حدیث نمبر: 20230
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ: " وَجَدْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِالْقَضَاءِ أَشَدَّ النَّاسِ مِنْهُ فِرَارًا، وَأَشَدَّهُمْ مِنْهُ فَرَقًا "، ثُمَّ قَالَ: " وَمَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِالْقَضَاءِ مِنْ أَبِي قِلَابَةَ لَا أَدْرِي مَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ فَكَانَ يُرَادُ عَلَى الْقَضَاءِ، فَيَفِرُّ إِلَى الشَّامِ مَرَّةً، وَيَفِرُّ إِلَى الْيَمَامَةِ مَرَّةً، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الْبَصْرَةِ كَانَ كَالْمُسْتَخْفِي حَتَّى يَخْرُجَ ".
حافظ ثناء اللہ

ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قاضی کے عہدے سے وہی بھاگتا ہے جو اسے لوگوں سے زیادہ جانتا ہے اور ابو قلابہ رحمہ اللہ سے بڑھ کر اس کو کوئی نہیں جانتا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا گیا تو وہ ایک مرتبہ شام کی طرف اور دوسری دفعہ یمامہ بھاگ گئے اور جب بصرہ آئے تو چھپ کر رہتے، یہاں تک کہ وہاں سے نکل جاتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20230
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»