کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ إِمْلَاءً بِمِصْرَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَلُولٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ الزَّاهِدُ النَّحْوِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: " يَا أَبَا ذَرٍّ، أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، فَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ، وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے۔ میں تجھے کمزور محسوس کرتا ہوں، دو کا امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کا والی بھی نہ بننا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قُلْتُ: حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَعْمِلْنِي، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے عامل مقرر کر دیں۔ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر! آپ کمزور ہیں، یہ امانت ہے؛ کیونکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور رسوائی کا باعث ہو گی لیکن جس نے اس کا حق ادا کیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَيَّارٍ الْبَزَّازُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ حَسْرَةً وَنَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةَ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم امارت پر حرص کرو گے، حالانکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور حسرت کا باعث ہوگی۔ دودھ پلانے والی اچھی ہے اور چھڑوانے والی بری ہے۔ (حکومت کا ملنا اچھا لگتا ہے جب ختم ہو اچھی نہیں لگتی)۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ، إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَدُهُ مَغْلُولَةٌ إِلَى عُنُقِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دس آدمیوں کا امیر بنا وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ، إِلَّا وَهُوَ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، حَتَّى يَفُكَّهُ الْعَدْلُ، أَوْ يُوبِقَهُ الْجَوْرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو دس آدمیوں کا امیر ہوا، وہ قیامت کے دن بندھا ہوا آئے گا، اس کا عدل چھٹکارا دلائے گا یا ظلم ہلاک کر دے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمِّرَنِي عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللهِ، نَفْسٌ تُنْجِيهَا خَيْرٌ مِنْ إِمَارَةٍ لَا تُحْصِيهَا ". هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تُوَلِّيَنِي، فَذَكَرَهُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ قَانِعٍ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، تَفَرَّدَ بِهِ هَذَا السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا: مجھے بھی اس کی امارت عطا کر دیں جس کا اللہ نے آپ کو والی بنایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نبی ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ! ایک جان جسے آپ نجات دلا دیں، اس امارت سے بہتر ہے جس کا آپ حق ادا نہ کر سکیں۔“
(ب) محمد بن منکدر رحمہ اللہ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے امارت نہ دیں گے۔
مرسل روایت ہی محفوظ ہے اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، (اسے موصول بیان کرنے میں) یہ سلمی بصری راوی منفرد ہے۔
(ب) محمد بن منکدر رحمہ اللہ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے امارت نہ دیں گے۔
مرسل روایت ہی محفوظ ہے اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، (اسے موصول بیان کرنے میں) یہ سلمی بصری راوی منفرد ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ فِيهِ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَأَتَاهُ أَهْلُ ذَلِكَ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ وَيَقُولُونَ: أَخَذَنَا بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَقَالَ: " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن نعیم حضرمی کہتے ہیں: زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اسلام پر بیعت کی۔ ہمیں حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا وہاں کے لوگ اپنے عامل کی شکایت کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: اس نے ہم سے ایسی چیزیں بھی لی ہیں جو ہمارے اور اس کی قوم کے درمیان جاہلیت میں معاہدہ میں تھیں تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن آدمی کے لیے امارت میں بھلائی نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدُ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الطَّهْمَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ فَضْلَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جُعِلَ عَلَى الْقَضَاءِ، فَكَأَنَّمَا ذَبَحَ نَفْسَهُ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ". ⦗١٦٥⦘ وَقَالَ ابْنُ أَيُّوبَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَخْنَسِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو عہدہ قضا سونپ دیا گیا وہ بغیر چھری ذبح کر دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَعَدَ قَاضِيًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کا قاضی بن کر بیٹھا وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو