❮
❯
حدیث نمبر: 20232
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْأَخْنَسِيُّ - أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: جِئْتُ وَإِذَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " لَا، بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: " قُمْ "، قَالَ: " فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، قَالَ: ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ، قَالَ: " فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ وُلِّيَ بَعْدَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ: " فَجِئْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: " أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟ "، قَالَ: " قُلْتُ: " لَا بَلْ مُسَلِّمٌ "، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: قُمْ، فَقُمْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي حَدِيثَ أَخِي مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ "، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَمَا زَالَ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی صہبا تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محارب بن دثار رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر وہ قضاۃ کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے۔ پھر میری طرف کسی کو روانہ کیا اور پوچھا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو، سلام کرنے والے ہو یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آیا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں نے سلام کیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وَقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی اور جسے تو نے میرے مقدر میں لکھا، اسے ناپسند کرتے اور اس سے نفرت کرتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر انہوں نے کپڑے کا ایک صاف ٹکڑا نکالا، اسے چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ رہے۔ پھر ابن شبرمہ رحمہ اللہ قاضی بنے، پھر میں ان کے پاس آیا، اچانک وہ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر میری طرف قاصد آیا اور کہنے لگا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو یا سلام کی غرض سے یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے آیا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آکر کہا: اٹھو۔ میں نے جا کر سلام کیا اور ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی محارب بن دثار کی بات بیان کرو۔ میں نے انہیں وہ بات بیان کر دی، تو انہوں نے کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی، اسے پسند کرتے اور اس کی چاہت رکھتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر ایک کپڑے کا صاف ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20232
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»