَةَ خَرِيفٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہاجرین دیگر لوگوں سے چالیس سال کی سبقت لے جائیں گے ، وہ ان چالیس سالوں کے درمیان نعمتوں میں رہیں گے اور لوگ حساب کے لئے روک کے رکھے گئے ہوں گے ، پھر دوسرا گروہ ایک سو سال کا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16374
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ، قریش سے تعلق رکھنے والے ” طلقاء “ اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے ” عتقاء “ ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 16375
وَفِي رِوَايَةٍ : " بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيُّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ جَوَّدَهُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَنَّا ، فَإِنَّهُ رَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ عَلَى الصَّوَابِ ، وَقَدْ وَقَعَ فِي الْمُسْنَدِ : عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ . . . . وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَرِيرٍ ، وَلَيْسَ هُوَ مُوسَى بْنُ عَبِدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں انہوں نے اس کی سند عمدہ نقل کی ہے انہوں نے اسے اعمش کے حوالے سے موسیٰ بن عبداللہ بن یزید کے حوالے سے عبدالرحمن بن ہلال عبسی کے حوالے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ، جبکہ ” مسند “ میں اس کی سند یہ ہے کہ یہ موسیٰ بن عبداللہ بن ہلال عبسی کے حوالے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبداللہ نے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور یہ موسیٰ بن عبداللہ بن ہلال عبسی نہیں ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں انہوں نے اس کی سند عمدہ نقل کی ہے انہوں نے اسے اعمش کے حوالے سے موسیٰ بن عبداللہ بن یزید کے حوالے سے عبدالرحمن بن ہلال عبسی کے حوالے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ، جبکہ ” مسند “ میں اس کی سند یہ ہے کہ یہ موسیٰ بن عبداللہ بن ہلال عبسی کے حوالے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبداللہ نے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور یہ موسیٰ بن عبداللہ بن ہلال عبسی نہیں ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16376
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مہاجرین اور انصار اور قریش سے تعلق رکھنے والے ” طلقاء “ اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے ” عتقاء “ دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ( یا ساتھی ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، بزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