قاضی بنا دیا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْعَلَاءِ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ سَرْجِ بْنِ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الْقُضَاةُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ: " يُؤْتَى بِالْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْحِسَابِ مَا يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ ". كَذَا فِي كِتَابِي عُمَرُ بْنُ الْعَلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حطان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان کے پاس قاضی کے عہدہ کا تذکرہ کیا گیا، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن عادل قاضی کو لایا جائے گا وہ شدتِ حساب کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ ایک کھجور کا بھی فیصلہ دو کے درمیان نہ کرتا۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَجَّةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالْقَاضِي الْعَادِلِ " فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حطان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عادل قاضی کو لایا جائے گا۔“ اس کی مثل ذکر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، رُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ حَكَمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا وُكِّلَ بِهِ مَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ حَتَّى يَقِفَ بِهِ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى اللهِ، فَإِنْ أَمَرَهُ أَنْ يَقْذِفَهُ قَذَفَهُ فِي مَهْوًى أَرْبَعِينَ خَرِيفًا ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، کبھی نبی ﷺ سے بھی نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جو اس کی گدی سے پکڑے رکھتا ہے اور جہنم کے کنارے کھڑا رکھتا ہے اور اپنا سر اللہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ اگر اللہ حکم دے تو جہنم کی چالیس سالہ گہرائی میں پھینک دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، رَحِمَهُ اللهُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامٌ، ⦗١٦٦⦘ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَوَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَوَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَهُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا، يَتَخَلْخَلُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”امراء، چوہدریوں اور امینوں کے لیے ہلاکت ہے۔ قیامت کے دن لوگ تمنا کریں گے کہ کاش! ان کی پیشانیاں ثریا ستارے سے باندھ دی جائیں، وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہیں لیکن وہ کسی کام پر والی نہ بنتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ذَوَائِبُهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنی سند سے اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی پیشانی کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھے ہوئے تھے وہ درمیان میں جھول رہے تھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْعِرَافَةُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَآخِرُهَا نَدَامَةٌ، وَالْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللهَ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ كَمَا سَمِعْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چوہدراہٹ ابتدائی طور پر ملامت کا باعث ہے، آخر میں ندامت اور قیامت کے دن عذاب کا باعث ہے۔“ ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ان میں سے جو اللہ سے ڈرتا رہا؟ فرمایا: میں ویسے ہی بیان کروں گا جیسے میں نے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فِي قِصَّةِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَاءَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ: " أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللهِ لَكَ، مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ وُلِّيتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ "، قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ "، فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُهُ يَمَسُّ الْأَرْضَ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ "، قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، ارْفَعْ ثَوْبَكَ، فَإِنَّهُ أَنْقَى لِثَوْبِكَ، وَأَتْقَى لِرَبِّكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصے کے بارے میں بیان کیا کہ ہم ان کے پاس آئے تو لوگ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ ایک نوجوان آدمی آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہو، آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل ہوئی اور اسلام میں آپ کو وہ سبقت حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں، پھر آپ امیر بنائے گئے تو آپ نے انصاف کیا، پھر (آپ کو) شہادت (نصیب ہوئی)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! یہ برابر ہی ہو جائے، نہ ثواب ہو اور نہ عذاب، اتنا ہی کافی ہے۔ جب وہ واپس مڑا تو اس کی چادر زمین کو چھو رہی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نوجوان کو واپس لاؤ۔ اے بھتیجے! اپنا کپڑا اوپر اٹھاؤ، یہ تمہارے کپڑے کی صفائی کے لیے زیادہ مناسب ہے اور تمہارے رب کی رضا کا باعث بھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ عُقْبَةُ يَعْنِي: ابْنَ عَلْقَمَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ مَصَّرَ بِكَ الْأَمْصَارَ، وَدَفَعَ بِكَ النِّفَاقَ وَأَفْشَى بِكَ الرِّزْقَ "، فَقَالَ عُمَرُ: " أَفِي الْإِمَارَةِ تُثْنِي عَلَيَّ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي غَيْرِهَا "، قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَمَا دَخَلْتُ فِيهَا، لَا أَجْرَ وَلَا وِزْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سماک فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: اے امیر المومنین! خوش ہو جائیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے شہر تعمیر یا آباد کروائے، نفاق کو دور کیا اور رزق کو عام کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! کیا میری امارت کی تعریف کرنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس کے علاوہ بھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میری یہ چاہت ہے کہ جیسے میں (اس میں) داخل ہوا تھا ویسے ہی اس سے نکل جاؤں، نہ ثواب ہو اور نہ ہی گناہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، قَالَ: " كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَجُلًا يَصُومُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَسِلْقًا، فَقَالَ ⦗١٦٧⦘ لَهُ: " تَعَالَ فَكُلْ "، قَالَ: فَسَأَلَهُ الرَّجُلُ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: " مَا لَكَ ظَنَنْتَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ الْقَضَاءِ " فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: أَرَاكَ أَحْمَقَ، اذْهَبْ إِلَى الْقَاضِي الَّذِي أُجْلِسَ لِهَذَا، أَتُرَانِي أَنِّي كُنْتُ أَشْغَلُ نَفْسِي بِهَذَا؟ " أَوْ قَالَ: " بِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ روزہ رکھتے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا جو روٹی اور چقندر کے پتے کھا رہا تھا، اس نے کہا: آؤ کھاؤ۔ کہتے ہیں: آدمی نے کسی چیز کا سوال کیا، میرا خیال ہے قضاۃ کے امور میں سے کسی کا سوال کیا تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوقوف! قاضی کے پاس جاؤ جو اس کام کے لیے بٹھائے گئے ہیں، کیا میں اپنے آپ کو اس کام میں مصروف کر دوں یا تجھے بھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ: " وَجَدْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِالْقَضَاءِ أَشَدَّ النَّاسِ مِنْهُ فِرَارًا، وَأَشَدَّهُمْ مِنْهُ فَرَقًا "، ثُمَّ قَالَ: " وَمَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِالْقَضَاءِ مِنْ أَبِي قِلَابَةَ لَا أَدْرِي مَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ فَكَانَ يُرَادُ عَلَى الْقَضَاءِ، فَيَفِرُّ إِلَى الشَّامِ مَرَّةً، وَيَفِرُّ إِلَى الْيَمَامَةِ مَرَّةً، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الْبَصْرَةِ كَانَ كَالْمُسْتَخْفِي حَتَّى يَخْرُجَ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قاضی کے عہدے سے وہی بھاگتا ہے جو اسے لوگوں سے زیادہ جانتا ہے اور ابو قلابہ رحمہ اللہ سے بڑھ کر اس کو کوئی نہیں جانتا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا گیا تو وہ ایک مرتبہ شام کی طرف اور دوسری دفعہ یمامہ بھاگ گئے اور جب بصرہ آئے تو چھپ کر رہتے، یہاں تک کہ وہاں سے نکل جاتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْقَاضِي كَمَثَلِ رَجُلٍ يَسْبَحُ فِي الْبَحْرِ، فَكَمْ عَسَى يَسْبَحُ حَتَّى يَغْرَقَ " قَالَ: " وَطُلِبَ أَبُو قِلَابَةَ لِلْقَضَاءِ، فَهَرَبَ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال ایسے آدمی کی طرح ہے جو سمندر میں تیرتا ہے، وہ کتنی دیر تیرتا رہے گا یہاں تک کہ غرق ہو جائے۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کو قاضی کے عہدے کے لیے طلب کیا گیا تو وہ بھاگ گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْأَخْنَسِيُّ - أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: جِئْتُ وَإِذَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " لَا، بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: " قُمْ "، قَالَ: " فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، قَالَ: ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ، قَالَ: " فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ وُلِّيَ بَعْدَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ: " فَجِئْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: " أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: " قُلْتُ: " لَا بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: قُمْ، فَقُمْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي حَدِيثَ أَخِي مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَمَا زَالَ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی صہبا تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محارب بن دثار رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر وہ قضاۃ کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے۔ پھر میری طرف کسی کو روانہ کیا اور پوچھا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو، سلام کرنے والے ہو یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آیا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں نے سلام کیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وَقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی اور جسے تو نے میرے مقدر میں لکھا، اسے ناپسند کرتے اور اس سے نفرت کرتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر انہوں نے کپڑے کا ایک صاف ٹکڑا نکالا، اسے چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ رہے۔ پھر ابن شبرمہ رحمہ اللہ قاضی بنے، پھر میں ان کے پاس آیا، اچانک وہ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر میری طرف قاصد آیا اور کہنے لگا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو یا سلام کی غرض سے یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے آیا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آکر کہا: اٹھو۔ میں نے جا کر سلام کیا اور ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی محارب بن دثار کی بات بیان کرو۔ میں نے انہیں وہ بات بیان کر دی، تو انہوں نے کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی، اسے پسند کرتے اور اس کی چاہت رکھتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر ایک کپڑے کا صاف ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ الْكِسَائِيُّ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَرُوضِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ، يَقُولُ: " لَمَّا وُلِّيَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ الْقَضَاءَ، قِيلَ ⦗١٦٨⦘ لِلْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ: أَلَا تَأْتِيهِ؟ قَالَ: " وَاللهِ مَا نَالَ عِنْدِي غَنِيمَةً فَأُهَنِّيَهُ عَلَيْهَا، وَلَا أُصِيبَ عِنْدَ نَفْسِهِ بِمُصِيبَةٍ فَأُعَزِّيَهُ عَلَيْهَا، وَمَا كُنْتُ زَوَّارًا لَهُ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَأَزُورُهُ الْيَوْمَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر محمد بن عباس رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جب محارب بن دثار رحمہ اللہ قاضی بنے تو حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ ان کے پاس کیوں نہیں جاتے؟ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرے نزدیک اس نے مال تو حاصل نہیں کیا کہ میں اس کو مبارک باد دوں اور نہ کوئی مصیبت آئی کہ میں اس پر تعزیت کروں۔ اس سے پہلے میں ان کی زیارت نہ کرتا تھا کہ آج زیارت کے لیے جاؤں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: " خَرَجَ شُرَيْحٌ مِنْ عِنْدِ زِيَادٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " كَبِرَتْ سِنُّكَ، وَرَقَّ عَظْمُكَ، وَارْتَشَى ابْنُكَ "، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ لَكَ؟ "، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ فَاعْفِنِي، قَالَ: " لَا أُعْفِيكَ حَتَّى تُشِيرَ عَلَيَّ بِرَجُلٍ "، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَبِي بُرْدَةَ فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ زیاد کے پاس سے نکلے، انہیں ایک آدمی ملا جو کہنے لگا: آپ کی عمر بڑھ گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور آپ کے بیٹے نے رشوت لی ہے۔ وہ زیاد کے پاس واپس گئے اور انہیں اس کی خبر دی۔ اس نے کہا: آپ سے یہ کس نے کہا؟ انہوں نے کہا: میں اس کو پہچانتا نہیں، پس مجھے (اس عہدے سے) معاف رکھیں۔ زیاد نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک معاف نہیں کروں گا جب تک آپ کسی آدمی کی طرف میری رہنمائی نہ کریں، تو انہوں نے ابوبردہ رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ اس نے ان کو قاضی بنا دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: " كَانَ قَعْنَبٌ التَّمِيمِيُّ قَدْ دَعَاهُ وَالٍ، فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَبِلَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بِعَهْدِهِ، رَمَى بِهِ وَتَوَارَى، قَالَ: " فَأَرْسَلَ الْوَالِي فِي طَلَبِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَطْلُبُونَهُ، إِذْ سَقَطَ عَلَيْهِ الْبَيْتُ الَّذِي كَانَ فِيهِ مُتَوَارِيًا فَلَمْ يَشْعُرُوا إِلَّا وَقَدْ خُرِجَ عَلَيْهِمْ بِجِنَازَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قعنب تیمی رحمہ اللہ کو والی نے بلایا اور ان کو عہدۂ قضا دینے لگے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بار بار اصرار کے بعد عہدہ دے دیا گیا۔ جب وہ ان کے پاس سے نکلے تو عہدہ چھوڑ دیا اور چھپ گئے، تو امیر نے ان کی تلاش میں آدمی روانہ کیے۔ وہ تلاش کر رہے تھے کہ اس گھر کی چھت گر پڑی جس کے اندر وہ چھپے ہوئے تھے، ان کو پتا بھی نہ تھا۔ اس وقت پتا چلا جب ان کا جنازہ لایا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ اللَّيْثُ: " قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ: " تَلِي لِي مِصْرَ؟ "، قُلْتُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي "، فَقَالَ: " مَا بِكَ مِنْ ضَعْفٍ مَعِي، وَلَكِنْ ضَعُفَتْ نِيَّتُكَ فِي الْعَمَلِ لِي عَلَى ذَلِكَ، أَتُرِيدُ قُوَّةً أَقْوَى مِنِّي وَمِنْ عَمَلِي، فَأَمَّا إِذَا أَبِيتَ فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُقَلِّدُهُ أَمْرَ مِصْرَ "، قُلْتُ: " عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ رَجُلٌ لَهُ صَلَاحٌ، وَلَهُ عَشِيرَةٌ "، قَالَ: " فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَعَاهَدَ اللهَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجعفر رحمہ اللہ نے مجھے کہا: میری جانب سے مصر کے والی بن جاؤ۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں کمزور آدمی ہوں۔ میں غلام ہوں۔ کہنے لگے: آپ کمزور نہیں، صرف آپ کی نیت میرے ساتھ کام کرنے میں کمزور ہے۔ کیا آپ مجھ سے زیادہ قوت چاہتے ہیں اور میرے کام سے بڑا کام چاہتے ہیں؟ کہنے لگے: اگر آپ انکاری ہیں تو میری رہنمائی ایسے آدمی کی طرف کرو کہ میں مصر کی امارت اس کو سونپ دوں۔ میں نے کہا: عثمان بن حکم جذامی رحمہ اللہ نیک آدمی ہے، اس کا قبیلہ بھی ہے۔ جب اس کو یہ بات پہنچی تو اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ لیث بن سعد رحمہ اللہ سے کلام نہ کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ الْحَافِظُ الْبُخَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الطَّوَاوِيسِيَّ يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ سَوَّارٌ قَاضِي أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَعَا أَبُو جَعْفَرٍ - يَعْنِي الْمَنْصُورَ أَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ سَوَّارًا قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَا بُدَّ لِهَذَا الْمِصْرِ "، يَعْنِي مِنْ قَاضٍ، " فَاقْبَلِ الْقَضَاءَ، فَقَدْ وَلَّيْتُكَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ "، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: " وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَا أَصْلِحُ لِلْقَضَاءِ، وَوَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ كُنْتُ صَادِقًا فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا لَا يَصْلُحُ لِلْقَضَاءِ، وَلَئِنْ كُنْتُ كَاذِبًا فَمَا يَسَعُكُ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا كَذَّابًا، وَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَقَدْ أَصْبَحْتُ مُخَالِفًا لَكَ "، قَالَ: " فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ: " صَدَقْتَ، إِنَّكَ قُلْتَ: لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَـ {تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ} [البقرة: ١٣٤]، الْآيَةُ، وَأَمَّا قَوْلُكَ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحَ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، ⦗١٦٩⦘ فَإِنَّا نَأْخُذُ بِمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: ١٣] وَلَيْسَ عَلَيْنَا إِلَّا الْجَهْدُ فِي أَهْلِ زَمَانِنِا، وَأَمَّا قَوْلُكُ: إِنَّكَ أَصْبَحْتَ مُخَالِفًا لِي، فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخَالِفُ الرَّأْيَ، فَاقْبَلْ هَذَا الْأَمْرَ "، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ خَلَّيْتَ عَنِّي وَإِلَّا لَبَّيْتُ مَكَانِيَ السَّاعَةَ، فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَحْبِسَ مُلَبِّيًا "، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابویوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے تو ابوجعفر منصور نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو بلایا اور کہا: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے، اس شہر کے لیے قاضی کی ضرورت ہے، میں آپ کو عہدہ قضا سونپ دیتا ہوں، اسے قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں عہدہ قضا کے لائق نہیں ہوں، اے امیر المؤمنین! اگر میں سچ بولتا ہوں تو پھر ایسے آدمی کو قضا کا عہدہ دینا مناسب نہیں جو اس کا لائق نہیں ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو کذاب آدمی کو عہدہ قضا نہ دیں۔ کسی عرب آدمی کے لیے یہ عہدہ مناسب ہے، میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ منصور نے کہا: تو نے سچ کہا کہ اس عہدہ کے مناسب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح کے لوگ تھے۔ ﴿أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ﴾ [سورة البقرة: 134] ”یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کے لیے وہ ہے جو انہوں نے کمایا۔“ آپ کا یہ کہنا کہ عرب کے لوگ اس کے لائق ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [سورة الحجرات: 13] ”اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔“ اپنے زمانے میں کوشش کرنا ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ تو نے میری مخالفت مول لی، رائے تو ایک دوسرے کے مخالف ہو سکتی ہے، اس امر کو قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے امیر المؤمنین! میرا راستہ چھوڑ دیں، وگرنہ میں اپنی اسی جگہ سے ابھی اسی وقت تلبیہ کہنا شروع کر دوں گا، پھر آپ کے لیے تلبیہ کہنے والے کو قید کرنا جائز نہ ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے راستہ چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " دَخَلَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَجَعَلَ يَتَجَانَنُ عَلَيْهِمْ، وَيَمْسَحُ الْبِسَاطَ، وَيَقُولُ: " مَا أَحْسَنَهُ مَا أَحْسَنَهُ بِكَمْ أَخَذْتُمْ هَذَا؟ "، ثُمَّ قَالَ: " الْبَوْلَ الْبَوْلَ "، حَتَّى أُخْرِجَ "، يَعْنِي: أَنَّهُ احْتَالَ لِيَتَبَاعَدَ مِنْهُمْ، وَيَسْلَمَ مِنْ أَمْرِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری امیر المؤمنین کے پاس گئے۔ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر رہے تھے اور چٹائی کو چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ کتنی خوبصورت ہے، یہ کتنی خوبصورت ہے! تم نے یہ کتنے میں لی ہے؟ پھر کہنے لگے: پیشاب، پیشاب۔ یہاں تک کہ نکل گئے تاکہ ان کے معاملے سے دور اور محفوظ رہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ قَالَ: وَقَالَ رَجُلٌ يَمْدَحُ سُفْيَانَ:.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن یعیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سفیان رحمہ اللہ کی مدح کر رہا تھا، سفیان رحمہ اللہ نے بچاؤ اختیار کیا اور اپنے دین کو لے کر نکلے اور شریک رحمہ اللہ نے اس کے دراہم پر گھات لگائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ، ح، وَأنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْمُفَسِّرُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَقُولُ: " كَتَبَ الْخَلِيفَةُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ فِي قَضَاءِ مِصْرَ فَجَنَّنَ نَفْسَهُ، وَلَزِمَ الْبَيْتَ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فِي وَسَطِ الدَّارِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ السَّطْحِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَلَا تَخْرُجُ إِلَى النَّاسِ، فَتَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَمَرَ اللهُ وَرَسُولُهُ؟ قَدْ جَنَّنْتَ نَفْسَكَ، وَلَزِمْتَ الْبَيْتَ "، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: " إِلَى هَهُنَا انْتَهَى عِلْمُكَ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقُضَاةَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّلَاطِينَ، وَيُحْشَرُ الْعُلَمَاءُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
یونس بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ نے عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ کو مصر کے عہدۂ قضا کے لیے لکھا تو انہوں نے اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کیا اور اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا۔ ایک دن گھر کے درمیان وضو کرنے لگے تو چھت سے رشدین بن سعد رحمہ اللہ نے دیکھ لیا اور کہا: ”اے ابومحمد! کیا لوگوں کی طرف نکل کر اس کے مطابق فیصلہ نہ کرو گے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے؟ آپ نے اپنے آپ کو دیوانہ ظاہر کیا ہے اور اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا ہے۔“ انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”تیرے علم کی انتہا یہی ہے۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ قاضی کا حشر قیامت کے دن بادشاہوں کے ساتھ ہوگا اور علماء کا حشر انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہوگا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ السُّلَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يُعَاتِبُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ عَلَى دُخُولِهِ فِي الْعَدَالَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " أَلَيْسَ حَكَيْتَ أَنْتَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: " لَا تَكُنْ مُعَدِّلًا، وَلَا مَنْ يَعْرِفُهُ مُعَدِّلٌ "، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: " إِنَّمَا الْعَدَالَةُ طُبَيْقٌ يُبْعَثُ إِلَى أَحَدِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، حسین بن منصور کو عدالت (گواہوں کی تعدیل کے عہدے) میں داخل ہونے کی وجہ سے ڈانٹ رہے تھے، پھر فرمایا: کیا تو نے خود سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے فرمایا: نہ تو تعدیل کرنے والا بن اور نہ ہی ایسا شخص بن جسے تعدیل کرنے والا جانتا ہو۔ پھر یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: عدالت تو بس ایک چھوٹی سی طشتری ہے جو ان میں سے کسی کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ: " دَخَلْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ يَحْيَى فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلِيَّ، فَجَلَسْتُ نَاحِيَةً، حَتَّى تَفَرَّقَ النَّاسُ فَدَنَوْتُ وَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقُلْتُ: " يَا أُسْتَاذُ، أِيُّ جِنَايَةٍ جَنَيتُهَا؟ "، قَالَ: " بَلَى، جَنَيْتَ جِنَايَةً، وَرَكِبْتَ ذَنْبًا عَظِيمًا "، فَقُلْتُ: " مَا هِيَ؟ " قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا نَادَى الْمُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاهِرٍ؟ أَلَسْتَ مِمَّنْ يُؤْخَذُ فِي الْعَدَالَةِ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: " أَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ "، قَالَ: " فَدَنَا مِنِّي، وَعَانَقَنِي وَقَالَ: " الْآنَ أَنْتَ أَخِي ".
