السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ عُقْبَةُ يَعْنِي: ابْنَ عَلْقَمَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ مَصَّرَ بِكَ الْأَمْصَارَ، وَدَفَعَ بِكَ النِّفَاقَ وَأَفْشَى بِكَ الرِّزْقَ "، فَقَالَ عُمَرُ: " أَفِي الْإِمَارَةِ تُثْنِي عَلَيَّ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي غَيْرِهَا "، قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَمَا دَخَلْتُ فِيهَا، لَا أَجْرَ وَلَا وِزْرَ ".حافظ ثناء اللہ
سماک فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: اے امیر المومنین! خوش ہو جائیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے شہر تعمیر یا آباد کروائے، نفاق کو دور کیا اور رزق کو عام کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! کیا میری امارت کی تعریف کرنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس کے علاوہ بھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میری یہ چاہت ہے کہ جیسے میں (اس میں) داخل ہوا تھا ویسے ہی اس سے نکل جاؤں، نہ ثواب ہو اور نہ ہی گناہ ہو۔