السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20225
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ذَوَائِبُهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنی سند سے اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی پیشانی کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھے ہوئے تھے وہ درمیان میں جھول رہے تھے۔“