السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْأَخْنَسِيُّ - أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: جِئْتُ وَإِذَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " لَا، بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: " قُمْ "، قَالَ: " فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، قَالَ: ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ، قَالَ: " فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ وُلِّيَ بَعْدَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ: " فَجِئْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: " أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: " قُلْتُ: " لَا بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: قُمْ، فَقُمْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي حَدِيثَ أَخِي مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَمَا زَالَ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ ".ابو صہبا تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محارب بن دثار رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر وہ قضاۃ کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے۔ پھر میری طرف کسی کو روانہ کیا اور پوچھا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو، سلام کرنے والے ہو یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آیا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں نے سلام کیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ، اللَّهُمَّ فَقِنِي شَرَّ مَا فِيهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے میں اس مجلس کی چاہت نہ رکھتا تھا، جس کے ذریعہ تو نے میری آزمائش کی۔ اے اللہ! اس کے برے انجام سے محفوظ فرما۔“ پھر انہوں نے کپڑے کا ٹکڑا نکالا، اسے چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ رہے۔ پھر ابن شبرمہ رحمہ اللہ قاضی بنے، پھر میں ان کے پاس آیا، اچانک وہ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر میری طرف قاصد آیا اور کہنے لگا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو یا سلام کی غرض سے یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے آیا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آکر کہا: اٹھو۔ میں نے جا کر سلام کیا اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی محارب بن دثار کی بات بیان کرو۔ میں نے کہا: انہوں نے کہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَقْعُدْ هَذَا الْمَقْعَدَ رَغْبَةً وَلَا رَهْبَةً، فَاکْفِنِي شَرَّهُ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں محبت اور شوق سے نہیں بیٹھا، مجھے اس کے برے انجام سے کفایت کر جانا۔“ پھر ایک کپڑے کا صاف ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