السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20215
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ، إِلَّا وَهُوَ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، حَتَّى يَفُكَّهُ الْعَدْلُ، أَوْ يُوبِقَهُ الْجَوْرُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو دس آدمیوں کا امیر ہوا، وہ قیامت کے دن بندھا ہوا آئے گا، اس کا عدل چھٹکارا دلائے گا یا ظلم ہلاک کر دے گا۔“