السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20234
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: " خَرَجَ شُرَيْحٌ مِنْ عِنْدِ زِيَادٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " كَبِرَتْ سِنُّكَ، وَرَقَّ عَظْمُكَ، وَارْتَشَى ابْنُكَ "، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ لَكَ؟ "، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ فَاعْفِنِي، قَالَ: " لَا أُعْفِيكَ حَتَّى تُشِيرَ عَلَيَّ بِرَجُلٍ "، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَبِي بُرْدَةَ فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ ".حافظ ثناء اللہ
ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ زیاد کے پاس سے نکلے، انہیں ایک آدمی ملا جو کہنے لگا: آپ کی عمر بڑھ گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور آپ کے بیٹے نے رشوت لی ہے۔ وہ زیاد کے پاس واپس گئے اور انہیں اس کی خبر دی۔ اس نے کہا: آپ سے یہ کس نے کہا؟ انہوں نے کہا: میں اس کو پہچانتا نہیں، پس مجھے (اس عہدے سے) معاف رکھیں۔ زیاد نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک معاف نہیں کروں گا جب تک آپ کسی آدمی کی طرف میری رہنمائی نہ کریں، تو انہوں نے ابوبردہ رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ اس نے ان کو قاضی بنا دیا۔