حافظ ثناء اللہ
حسین بن منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کے پاس گیا، میں نے سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا ہی نہیں۔ میں ایک کونے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ لوگ بکھر گئے۔ میں نے قریب ہو کر ان کے سر کا بوسہ لیا اور کہا: اے استاد! مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو نے بہت بڑا جرم و گناہ کیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: تیرا کیا خیال ہے جب قیامت کے دن آواز دی جائے گی کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ کیا تو ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں عدالت (کے عہدے) میں لیا گیا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور رجوع کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: وہ میرے قریب ہوئے اور معانقہ کیا اور فرمایا: اب تو میرا بھائی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ خَلَفَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ رَئِيسَ نَيْسَابُورَ بِبُخَارَى يَقُولُ: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعُرِضَ عَلَيْهِ قَضَاءُ نَيْسَابُورَ فَاخْتَفَى ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَدَعَا اللهَ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن منصور رحمہ اللہ پر نیساپور میں قضا کا عہدہ پیش کیا گیا، وہ تین دن تک چھپے رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور تیسرے دن فوت ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيَّ، يَقُولُ: " قَدِمْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَجَعَلَ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلِيَّ، فَقُلْتُ: " يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّهُ يُكْتَبُ عَنِّي بِخُرَاسَانَ، وَإِنْ عَامَلْتَنِي بِهَذِهِ الْمُعَامَلَةِ رَمَوْا بِحَدِيثِي "، فَقَالَ لِي: " يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ "، قَالَ: قُلْتُ: " يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّمَا وَلَّانِي أَمْرَ الرِّبَاطِ، لِذَاكَ دَخَلْتُ فِيهِ "، قَالَ: فَجَعَلَ يُكَرِّرُ عَلَيَّ: " يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
احمد بن سعید رباطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ میری طرف سر بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! خراسان میں مجھ سے (احادیث) لکھی گئی ہیں، اگر آپ نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تو لوگ میری احادیث کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے احمد! کیا یہ ضروری ہے کہ قیامت کے دن پکارا جائے کہ عبداللہ بن طاہر اور اس کے ساتھی کہاں ہیں؟ تو دیکھو کہ تم ان میں کہاں ہو؟ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! انہوں نے مجھے رباط کے معاملات کا والی بنا دیا ہے، پھر میں ان میں داخل ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ بار بار میرے اوپر یہی بات دہرا رہے تھے: اے احمد! قیامت کے دن یہ ضروری ہے کہ پوچھا جائے کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ دیکھ لو کہ تم ان میں کہاں ہو گے!
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَشِيَّةً، فَوَرَدَ عَلَيْنَا كِتَابُ السُّلْطَانِ بِتَقْلِيدِهِ الْقَضَاءَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: " أُشَاوِرُ نَفْسِيَ اللَّيْلَةَ، وَأُخْبِرُكُمْ غَدًا "، فَغَدَوْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نَعْشٌ، فَقُلْنَا: " مَا هَذَا؟ "، قَالُوا: " مَاتَ نَصْرٌ "، فَسَأَلْنَا أَهْلَهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: " بَاتَ لَيْلَةً يُصَلِّي، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ سَجَدَ فَأَطَالَ، فَحَرَّكْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ مَيِّتًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن عباس بن ولید بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم شام کے وقت نصر بن علی جہضمی رحمہ اللہ کے پاس تھے، ہمارے پاس بادشاہ کا خط آیا کہ بصرہ کے قاضی کی تقلید کرو (یعنی قاضی کا عہدہ قبول کرو)۔ انہوں نے کہا: آج رات میں اپنے دل سے مشاورت کر لوں، کل بتاؤں گا۔ کل صبح ہم ان کی طرف گئے، دروازے پر ان کی لاش تھی۔ ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نصر فوت ہو گئے۔ ہم نے ان کے گھر والوں سے پوچھا، انہوں نے کہا: وہ رات کو نماز پڑھتے رہے، جب سحری کا وقت ہوا تو انہوں نے لمبا سجدہ کیا، ہم نے حرکت دی تو انہیں مردہ حالت میں پایا۔