حدیث نمبر: 16368
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : تُوُفِّيَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَوْمَ جَاءَ نَعْيُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِالْحَجُونِ ، أَصَابَهُ حَجَرُ الْمَنْجَنِيقِ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْحِجْرِ ، فَأَقَامَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ ، وَتُوُفِّيَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَمَانٍ ، وَشَهِدَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ ، - وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، يَعْنِي الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ - . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس دن ہوا تھا ، جب یزید بن معاویہ کے انتقال کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تھی ، اور یہ سن 64 ہجری کی بات ہے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ” حجون “ کے مقام پر پڑھائی تھی انہیں منجنیق کا پتھر لگا تھا یہ اس وقت حطیم میں نماز ادا کر رہے تھے ، یہ پانچ دن زندہ رہے تھے اور پھر ربیع الاول کے مہینے میں ان کا انتقال ہو گیا تھا یہ سن 64 ہجری کی بات ہے یہ ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے تھے اور سن 8 ہجری میں ذوالج میں انہیں مدینہ منورہ لایا گیا تھا ، یہ فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے ، اس وقت ان کی عمر 6 سال تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو تو اس وقت ان کی عمر 8 سال تھی ، راوی کہتے ہیں : یعنی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6/20)»