السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20213
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَيَّارٍ الْبَزَّازُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ حَسْرَةً وَنَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةَ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم امارت پر حرص کرو گے، حالانکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور حسرت کا باعث ہوگی۔ دودھ پلانے والی اچھی ہے اور چھڑوانے والی بری ہے۔ (حکومت کا ملنا اچھا لگتا ہے جب ختم ہو اچھی نہیں لگتی)۔“