السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20245
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَشِيَّةً، فَوَرَدَ عَلَيْنَا كِتَابُ السُّلْطَانِ بِتَقْلِيدِهِ الْقَضَاءَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: " أُشَاوِرُ نَفْسِيَ اللَّيْلَةَ، وَأُخْبِرُكُمْ غَدًا "، فَغَدَوْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نَعْشٌ، فَقُلْنَا: " مَا هَذَا؟ "، قَالُوا: " مَاتَ نَصْرٌ "، فَسَأَلْنَا أَهْلَهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: " بَاتَ لَيْلَةً يُصَلِّي، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ سَجَدَ فَأَطَالَ، فَحَرَّكْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ مَيِّتًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن عباس بن ولید بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم شام کے وقت نصر بن علقمہ حضرمی رحمہ اللہ کے پاس تھے، ہمارے پاس بادشاہ کا خط آیا کہ بصرہ کے قاضی کی تقلید کرو (یعنی قاضی کا عہدہ قبول کرو)۔ انہوں نے کہا: آج رات میں اپنے دل سے مشاورت کر لوں، کل بتاؤں گا۔ کل صبح ہم ان کی طرف گئے، دروازے پر ان کی لاش تھی۔ ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نصر فوت ہو گئے۔ ہم نے ان کے گھر والوں سے پوچھا، انہوں نے کہا: وہ رات کو نماز پڑھتے رہے، جب سحری کا وقت ہوا تو انہوں نے لمبا سجدہ کیا، ہم نے حرکت دی تو انہیں مردہ حالت میں پایا۔